مثبت رخ
[RIGHT]پتہ نہیں کیوں میرے دل میں جنت کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ اگر اللہ جنت دے دے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس کی آرزو کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ دوزخ کا ڈر میں شدت سے محسوس کرتا ہوں لیکن دوزخ سے بچنے کے لئے ثواب کمانے کی آرزو نہیں رکھتا۔ مجھے اس آرزع سے دوکانداری کی بو آتی ہے۔ میرے ذہن میں نیکی، عادت، اذیت، وحشت، امکان ثواب سے بے تعلق چیز ہے۔ بے مقصد، بے نیاز۔ مجھے یہ آرزو بھی نہیں کہ اللہ والا بن جاؤں یا بزرگی مل جائے یا مست ہوجاؤں۔ مجھے مراتب کی طلب نہیں۔ میری دانست میں عام انسان بذات خود ایک عظیم مرتبہ ہے۔ مجھے صرف ایک آرزو ہے کہ میرا رخ مثبت رہے۔ انسانوں کی طرف، اللہ کی طرف۔[/RIGHT]
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’لبیک‘‘ سے اقتباس)
**[/RIGHT]
کافی
[RIGHT]**میں نے سوال کیا۔ ’’آپ کافی کیوں پیتے ہیں؟‘‘
انہوں نے جواب دیا۔ ’’آپ کیوں نہیں پیتے؟‘‘
’’مجھے اس میں سگار کی سی بو آتی ہے۔‘‘
’’اگر آپ کا اشارہ اس کی سوندھی سوندھی خوشبو کی طرف ہے تو یہ آپ کی قوتِ شامہ کی کوتاہی ہے۔‘‘
گوکہ ان کا اشارہ صریحاً میری ناک کی طرف تھا تاہم رفعِ شر کی خاطر میں نے کہا۔
’’تھوڑی دیر کے لئے یہ مان لیتا ہوں کہ کافی میں سے واقعی بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ مگر یہ کہاں کی منطق ہے کہ جو چیز ناک کو پسند ہو وہ حلق میں انڈیل لی جائے۔ اگر ایسا ہی ہے تو کافی کا عطر کیوں نہ کشید کیا جائے تاکہ ادبی محفلوں میں ایک دوسرے کے لگایا کریں۔‘‘
تڑپ کر بولے۔ ’’صاحب! میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا، تاوقتیکہ اس گھپلے کی اصل وجہ تلفظ کی مجبوری نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ کافی کی مہک سے لطف اندوز ہونے کے لئے ایک تربیت یافتہ ذوق کی ضرورت ہے۔ یہی سوندھا پن لگی ہوئی کھیر اور دھنگارے ہوئے رائتہ میں ہوتا ہے۔‘‘
میں نے معذرت کی ’’کھرچن اور دھنگار دونوں سے مجھے متلی ہوتی ہے۔‘‘
فرمایا۔ ’’تعجب ہے! یوپی میں تو شرفا بڑی رغبت سے کھاتے ہیں۔‘‘
’’میں نے اسی بنا پر ہندوستان چھوڑا۔‘‘
چراندے ہوکر کہنے لگے۔ ’’آپ قائل ہوجاتے ہیں تو کج بحثی کرنے لگتے ہیں۔‘‘
جواباً عرض کیا۔ ’’گرم ممالک میں بحث کا آغاز صحیح معنوں میں قائل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دانستہ دل آزاری ہمارے مشرب میں گناہ ہے۔ لہٰذا ہم اپنی اصل رائے کا اظہار صرف نشہ اور غصہ کے عالم میں کرتے ہیں۔ خیر، یہ تو جملہ معترضہ تھا، لیکن اگر یہ سچ ہے کہ کافی خوش ذائقہ ہوتی ہے تو کسی بچے کو پلا کر اس کی صورت دیکھ لیجئے۔‘‘
جھلا کر بولے۔ ’’آپ بحث میں معصوم بچوں کو کیوں گھسیٹتے ہیں؟‘‘
میں بھی الجھ گیا۔ ’’آپ ہمیشہ ’بچوں‘ سے پہلے لفظ ’معصوم‘ کیوں لگاتے ہیں؟ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ کچھ بچے گناہ گار بھی ہوتے ہیں؟ خیر، آپ کو بچوں پر اعتراض ہے تو بلی کو لیجئے۔‘‘
’’بلی ہی کیوں؟ بکری کیوں نہیں؟‘‘ وہ سچ مچ مچلنے لگے۔
میں نے سمجھایا۔ ’’بلی اس لئے کہ جہاں تک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، بچے اور بلیاں برے بھلے کی کہیں بہتر تمیز رکھتے ہیں۔‘‘
ارشاد ہوا۔ ’’کل کو آپ یہ کہیں گے کہ چونکہ بچوں اور بلیوں کو پکے گانے پسند نہیں آسکتے اس لئے وہ بھی لغو ہیں۔‘‘
میں نے انہیں یقین دلایا۔ ’’میں ہرگز یہ نہیں کہہ سکتا۔ پکے راگ انہیں کی ایجاد ہیں۔ آپ نے بچوں کا رونا اور بلیوں کا لڑنا ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بات کاٹ کر بولے۔ ’’بہرحال ثقافتی مسائل کے حل کا نتیجہ ہم بچوں اور بلیوں پر نہیں چھوڑ سکتے۔‘‘
آپ کو یقین آئے یا نہ آئے مگر یہ واقعہ ہے کہ جب بھی میں نے کافی کے بارے میں استصواب رائے کیا اس کا انجام اس قسم کا ہوا۔ شائقین میرے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹی جرح کرنے لگتے ہیں۔ اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ کافی اور کلاسیکی موسیقی کے بارے میں استفسار رائے عامہ کرنا بڑی ناعاقبت اندیشی ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بدمذاقی ہے جیسے کسی نیک مرد کی آمدنی یا خوب صورت عورت کی عمر دریافت کرنا (اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک مرد کی عمر اور خوب صورت عورت کی آمدنی دریافت کرنا خطرے سے خالی ہے)۔ زندگی میں صرف ایک شخص ملا جو واقعی کافی سے بیزار تھا۔ لیکن اس کی رائے اس لحاظ سے زیادہ قابل التفات نہیں کہ وہ ایک مشہور کافی ہاؤس کا مالک نکلا۔
ایک صاحب تو اپنی پسند کے جواز میں صرف یہ کہہ کر چپ ہوگئے کہ چھٹتی نہیں منہ سے یہ کافی لگی ہوئی۔
میں نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے۔ ’’دراصل یہ عادت کی بات ہے۔ یہ کم بخت کافی بھی روایتی چنے اور ڈومنی کی طرح ایک دفعہ منہ سے لگنے کے بعد چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ ہے ناں؟‘‘
اس مقام پر مجھے اپنی معذوری کا اعتراف کرنا پڑا کہ بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی۔ اس لئے ان دونوں خوب صورت بلاؤں سے محفوظ رہا۔
بعض احباب تو اس سوال سے چراغ پا ہوکر ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ ایمان کی بات ہے کہ جھوٹے الزام کو سمجھ دار آدمی نہایت اعتماد سے ہنس کر ٹال دیتا ہے مگر سچے الزام سے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ اس ضمن میں جو متضاد باتیں سننا پڑتی ہیں ان کی دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
ایک کرم فرما نے میری بیزاری کو محرومی پر محمول کرتے ہوئے فرمایا:
ہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں
ان کی خدمت میں حلفیہ عرض کیا کہ دراصل بیسیوں گیلن پینے کے بعد ہی یہ سوال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ دوسرے صاحب نے ذرا کھل کر پوچھا کہ کافی سے چڑ کی اصل وجہ معدے کے وہ داغ (Ulcers) تو نہیں جن کو میں دو سال سے لئے پھررہا ہوں اور جو کافی کی تیزابیت سے جل اٹھے ہیں اور اس کے بعد وہ مجھے نہایت تشخیص ناک نظروں سے گھورنے لگے۔
استصواب رائے عامہ کا حشر تو آپ دیکھ چکے۔ اب مجھے اپنے تاثرات پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ میرا ایمان ہے کہ قدرت کے کارخانے میں کوئی شے بے کار نہیں۔ انسان غور و فکر کی عادت ڈالے (یا محض عادت ہی ڈال لے) تو ہر بری چیز میں کوئی نہ کوئی خوبی ضرور نکل آتی ہے۔ مثال کے طور پر حقہ ہی کو لیجئے۔ معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو یہ عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا۔ اب دیگر ملکی اشیائے خورد و نوش پر نظر ڈالیئے۔ مرچیں کھانے کا ایک آسانی سے سمجھ آجانے والا فائدہ یہ ہے کہ ان سے ہمارے مشرقی کھانوں کا اصل رنگ اور مزہ دب جاتا ہے۔ خمیرہ گاؤ زبان اس لیے کھاتے ہیں کہ بغیر راشن کارڈ کے شکر حاصل کرنے کا یہی ایک جائز طریقہ ہے۔ جوشاندہ اس لیے گوارا ہے کہ اس سے نہ صرف ایک ملکی صنعت کو فروغ ہوتا ہے بلکہ نفس امارہ کو مارنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ شلغم اس لئے زہر مار کرتے ہیں کہ ان میں وٹامن ہوتا ہے لیکن جدید طبی ریسرچ نے ثابت کردیا ہے کہ کافی میں سوائے کافی کے کچھ نہیں ہوتا۔ اہل ذوق کے نزدیک یہی اس کی خوبی ہے۔
معلوم نہیں کہ کافی کیوں، کب اور کس مردم آزار نے دریافت کی۔ لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یونانیوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ اگر انہیں ذرا بھی علم ہوتا تو چرائتہ کی طرح یہ بھی یونانی طب کا جزوِ اعظم ہوتی۔ اس قیاس کو اس امر سے مزید تقویت پہنچتی ہے کہ قصبوں میں کافی کی بڑھتی ہوئی کھپت کی غالباً ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عطائیوں نے ’’اللہ شافی اللہ کافی‘‘ کہہ کر موخر الذکر کا سفوف اپنے نسخوں میں لکھنا شروع کردیا ہے۔ زمانہ قدیم میں اس قسم کی جڑی بوٹیوں کا استعمال عداوت اور عقد ثانی کے لئے مخصوص تھا۔ چونکہ آج کل ان دونوں باتوں کو معیوب خیال کیا جاتا ہے، اس لئے صرف اظہار خلوص باہمی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
سنا ہے کہ چائے کے باغات بڑے خوبصورت ہوتے ہیں۔ یہ بات یوں بھی سچ معلوم ہوتی ہے کہ چائے اگر کھیتوں میں پیدا ہوتی تو ایشیائی ممالک میں اتنی افراط سے نہیں ملتی بلکہ غلہ کی طرح غیر ممالک سے درآمد کی جاتی۔ میری معلومات عامہ محدود ہیں مگر قیاس یہی کہتا ہے کہ کافی بھی زمین ہی سے اگتی ہوگی۔ کیونکہ اس کا شمار ان نعمتوں میں نہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں پر آسمان سے براہ راست نازل کرتا ہے۔ تاہم میری چشمِ تخیل کو کسی طور یہ باور نہیں آتا کہ کافی باغوں کی پیداوار ہوسکتی ہے اور اگر کسی ملک کے باغوں میں یہ چیز پیدا ہوتی ہے تو اللہ جانے وہاں کے جنگلوں میں کیا اگتا ہوگا؟ ایسے ارباب ذوق کی کمی نہیں جنہیں کافی اس وجہ سے عزیز ہے کہ یہ ہمارے ملک میں پیدا نہیں ہوتی۔ مجھ سے پوچھئے تو مجھے اپنا ملک اسی لئے اور بھی عزیز ہے کہ یہاں کافی پیدا نہیں ہوتی۔
میں مشروبات کا پارکھ نہیں ہوں لہٰذا مشروب کے اچھے یا برے ہونے کا اندازہ ان اثرات سے لگاتا ہوں جو اسے پینے کے بعد رونما ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے میں نے کافی کو شراب سے بدرجہا بدتر پایا۔ میں نے دیکھا ہے کہ شراب پی کر سنجیدہ حضرات بے حد غیر سنجیدہ گفتگو کرنے لگتے ہیں جو بے حد جاندار ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے کافی پی کر غیر سنجیدہ لوگ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے سنجیدگی سے چڑ نہیں بلکہ عشق ہے۔ اسی لئے میں سنجیدہ آدمی کی مسخرگی برداشت کرلیتا ہوں، مگر مسخرے کی سنجیدگی کا روادار نہیں۔ شراب کے نشے میں لوگ بلاوجہ جھوٹ نہیں بولتے۔ کافی پی کر لوگ بلاوجہ سچ نہیں بولتے۔ شراب پی کر آدمی اپنا غم اوروں کو دے دیتا ہے مگر کافی پینے والے اوروں کے فرضی غم اپنالیتے ہیں۔ کافی پی کر حلیف بھی حریف بن جاتے ہیں۔
یہاں مجھے کافی سے اپنی بیزاری کا اظہار مقصود ہے۔ لیکن اگر کسی صاحب کو یہ سطور شراب کا اشتہار معلوم ہوں تو اسے زبان و بیان کا عجز تصور فرمائیں۔ کافی کے طرف دار اکثر یہ کہتے ہیں کہ یہ ہے نشے کی پیالی ہے۔ بالفرض محال یہ گزارش احوال واقعی یا دعویٰ ہے تو مجھے ان سے دلی ہمدردی ہے۔ مگر اتنے کم داموں میں آخر وہ اور کیا چاہتے ہیں؟
کافی ہاؤس کی شام کا کیا کہنا! فضا میں ہرطرف ذہنی کہرا چھایا ہوا ہے جس کو سرمایہ دار طبقہ اور طلبا سرخ سویرا سمجھ کر ڈرتے اور ڈراتے ہیں۔ شور و شغب کا یہ عالم کہ اپنی آواز تک نہیں سنائی دیتی اور بار بار دوسروں سے پوچھنا پڑتا ہے کہ میں نے کیا کہا۔ ہر میز پر تشنگانِ علم کافی پی رہے ہیں اور غروب آفتاب سے غرارے تک، یا عوام اور آم کے خواص پر بقراطی لہجے میں بحث کررہے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کافی اپنا رنگ لاتی ہے اور تمام بنی نوع انسان کو ایک برادری سمجھنے والے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے کی ولدیت کے بارے میں اپنے شکوک کا سلیس اردو میں اظہار کرنے لگتے ہیں جس سے بیروں کو کلیتہً اتفاق ہوتا ہے۔ لوگ روٹھ کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ گھر جائیں گے
گھر میں بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
کافی پی پی کر سماج کو کوسنے والے ایک اٹلیکچوئل نے مجھے بتایا کہ کافی سے دل کا کنول کھل جاتا ہے اور آدمی چہکنے لگتا ہے۔ میں بھی اس رائے سے متفق ہوں۔ کوئی معقول آدمی یہ سیال پی کر اپنا منہ نہیں بند رکھ سکتا۔ ان کا یہ دعوی بھی غلط نہیں معلوم ہوتا کہ کافی پینے سے بدن میں چستی آتی ہے۔ جبھی تو لوگ دوڑ دوڑ کر کافی ہاؤس جاتے ہیں اور گھنٹوں وہیں بیٹھے رہتے ہیں۔
بہت دیر تک وہ یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ کافی نہایت مفرح ہے اور دماغ کو روشن کرتی ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے یہ مثال دی کہ ’’ابھی کل ہی کا واقعہ ہے۔ میں دفتر سے گھر بے حد نڈھال پہنچا۔ بیگم بڑی مزاج ہیں۔ فوراً کافی کا TEA POT لاکر سامنے رکھ دیا۔‘‘
میں ذرا چکرایا۔ ’’پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔
’’میں نے دودھ دان سے کریم نکالی۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
میں نے پوچھا۔ ’’شکردان سے کیا نکلا؟‘‘
فرمایا۔ ’’شکر نکلی، اور کیا ہاتھی گھوڑے نکلتے؟‘‘
مجھے غصہ تو بہت آیا مگر کافی کا سا گھونٹ پی کر رہ گیا۔
عمدہ کافی بنانا بھی کیمیا گری سے کم نہیں۔ یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دونوں کے متعلق یہی سننے میں آیا ہے کہ بس ایک آنچ کی کسر رہ گئی۔ ہر ایک کافی ہاؤس اور خاندان کا ایک مخصوص نسخہ ہوتا ہے جو سینہ بہ سینہ، حلق بہ حلق منتقل ہوتا رہتا ہے۔ مشرقی افریقہ کے اس انگریز افسر کا نسخہ تو سبھی کو معلوم ہے جس کی کافی کی سارے ضلعے میں دھوم تھی۔ ایک دن اس نے ایک نہایت پرتکلف دعوت کی جس میں اس کے حبشی خانساماں نے بہت ہی خوش ذائقہ کافی بنائی۔ انگریز نے بہ نظر حوصلہ افزائی اس کو معزز مہمانوں کے سامنے طلب کیا اور کافی بنانے کی ترکیب دریافت کی۔
حبشی نے جواب دیا۔ ’’بہت ہی سہل طریقہ ہے۔ میں بہت سا کھولتا ہوا پانی اور دودھ لیتا ہوں۔ پھر اس میں کافی ملا کر دم کرتا ہوں۔‘‘
’’لیکن اسے حل کیسے کرتے ہو۔ بہت مہین چھنی ہوتی ہے۔‘‘
’’حضور کے موزے میں چھانتا ہوں۔‘‘
’’کیا مطلب؟ کیا تم میرے قیمتی ریشمی موزے استعمال کرتے ہو؟‘‘ آقا نے غضب ناک ہوکر پوچھا۔
خانساماں سہم گیا۔ ’’نہیں سرکار! میں آپ کے صاف موزے کبھی استعمال نہیں کرتا۔‘‘
سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کافی کی تندی اور تلخی سے ذرا نہیں گھبراتا۔ بچپن ہی سے یونانی دواؤں کا عادی رہا ہوں اور قوتِ برداشت اتنی بڑھ گئی ہے کہ کڑوی سے کڑوی گولیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا! لیکن کڑواہٹ اور مٹھاس کی آمیزش سے جو معتدل قوام بنتا ہے وہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میری انتہا پسند طبیعت اس میٹھے زہر کی تاب نہیں لاسکتی لیکن دقت یہ آن پڑتی ہے کہ میں میزبان کے اصرار کو عداوت اور وہ میرے انکار کو تکلف پر محمول کرتے ہیں۔
لہٰذا جب وہ میرے کپ میں شکر ڈالتے وقت اخلاقاً پوچھتے ہیں:
’’ایک چمچہ؟‘‘
تو مجبوراً یہی گزارش کرتا ہوں کہ میرے لئے شکر دان میں کافی کے دو چمچ ڈال دیجئے۔
صاف ہی کیوں نہ کہہ دوں کہ جہاں تک اشیائے خورد و نوش کا تعلق ہے، میں تہذیب حواس کا قائل نہیں۔ میں یہ فوری فیصلہ ذہن کی بجائے زبان پر چھوڑنا پسند کرتا ہوں۔ پہلی نظر میں جو محبت ہوجاتی ہے اس میں بالعموم نیت کا فتور کارفرما ہوتا ہے لیکن کھانے پینے کے معاملے میں میرا یہ نظریہ ہے کہ پہلا ہی لقمہ یا گھونٹ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ بد ذائقہ کھانے کی عادت کو ذوق میں تبدیل کرنے کے لئے بڑا پِتا مارنا پڑتا ہے۔ مگر میں اس سلسلے میں برسوں تلخی کام و دہن گوارا کرنے کا حامی نہیں۔ تاوقتیکہ اس میں بیوی کا اصرار یا گرہستی کی مجبوریاں شامل نہ ہوں۔ بنا بریں، میں ہر کافی پینے والے کو جنتی سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ جو لوگ عمر بھر ہنسی خوشی یہ عذاب جھیلتے رہے، ان پر دوزخ اور حمیم حرام ہیں۔
کافی امریکہ کا قومی مشروب ہے۔ میں اب بحث میں نہیں الجھنا چاہتا کہ امریکی کلچر کافی کے زور سے پھیلا، یا کافی کلچر کے زور سے رائج ہوئی۔ یہ بعینہ ایسا سوال ہے جیسے کوئی بے ادب یہ پوچھ بیٹھے کہ ’’غبارِ خاطرچائے کی وجہ سے مقبول ہوئی یا چائے ’’غبارِ خاطر‘‘ کے باعث؟ ایک صاحب نے مجھے لاجواب کرنے کی خاطر یہ دلیل پیش کی کہ امریکہ میں تو کافی اس قدر عام ہے کہ جیل میں بھی پلائی جاتی ہے۔ عرض کیا کہ جب خود قیدی اس پر احتجاج نہیں کرتے تو ہمیں کیا پڑی کہ وکالت کریں۔ پاکستانی جیلوں میں بھی قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا جائے تو انسدادِ جرائم میں کافی مدد ملے گی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہاں لاعلاج مریضوں کو بشاش رکھنے کی غرض سے کافی پلائی جاتی ہے۔ کافی کے سریع التاثیر ہونے میں کیا کلام ہے۔ میرا خیال ہے کہ دمِ نزع حلق میں پانی چوانے کی بجائے کافی کے دوچار قطرے ٹپکادیئے جائیں تو مریض کا دم آسانی سے نکل جائے۔ بخدا، مجھے تو اس تجویز پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ گناہ گاروں کی فاتحہ کافی پر دلائی جائے۔
سنا ہے کہ بعض روادار افریقی قبائل کھانے کے معاملے میں جانور اور انسان کے گوشت کو مساوی درجہ دیتے تھے۔ لیکن جہاں تک پینے کی چیزوں کا تعلق ہے، ہم نے ان کے بارے میں کوئی بری بات نہیں سنی۔ مگر ہم تو چینیوں کی رچی ہوئی حسِ شامہ کی داد دیتے ہیں کہ نہ منگول حکمرانوں کا جبر و تشدد انہیں پنیر کھانے پر مجبور کرسکا کہ امریکہ انہیں کافی پینے پر آمادہ کرسکا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان کی نفاست نے سخت قحط کے زمانے میں بھی فاقے اور اپنے فلسفے کو پنیر اور کافی پر ترجیح دی۔
ہمارا منشا امریکی یا چینی عادات پر نکتہ چینی نہیں۔ ہر آزاد قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے منہ اور معدے کے ساتھ جیسا سلوک چاہے، بے روک ٹوک کرے۔ اس کے علاوہ جب دوسری قومیں ہماری رساول، نہاری اور فالودے کا مذاق نہیں اڑاتیں تو ہم دخل در ماکولات کرنے والے کون؟ بات دراصل یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں پیاس بجھانے کے لئے پانی کی علاوہ ہر رقیق شے استعمال ہوتی ہے۔ سنا ہے کہ جرمنی (جہاں قومی مشروب بیئر ہے) ڈاکٹر بدرجہ مجبوری بہت ہی تندرست و توانا افراد کو خالص پانی پینے کی اجازت دیتے ہیں، لیکن جن کو آب نوشی کا چسکا لگ جاتا ہے، وہ راتوں کو چھپ چھپ کر پانی پیتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کھ پیرس کے کیفوں میں رنگین مزاج فن کار بورژوا طبقہ کو چڑانے کی غرض سے کھلم کھلا پانی پیا کرتے تھے۔
مشرقی اور مغربی مشروبات کا موازنہ کرنے سے پہلے یہ بنیادی اصول ذہن نشین کرلینا ازبس ضروری ہے کہ ہمارے یہاں پینے کی چیزوں میں کھانے کی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اپنے قدیم مشروبات مثلاً یخنی، ستو اور فالودے پر نظر ڈالئے تو یہ فرق واضح ہوجاتا ہے، ستو اور فالودے کو خالصتاً لغوی معنوں میں آپ نہ کھا سکتے ہیں اور نہ پی سکتے ہیں۔ بلکہ اگر دنیا میں کوئی ایسی شے ہے جسے آپ بامحاورہ اردو میں بیک وقت کھا اور پی سکتے ہیں تو یہی ستو اور فالودہ ہے جو ٹھوس غذا اور ٹھنڈے شربت کے درمیان ناقابل بیان سمجھوتہ ہے۔ لیکن آج کل ان مشروبات کا استعمال خاص خاص تقریبوں میں ہی کیا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اب ہم نے عداوت نکالنے کا ایک اور مہذب طریقہ اختیار کیا ہے۔
آپ کے ذہن میں خدانخواستہ یہ شبہ نہ پیدا ہوگیا ہو کہ راقم السطور کافی کے مقابلے میں چائے کا طرف دار ہے تو مضمون ختم کرنے سے پہلے اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا ازبس ضروری سمجھتا ہوں۔ میں کافی سے اس لئے بیزار نہیں ہوں کہ مجھے چائے عزیز ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کافی کا جلا چائے بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔
ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس
ایک وہ ہیں کہ جنہیں چائے کے ارماں ہوں گے
(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’چراغ تلے‘‘ سے اقتباس)
**[/RIGHT]
کریلے
[RIGHT]امی جی نے کریلے بہت شوق سے خریدے تھے۔ زیبا باجی نے بکتے جھکتے کاٹے تھے۔ امی جی نے عبادت کی طرح خاموشی اور لگن سے پکائے تھے، پر زیبا باجی خفا ہوگئی تھیں۔ اتنی زیادہ کہ کمرے سے باہر نہ نکل رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ ابا جی کو اس مقدمے کی پیروی کرنا ہی ہوگی۔ میں یہی سوچتی ہوئی ان کے کمرے کی طرف چل پڑی اور دروازے پر ہی جیسے میرے قدم ٹھہر سے گئے۔ امی جی رورہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں۔
’’مجھے سہیل بہت یاد آتا ہے جی۔ وہ پچھلی بار فون پر کہہ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی گھر آسکتا ہے۔ آپ کو تو پتہ ہے اسے سرپرائز دینے کا کتنا شوق ہے۔ جانے کب میرا بیٹا گھر آجائے۔ اسے کریلے بہت پسند ہے نا جی، اسی لئے روز پکا لیتی ہوں۔ سوچیں بھلا کیا سوچے گا میرا بیٹا کہ ماں نے اس کی پسند کے کریلے تک نہ بنا کر رکھے۔ یہ لڑکیاں تو سمجھتی نہیں، آپ تو سمجھتے ہیں نا میری بات۔‘‘ اب امی جی یقیناً اپنی غلافی آنکھوں میں سرخ ڈوروں کے ساتھ ابا جی کو تائید میں دیکھ رہی ہوں گی اور ساتھ ساتھ اپنے نیلے سوتی دوپٹے سے اپنی آنکھیں بھی بے دردی سے صاف کرتی جارہی ہوں گی۔ مجھے یوں لگا جیسے میری ماں کے آنسو میری آنکھوں میں رہنے آگئے تھے۔
(ڈٓکٹر نگہت نسیم کے مضمون ’’کریلے‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
موٹر سائیکل
**
[RIGHT]
میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے محبت بڑا بے زبان جذبہ ہے، یعنی اظہار کے لئے زبان کا محتاج نہیں۔
’’ف‘‘ کہتا ہے میں موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنے والے کے انداز سے اس کے چلانے والے کے ساتھ رشتے کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔
اگر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھی خاتون کے بجائے چلانے والا شرما رہا ہو تو سمجھ لیں وہ اس کی ’’اہل خانہ‘‘ ہے۔
اور اگر وہ اس طرح بیٹھے ہوں کہ دیکھنے والے شرما رہے ہوں تو سمجھ لیں ’’اہل کھانا‘‘ ہے۔
موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھنا بھی ایک فن ہے۔ خواتین منہ ایک طرف کرکے یوں بیٹھتی ہیں کہ جیسے ابھی اترنے والی ہوں۔ بلکہ بعض اوقات بیٹھی ہوئی نہیں بٹھائی ہوئی لگتی ہیں۔
کچھ خواتین تو خوفزدہ مرغی کی طرح پروں میں کئی بچے چھپائے ہوئے ہوتی ہیں۔ لگتا ہے سفر نہیں “suffer” کررہی ہیں۔
چند یوں بیٹھی ہوتی ہیں جیسے چلانے والے کی اوٹ میں نماز پڑھ رہی ہوں۔
بعض تو دور سے کپڑوں کی ایک ڈھیری سی لگتی ہیں۔ جب تک یہ ڈھیری اتر کر چلنے نہ لگے، پتا نہیں چلتا اس کا منہ کس طرف ہے؟
نئی نویلی دلہن نے خاوند کو پیچھے سے یوں مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا ہے جیسے ابھی تک اس پر اعتبار نہ ہو۔
جبکہ بوڑھی عورتوں کی گرفت بتاتی ہے کہ انہیں خود پر اعتبار نہیں۔
جب میں کسی شخص کو سائیکل کے پیچھے بیٹھے دیکھتا ہوں جس نے اپنا جیسا انسان سائیکل میں جوت رکھا ہوتا ہے تو میرے منہ سے بددعا نکلتی ہے۔ مگر جب میں کسی کو موٹر سائیکل کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چلانے والے پر اعتماد کئے بیٹھے دیکھتا ہوں تو میرے منہ سے اس کے لئے دعا نکلتی ہے کیونکہ اس سیٹ پر مجھے اپنی پوری قوم بیٹھی نظر آرہی ہوتی ہے۔
(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)**[/RIGHT]
وسوسے
[RIGHT]محبت وسوسوں کا آئینہ ہوتی ہے، جس زاویے سے بھی اس کا عکس دیکھیں کوئی نیا وسوسہ، کچھ الگ ہی خدشہ سر اٹھاتا ہے۔ ایک پل پہلے مل کر جانے والا محبوب بھی موڑ مڑتے ہوئے آخری بار پلٹ کر نہ دیکھے تو دیوانوں کی دنیا اتھل پتھل ہونے لگتی ہے کہ جانے کیا ہوگا؟ کہیں وہ روٹھ تو نہیں گیا، کوئی بات بری تو نہیں لگ گئی اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور پھر اگلی ملاقات تک سارا چین و سکون غارت ہوجاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال میرا بھی تھا لیکن میں کتنا بے بس تھا کہ اپنی مرضی سے قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ کبھی کبھی مجھے اس انسانی جسم کی لاچاری پر بے حد غصہ آتا تھا۔ ہمارے جسم کو ہماری سوچ جیسی پرواز کیوں نہیں عطا کی گئی، ایسا ہوتا تو میں اڑ کر اس بے پروا کے در جا پہنچتا کہ اس تغافل کی وجہ تو بتادے۔
(ہاشم ندیم کے ناول ’’عبداللہ‘‘ کے باب ’’من کی دیوار‘‘ سے اقتباس)
**محبت اور نفرت
محبت کا جذبہ نہایت مضبوط ہے لیکن نفرت کا جذبہ کہیں گہرا اور دیرپا ہے۔ محبت میں روح کے محض چند حصے مصروف ہوتے ہیں مگر نفرت میں روح اور جسم دونوں۔ نفرت دل میں کچھ اس طرح سما جاتی ہے اور خیالات میں یوں رچ جاتی ہے کہ ان کا اہم جزو بن کر رہ جاتی ہے۔
(شفیق الرحمٰن کی کتاب ’’مدوجزر‘‘ سے اقتباس)
[RIGHT]لوگ کہتے ہیں زندگی میں یہ ضروری ہے اور وہ ضروری ہے__ میں تمہیں بتاؤں زندگی میں کچھہ بھی ضروری نہیں ہوتا نہ مال، نہ اولاد، نہ رتبہ، نہ لوگوں کی محبت ... بس آپ ہونے چاہییں اور آپ کا الله سے ایک ہر پل بڑھتا تعلق ہونا چاہئے_ باقی یہ مسلے تو کسی بادل کی طرح ہوتے ہیں..
جہاز کی کھڑکی سے کبھی نیچے تیرتا کوئی بادل دیکھا ہے؟ اوپر سے دیکھو تو وہ کتنا بے ضرر لگتا ہے مگر جو اس بادل تلے کھڑا ہوتا ہے نا..اس کا پورا آسمان بادل ڈھانپ لیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ روشنی ختم ہوگئی، اور دنیا تاریک ہوگئی..غم بھی ایسے ہوتے ہیں جب زندگی پہ چھا جاتے ہیں تو سب تاریک لگتا ہے لیکن اگر تم اس زمین سے اوپر اٹھہ کر آسمانوں سے پورا منظر دیکھو تو تم جانوگی کہ یہ تو ایک ننھا سا ٹکڑا ہے جو ابھی ہٹ جائے گا...اگر یہ سیاہ بادل زندگی پہ نہ چھائیں نا..تو ہماری زندگی میں کبھی رحمت کی بارش نہ ہو...!!
[RIGHT]مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے، تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟ میں ترازو کے ایک پلڑے اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں، میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں، میں الله تعٰالی کو اچھی لگتی ہوں۔ میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔ الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔ تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟ سو میں یہ اس لیئے کرتی ہوں کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں
haya, yeh jo humara Allah say faasla aa jata hai na, yeh seedhi sadak ki terha hota, yeh phaar ki tarhan hota hai is ko bhaag ker tay kerny ki koshish kero gi to jaldi thak jao gi, jast lagao gi to dermiyaan may gir jao gi, urnay ki koshish kero gi to hawa saath nahi day gi"
yeh faasla baby steps say aboor kia jata , chotay chotay qadam utha ker choti per pohncha jata hai kabhi bhi dermiyaan may palat ker neechay uterna chaho gi to purani zindgi ki kashish saqal khench lay gi aur qadam uterty chalay jaye gay aur oper cherhna utna hi dushwaar ho ga mager her uper cherhty qadam per bulandi milay gi..so bhaagna matt, jast lganay ki koshish bhi na kerna bas chotay chotay achay kaam kerna aur choty chotay gunah chorr dena
ناامیدی
رونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نم آنکھیں نرم دل ہونے کی نشانی ہیں اور دلوں کو نرم ہی رہنا چاہئے۔ اگر دل سخت ہوجائیں تو پھر ان میں پیار و محبت کا بیج نہیں بویا جاسکتا اور اگر دلوں میں محبت ناپید ہوجائے تو پھر انسان کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ محبت وہ واحد طاقت ہے جو انسان کے قدم مضبوطی سے جمادیتی ہے اور وہ گمراہ نہیں ہوتا۔ بس ان آنسوؤں کے پیچھے ناامیدی اور مایوسی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ناامیدی ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اللہ سے ہمیشہ بھلائی اور اچھے وقت کی آس رکھنی چاہئے۔ وہ اپنے بندوں کو اسی چیز سے نوازتا ہے جو وہ اپنے اللہ سے توقع کرتے ہیں۔
(فاطمہ عنبرین کے ناول ’’رستہ بھول نہ جانا‘‘ سے اقتباس)
**زینے
**
[RIGHT]کسی بھی مشکل سے مت گھبراؤ۔ یہ کٹھن اور دشوار گزار موڑ جو سفر حیات میں آتے ہیں دراصل ہمیں ہماری منزلوں تک پہنچانے والے زینے ہوتے ہیں۔[/RIGHT]
**(نمرہ احمد کے ناول ’’میرے خواب میرے جگنو‘‘ سے اقتباس)
اشفاق احمد کا سچ
اماں کو میری بات ٹھیک سے سمجھ آگئی۔ اس نے اپنا چہرہ میری طرف کئے بغیر نئی روٹی بیلتے ہوئے پوچھا۔ ’’تو اپنی کتابوں میں کیا پیش کرے گا؟‘‘
میں نے تڑپ کر کہا۔ ’’میں سچ لکھوں گا اماں، اور سچ کا پرچار کروں گا۔ لوگ سچ کہنے سے ڈرتے ہیں اور سچ سننے سے گھبراتے ہیں۔ میں انہیں سچ سناؤں گا اور سچ کی تلقین کروں گا ۔۔۔۔۔۔‘‘
میری ماں فکرمند سی ہوگئی۔ اس نے بڑی دردمندی سے مجھے غور سے دیکھا اور کوئلوں پر پڑی ہوئی روٹی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’اگر تونے سچ بولنا ہے تو اپنے بارے میں بولنا، دوسرے لوگوں کی بابت سچ بول کر ان کی زندگی عذاب میں نہ ڈال دینا۔ ایسا فعل جھوٹ سے بھی برا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘
(اشفاق احمد بابا جی کی کتاب ’’صبحانے فسانے‘‘ کا ایک اقتباس)
خواہش
جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت دیتا ہے، اسے پھر کسی اور چیز کی خواہش نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جسے وہ دنیا دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خواہش بھوک بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔
(اقتباس از عمیرہ احمد)