Urdu Iqtabasat

pakiza seerat

پاکیزہ سیرت
[RIGHT]جس مقام پر اب منگلا ڈیم واقع ہے وہاں پر پہلے میرپور کا پرانا شہر آباد تھا۔ جنگ کے دوران اس شہر کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ایک روز میں ایک مقامی افسر کو اپنی جیپ میں بٹھائے اس کے گرد و نواح میں گھوم رہا تھا، راستے میں ایک مفلوک الحال بوڑھا اور اس کی بیوی ایک گدھے کو ہانکتے ہوئے سڑک پر آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ دونوں کے کپڑے میلے کچیلے اور پھٹے پرانے تھے، دونوں کے جوتے بھی ٹوٹے پھوٹے تھے۔ انہوں نے اشارے سے ہماری جیپ کو روک کر دریافت کیا۔ ’’بیت المال کس طرف ہے؟‘‘ آزاد کشمیر میں خزانے کو بیت المال ہی کہا جاتا ہے۔
میں نے پوچھا۔ ’’بیت المال میں تمہارا کیا کام؟‘‘
بوڑھے نے سادگی سے جواب دیا۔ ’’میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر میرپور شہر کے ملبے کو کرید کرید کر سونے اور چاندی کے زیورات کی دو بوریاں جمع کی ہیں، اب انہیں اس کھوتی پر لاد کر ہم بیت المال میں جمع کروانے جارہے ہیں۔‘‘
ہم نے ان کا گدھا ایک پولیس کانسٹیبل کی حفاظت میں چھوڑا اور بوریوں کو جیپ میں رکھ کر دونوں کو اپنے ساتھ بٹھالیا تاکہ انہیں بیت المال لے جائیں۔
آج بھی وہ نحیف و نزار اور مفلوک الحال جوڑا مجھے یاد آتا ہے تو میرا سر شرمندگی اور ندامت سے جھک جاتا ہے کہ جیپ کے اندر میں ان دونوں کے برابر کیوں بیٹھا رہا۔ مجھے تو چاہئے تھا کہ میں ان کے گرد آلود پاؤں اپنی آنکھوں اور سر پر رکھ کر بیٹھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے پاکیزہ سیرت لوگ پھر کہاں ملتے ہیں۔
(قدرت اللہ شہاب کی کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]

aazmaish

[RIGHT]آزمائش
ہمیں خدا پر صرف اس وقت پیار آتا ہے جب وہ ہمیں مالی طور پر آسودہ کردے اور اگر ایسا نہ ہو تو ہم اسے طاقتور ہی نہیں سمجھتے۔ ہم نماز کے دوران اللہ اکبر کہتے ہیں، اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ سب سے بڑا ہے اور نماز ختم کرتے ہی ہم روپے کو بڑا سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ خدا مجھ سے نفرت کرتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ خدا تو ہر ایک سے محبت کرتا ہے اس لئے تو اس نے مجھے آزمائشوں میں ڈالا، اور وہ اپنے انہی بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے۔
(عمیرہ احمد کے ناول ’’زندگی گلزار ہے‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]

پیاسا سمندر

[RIGHT]“آدمی کتنا پیاسا ہے ، اور کس طرح اسکی پیاس بڑھتی رہتی ہے ، اور کس طرح وہ خوارج میں اپنے لئے تسکین اور آسودگی تلاش کرتا ہے ، مگر کیا کبھی بھی اسے تسکین نصیب ہوتی ہے ؟ کبھی آسودگی ملتی ہے ؟ ، مگر وہ بالکل کسی سمندر ہی کی موج در موج آگے بڑھتا چلا جاتا ہے ، کبھی چٹانوں کو کاٹتا ہے ، کبھی پہاڑوں میں رخنے کر کے انکے پرخچے اڑا دیتا ہے ، اپنی بے چینی کی وجہ وہ خود ہے ، اور اپنی تسکین کا سامان بھی اپنے دامن میں رکھتا ہے ، مگر وہ دوسروں کی پیاس تو بجھا دیتا ہے ، خود اپنی پیاس بجھانے کا سلیقہ نہیں رکھتا ۔ ۔۔ ۔ تم اسے پیاسا سمندر کہہ سکتی ہو بے بی ۔ ۔ ۔ ۔ جو پانی ہی پانی رکھنے کے باوجود بھی ازل سے پیاسا ہے ۔ ۔۔ ۔ اور اس وقت تک پیاسا رہے گا جب تک کہ اسے اپنا عرفان نہ ہو جائے ، لیکن اس میں ہزارہاں سال لگیں گے ۔ ۔ ۔۔ ابھی تو بچوں کی طرح گھٹنوں چل رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تو چاند میں جانے کی باتیں کر رہا ہے ، اسکی ذہنیت اور سوجھ بوجھ اس بچے سے زیادہ نہیں ہے جو ماں کی گود میں چاند کے لئے ہمکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
وہ مصنوعی سیارے اڑا کر اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے بچے صابون کے بلبلے اڑا کر مسرور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ایک دوسرے سے شرط بدلتے ہیں کہ دیکھیں کس کا بُلبلا دیر تک فنا نہیں ہوتا ، اور پھر ایسے شیخیاں بگھارتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو ، مگر بے بی ۔ ۔۔ ۔ چاند کا سفر آدمیت کی معراج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ چاند کی باتیں تو ایسی ہی ہیں جیسے کوئی اپنے اصل کام سے اکتا جائے اور بیٹھ کر گنگنانا شروع کردے ۔ ۔ ۔۔

جانتی ہو آدمیت کی معراج کیا ہے ؟ ۔ ۔۔ ۔ آدمی کی معراج یہ ہے کہ آدمی خود اپنے ہی مسائل حل کر لے ۔ ۔ ۔ ۔ اگر اسنے مصنوعی سیارہ فضا میں پھینکنے کے بجائے سرطان کا کامیاب علاج دریافت کیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اب اسکے قدم اس راہ کی طرف اٹھ گئے ہیں جسکی انتہا اسکی معراج ہو گی ، اگر اسنے چاند تک پہنچنے کی اسکیم بنانے کی بجائے زمین کے ہنگامے کا پرامن طور پر فرو کرنے کا کوئی ذریعہ دریافت کر لیا ہوتا تو میں سمجھتا کہ اب یہ پیاسا نہیں رہے گا ، بلکھ خود کو بھی سیراب کرنے کی صلاحیت اس میں پیدا ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ہزارہا سال چاہیں اس کے لئے شمی ہزار سال۔‘‘
(ابن صفی کے ناول ’’پیاسا سمندر‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]

na umidi or mayosi

[RIGHT]رونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نم آنکھیں، نرم دل ہونے کی نشانی ہیں اور دلوں کو نرم ہی رہنا چاہئے۔ اگر دل سخت ہوجائیں تو پھر ان میں پیار و محبت کا بیج نہیں بویا جاسکتا اور اگر دلوں میں محبت ناپید ہوجائے تو پھر انسان کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ محبت وہ واحد طاقت ہے جو انسان کے قدم مضبوطی سے جمادیتی ہے اور وہ گمراہ نہیں ہوتا۔
بس ان آنسوؤں کے پیچھے ناامیدی اور مایوسی نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ناامیدی ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اللہ سے ہمیشہ بھلائی اور اچھے وقت کی آس رکھنی چاہئے۔ وہ اپنے بندوں کو اسی چیز سے نوازتا ہے جو وہ اللہ سے توقع کرتے ہیں۔[/RIGHT]
(فاطمہ عنبریں کے ناول ’’رستہ بھول نہ جانا‘‘ سے اقتباس)


Restored attachments:

waja

وجہ
[RIGHT]پھر کوئی پوچھ بیٹھا کہ آپ نے شادی کیوں نہیں۔۔۔؟
شادی کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ جوانی جہان گردی اور فیلڈ سروس کی نذر ہوگئی۔ ادھیڑ عمر کا ہوا تو پھر خیال چھوڑ دیا۔ دراصل محبت فقط نوعمروں کے لیے ہے۔ اس عمر میں ہر چیز خوامخواہ رنگین معلوم ہوتی ہے۔ ہر جذبے میں بے ساختگی ہوتی ہے اور بلا کا خلوص۔ محبوب ایک دفعہ مسکرا دے تو ہفتے مہینے خوشی خوشی گزر جاتے ہیں اور یقین ہو جاتا ہے کہ امتحان میں ضرور کامیابی ہوگی، مالی حالت بہتر ہو جائے گی ، دوست دشمن سب مہربان ہو جائیں گے اور محبوب کی بے رخی سے سب تہس نہس ہو جائے گا۔ آئرلینڈ کی وہ جھلمل جھلمل کرتی ندیاں ، وہ لہلہاتے کھیت ، شاداب کنج گھنے جنگل مجھے اب تک یاد ہیں۔ اگرچہ ان لڑکیوں کے نام اور چہرے یاد نہیں جو ان دنوں میرے ساتھ ہوا کرتیں ۔ پتہ ہی نہیں چلتاتھا کہ کب بادل آئے تھے اور کب بوندیں تھم گئیں۔ غروبِ آفتاب کے بعد اتنی جلدی چاند کیسے نکل آیا۔۔۔ذرا دیر پہلے گھپ اندھیرا تھا، دفعتاً یہ روشنی کہاں سے آگئی۔ وہ جگمگاتی صبحیں۔۔۔۔وہ رنگین شامیں ۔۔۔۔وہ مستی کے شب و روز۔۔۔۔محبت کی اصلی عمر وہی ہوتی ہے۔ اس کے بعد دکھاوا ہے۔ اگرچہ میں شادی کے قضیے سے بالکل مبرا ہوں اور تم لڑکوں کو بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنی کمر پر زین نہ کسوانا لیکن اگر خدانخواستہ کبھی پھنسنے لگو تو جذبات کے دھارے میں مت بہہ جانا۔ ایسا چہرہ چننا جس کی کشش اور دلربائی دیرپا ہو۔ شاید تم نہیں جانتے کہ گزرتے ہوئے ایام چہروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اورمحض دس پندہ سال کا وفقہ چہروں میں کیسی کیسی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
(شفیق الرحمن کی کتاب دجلہ سے اقتباس)
[/RIGHT]

mohabbat

محبت](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
[RIGHT]محبت دوڑ نہیں ہوتی، طوفان نہیں ہوتی، سکون ہوتی ہے۔ دریا نہیں ہوتی، جھیل ہوتی ہے۔ دوپہر نہیں ہوتی، بھور سمے ہوتی ہے۔ آگ نہیں ہوتی، اجلا ہوتی ہے۔ اب میں تجھے کیا بتاؤں کہ کیا ہوتی ہے۔ وہ بتانے کی چیز نہیں، بیتنے کی چیز ہے۔ سمجھنے کی چیز نہیں، جاننے کی چیز ہے۔[/RIGHT]
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’سمے کا بندھن‘‘ کے افسانے ’’عینی اور عفریت‘‘ سے اقتباس)

jazbati afsanay

جذباتی افسانے](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
[RIGHT]ترقی پسند افسانوں کے بعد جذباتی افسانے آتے ہیں۔ جذباتی افسانوں میں جذبات اور احساسات کی شدت کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ مختلف جذبوں کے زیر اثر افسانے کے کردار عجیب و غریب حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک افسانے میں سریش کو جب پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی وجہ سے نرملا سے شادی نہیں کرسکتا تو وہ نرملا کو اس طرح مخاطب کرتا ہے۔ ’’نرملا! تم آج سے میری بہن ہو۔‘‘ ’’تمہاری بہن؟‘‘ نرملا نے گھبرا کر کہا۔ ’’ہاں ہاں میری بہن۔‘‘ سریش نے بہن کے لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں سچ کہہ رہا ہوں۔ تم آج سے میری بہن ہو۔ کاش کہ تم عمر میں مجھ سے پانچ دس سال بڑی ہوتیں اور میں تمہیں ’’ماں‘‘ کہہ سکتا۔‘‘ اسی طرح ایک افسانے میں دو بھائی ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں مگر جب چھوٹے بھائی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بڑا بھائی ان دونوں کی مشترکہ محبوبہ سے شادی کرنے کو تلا ہوا ہے تو وہ مندر میں دیوی یا دیوتا کے سامنے اس لڑکی کا ہاتھ اپنے بڑے بھائی کے ہاتھ میں دے کر خود سادھو بن کر زندگی گزارنے کا حلف اٹھاتا ہے۔ جذباتی افسانوں میں قہقہے، آنسو، سسکیاں، قسمیں، ہچکولے کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عموماً انجام خودکشی ہوتا ہے اور محبت کے دیوتا کے سامنے عجیب و غریب قربانیاں دی جاتی ہیں۔[/RIGHT]
(کنہیا لال کپور کی کتاب ’’سنگ و خشت‘‘ سے اقتباس)

Re: jazbati afsanay

Please don’t use external link in your post.

Re: jazbati afsanay

اوکے ۔۔۔۔۔ خیال رکھیں گے ۔ دراصل کاپی پیسٹ کرتے وقت یہ دھیان نہیں رہتا کہ کوئی لنک لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔

Re: jazbati afsanay

اوکے ۔۔۔۔۔ خیال رکھیں گے ۔ دراصل کاپی پیسٹ کرتے وقت یہ دھیان نہیں رہتا کہ کوئی لنک لگا ہوا ہے۔۔۔۔۔

[RIGHT][/RIGHT]

sada dil

سادہ دل
[RIGHT]ہم بہت ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ بہت پڑھے لکھے بھی نہیں ہیں۔ دھوکہ دہی، رشوت زنی، قتل و غارت اور بہت سی برائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ہمارے ہاں ظلم کھلے عام کیا جاتا ہے اور مظلوم بھی ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہم پسماندہ بھی ہیں اور پست ذہن کے بھی۔ لیکن اس کے باوجود جہان سکندر! ہم دل کے برے نہیں ہیں۔ ہمارے دل بہت سادا، بہت معصوم اور بے حد پیارے ہوتے ہیں۔[/RIGHT]
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)

mutabarik tohfa

متبرک تحفہ
[RIGHT]**
ایک روز ایک بے حد مفلوک الحال بڑھیا آئی۔ رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے جسے پٹواری نے اپنے کاغذات میں اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لئے بغیر یہ کام کرنے سے انکاری ہے۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برس سے وہ طرح طرح کے دفتروں میں دھکے کھارہی ہے لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔
اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اسے اپنی کار میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے ساٹھ ستر میل دور اس کے گاؤں کے پٹواری کو جاپکڑا۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں یوں اچانک دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی کہ یہ بڑھیا شر انگیز عورت ہے اور زمین کے انتقال کے بارے میں جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی عملی طور پر تصدیق کرنے کے لئے پٹواری اندر سے ایک جزدان اٹھا کر لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا۔ ’’حضور دیکھئے میں اس مقدس کتاب کو سر پر رکھ کر قسم کھاتا ہوں۔‘‘ گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ ’’جناب ذرا یہ بستہ کھول کر دیکھ لیں۔‘‘
ہم نے بستہ کھولا تو اس میں قرآن شریف کی جلد نہیں بلکہ پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی انتقال اراضی کا کام مکمل کردیا۔
میں نے بڑھیا سے کہا۔ ’’بی بی، لوتمہارا کام ہوگیا۔ اب خوش رہو۔‘‘
بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا۔ اپنی تشفی کے لئے اس نے نمبردار سے پوچھا۔ ’’کیا سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے؟‘‘
نمبردار نے اس بات کی تصدیق کی تو بڑھیا کی آنکھوں سے بے اختیار خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی۔ اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لئے اور اپنی دانست میں دوسروں کی نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے۔ اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بھی بے اختیار رونا آگیا۔ یہ دیکھ کر گاؤں کے کئی دوسرے بوڑھے بھی آبدیدہ ہوگئے۔
یہ سولہ آنے واحد ’’رشوت‘‘ ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا ایک پورا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظر میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں نے ان آنوں کو ابھی تک خرچ نہیں کیا۔ کیونکہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک ایسا متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کردیا۔

(شہاب نامہ سے اقتباس ۔ از قدرت اللہ شہاب)**[/RIGHT]

Re: jazbati afsanay

Shokriyah… :k:

paansa

[RIGHT]زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آپ اپنا سارا دماغ، ساری طاقت، ساری ترکیبیں اور ساری صلاحیتیں صرف کرچکے ہوتے ہیں اور پانسہ پھینک چکے ہوتے ہیں۔ اس وقت سب کچھ خدا کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور آپ کچھ نہیں کرسکتے۔[/RIGHT]
(’’بابا صاحبا‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)

پہلا پتھر

[RIGHT]**
مشتاق احمد یوسفی اپنی کتاب کا مقدمہ لکھتے ہوئے اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں۔

نام:
سرورق پر ملاحظہ فرمائیے

۔خاندان:
سو پشت سے پیشہ آباء سپہ گری کے سوا سب کچھ رہا ہے۔

تاریخ پیدائش:
عمر کی اس منزل پر آپہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔
اور یہ منزل بھی عجیب ہے۔ بقول صاحب “کشکول“ ایک وقت تھا کہ ہمارا تعارف بہو بیٹی قسم کی خواتین سے اس طرح کرایا جاتا تھا کہ فلاں کے بیٹے ہیں۔ فلاں کے بھانجے ہیں اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ فلاں کے باپ ہیں اور فلاں کے ماموں۔ عمر رسیدہ پیش رو زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اس کے آگے مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔

پیشہ:
گوکہ یونیورسٹی کے امتحانوں میں اول آیا، لیکن اسکول میں حساب سے کوئی طبعی مناسبت نہ تھی۔ اور حساب میں فیل ہونے کو ایک عرصے تک اپنے مسلمان ہونے کی آسمانی دلیل سمجھتا رہا۔
اب وہی ذریعہ معاش ہے۔ حساب کتاب میں اصولاً دو اور دو چار کا قائل ہوں۔ مگر تاجروں کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کرلیتے ہیں۔

پہچان :
قد: پانچ فٹ ساڑھے چھ انچ (جوتے پہن کر)
وزن: اوور کوٹ پہن کر بھی دبلا دکھائی دیتا ہوں۔ عرصے سے مثالی صحت رکھتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ جب لوگوں کو کراچی کی آب و ہوا کو برا ثابت کرنا مقصود ہو تو اتمام حجت کے لیے میری مثال دیتے ہیں۔

جسامت: یوں سانس روک لوں تو 38 انچ کی بنیان بھی پہن سکتا ہوں۔ بڑے لڑکے کے جوتے کا نمبر 7 ہے جو میرے بھی فٹ آتا ہے۔

حلیہ: اپنے آپ پر پڑا ہوں۔
پیشانی اور سر کی حد فاصل اڑ چکی ہے۔ لہذا منہ دھوتے وقت یہ سمجھ نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ ناک میں بذات کوئی نقص نہیں مگر دوستوں کا خیال ہے کہ بہت چھوٹے چہرے پر لگی ہوئی ہے۔

پسند:
غالب، ہاکس بے ، بھنڈی
پھولوں میں، رنگ کے لحاظ سے سفید گلاب اور خوشبوؤں میں نئے کرنسی نوٹ کی خوشبو بہت مرغوب ہے۔ میرا خیال ہے کہ سرسبز تازہ تازہ اور کرارے کرنسی نوٹ کا عطر نکال کر ملازمت پیشہ حضرات اور ان کی بیویوں کو مہینے کی آخری تاریخوں میں سنگھایا جائے تو گرہستی زندگی جنت کا نمونہ بن جائے۔

پالتو جانوروں میں کتوں سے پیار ہے۔ پہلا کتا چوکیداری کے لیے پالا تھا۔ اسے کوئی چرا کر لے گیا۔ اب بربنائے وضع داری پالتا ہوں کہ انسان کتے کا بہترین رفیق ہے۔ بعض تنگ نظر اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمان کتوں سے بلاوجہ چڑتے ہیں حالانکہ اس کی ایک نہایت معقول اور منطقی وجہ موجود ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ایک عملی قوم رہے ہیں۔ وہ کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔

گانے سے بھی عشق ہے۔ اسی وجہ سے ریڈیو نہیں سنتا۔

چڑ:
جذباتی مرد، غیر جذباتی عورتیں، مٹھاس، شطرنج۔

مشاغل:
فوٹو گرافی، لکھنا پڑھنا

تصانیف:
چند تصویران بتاں، چند مضامین و خطوط

کیوں لکھتا ہوں:
ذزریلی نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔ رہا سوال کہ یہ کھٹ مٹھے مضامین طنزیہ ہیں یا مزاحیہ یا اس سے بھی ایک قدم آگے۔۔۔ یعنی صرف مضامین، تو یہاں صرف اتنا عرض کرنے پر اکتفا کروں گا کہ وار ذرا اوچھا پڑے، یا بس ایک روایتی آنچ کی کسر رہ جائے تو لوگ اسے بالعموم طنز سے تعبیر کرتے ہیں، ورنہ مزاح ہاتھ آئے تو بت، نہ آئے تو خدا ہے۔**[/RIGHT]

خوش گمان

[RIGHT]ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں درندگی، بے ایمانی، سفاکی، بدعنوانی اور حیوانیت عام ہے۔ ہم جس کی مدد کرتے ہیں وہی بری طرح ہمارا استحصال کرتا ہے۔ ہم جسے تربیت پرواز دیتے ہیں، وہ اڑتے ہوئے ہمیں ہی اپنے پنجوں میں جھپٹ لیتے ہیں۔ ایسے میں بندہ خوش گمان کیسے رہ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟[/RIGHT]
(صائمہ اکرم چوہدری کے ناولٹ ’’بات عمر بھر کی ہے‘‘ سے اقتباس)

عزت نفس

[RIGHT]ہمارے مسئلے اور ہماری پریشانیاں بھی راز ہی ہوتی ہیں۔ ان کا دوسروں کے سامنے اشتہار نہیں لگاتے! جو انسان اپنے آنسو دوسروں سے صاف کرواتا ہے وہ خود کو بے عزت کردیتا ہے اور جو اپنے آنسو خود پونچھتا ہے وہ پہلے سے بھی مضبوط بن جاتا ہے۔[/RIGHT]
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)

Re: عزت نفس

:hmmm: ap es agree kerty hein ?

معاوضہ

معاوضہ](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
[RIGHT]**بڑے سالوں کی بات ہے ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔ ’’دعا کریں مجھے کام مل جائے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’تم یقین سے کہتے ہو تمہیں کام کی تلاش ہے؟‘‘
کہنے لگا۔ ’’حد کرتے ہو، پچھلے دو سال سے بیکار ہوں، اگر مجھے کام کی تلاش نہ ہوگی تو کسے ہوگی؟‘‘
میں نے کہا۔ ’’اچھا اگر تمہیں کام مل جائے اور اگر معاوضہ نہ ملے تو پھر؟‘‘
وہ حیران ہوکر میری طرف دیکھنے لگا تو میں نے کہا۔ ’’اچھا اگر تمہیں کام مل جائے اور کام کرنے کی تنخواہ نہ ملے پھر؟‘‘
گھبرا کر کہنے لگا۔ ’’مجھے ایسا کام نہیں چاہئے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو، مجھے نوکری والا کام چاہئے، ایسا کام جس کے دام ملیں۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’اچھا! اگر تم کو تنخواہ ملتی رہے اور کام نہ کرنا پڑے پھر؟‘‘
کہنے لگا۔ ’’سبحان اللہ، ایسا ہوجائے تو اور کیا چاہئے۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’پھر تمہیں کام کی تلاش نہیں، تنخواہ اور معاوضے کی تلاش ہے۔‘‘
اسی طرح ہم خدا کے ساتھ کرتے ہیں، بظاہر عبادت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باطن کسی اور شے کا طلب گار ہوتا ہے۔
(اشفاق احمد از ’’بابا صاحبا‘‘ سے اقتباس)
**[/RIGHT]

Re: عزت نفس

**

کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن اگر کوئی مخلص شخص آپ کا دکھ درد بانٹنے پر تیار ہو تو اس سے اپنا درد شیئر کرسکتے ہیں۔**