Urdu Iqtabasat

Re: Urdu Iqtabasat

[RIGHT]
" تمہارا مسئلہ پتا ہے کیا ہےحیا ؟ تم ایک بات سمجھ نہیں پا رہیں ' کہ تم کسی چیز کی کتنی ہی صفائی کیوں نہ کرلو' اس پہ جالے پھر سے بن جائینگے .. یہ جو تم بار باراسٹرگل کرتے کرتے تھکنے اور اداس ہونےلگتی ہونا 'یہ اسی وجہ سے ہے.. اور یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے .. اس فیز میں یوں بیزار ہو کر بیٹھ نہیں جاتے' بلکہ خود کو منفی رد عمل سے بچاۓ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں.. صبر اسی چیز کا نام ہے..خود کو منفی رد عمل سے روکنا اور مثبت سوچ پہ جماۓ رکھنا.
حیا ! قرآن اور نماز ' یہ دو وہ چیزیں ہیں جو ہر انسان کو اپنے لئے خود ہی کرنا ہوتی ہیں. یہ کبھی کوئی دوسرا آپ کے لئے نہیں کر سکتا.''
[/RIGHT]

Jannat kay pattay

Re: Urdu Iqtabasat

@nizamuddin main dekh raha hon ajj kal tum post nahi kar rahy… :hmmm:

Re: Urdu Iqtabasat

تھوڑی سی مصروفیت ہوگئی تھی اس لئے ٹائم نہیں نکال سکا۔۔۔۔۔

Re: Urdu Iqtabasat

لوگوں کے لئے وہ باہر بہتی بارش کا پانی تھا جس نے میرے گال بھگودیئے تھے۔ اچھا ہی ہے کہ قدرت نے بارش کے پانی یا آنسوؤں میں سے کسی ایک کا رنگ جدا تخلیق نہیں کیا تھا ورنہ شاید میرے لئے جواب دینا مشکل ہوجاتا۔ کاش سبھی رونے والوں کے سروں پر کوئی بادل آکر برس جایا کرتا تو ہم میں سے بہتوں کا بھرم باقی رہ جاتا۔

(ہاشم ندیم کے ناول ’’ایک محبت اور سہی‘‘ سے اقتباس)


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat

**قناعت

[RIGHT]ایک دفعہ ہماری بس جنگل میں جارہی تھی، ہم نے دیکھا کہ ایک ببر شیر ایک ہرن کا شکار کرکے بالکل سڑک کے کنارے اسے تناول کررہا ہے۔ شیر کے ساتھ شیرنی اور اس کے دو بچے بھی تھے۔ شکار اتنا تازہ تھا کہ ہرن ابھی تڑپ ہی رہا تھا اور شیرنی، ہرن کا سینہ چاک کرکے اس کی کلیجی نکال کر اپنے بچوں کو کھلا رہی تھی۔ ڈرائیور نے خاموشی کا اشارہ کرکے بس کھڑی کردی تاکہ ہم سب لوگ یہ تماشا اچھی طرح دیکھ سکیں۔
ہم نے دیکھا، چند قدم کے فاصلے پر ہرنوں کا ایک گلہ اطمینان سے گھاس چررہا تھا۔ میں یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا، میں نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’یہ ہرن ببر شیر کو دیکھ کر بھاگتے کیوں نہیں؟‘‘ تو ڈرائیور بولا۔ ’’آپ کو جنگل کا قانون معلوم نہیں، ایک ہرن کا شکار شیر اور اس کے خاندان کے لئے دو تین دن کے کھانے کا بندوبست ہوگیا۔ اب شیر کسی ہرن کا شکار نہیں کرے گا۔ ہرنوں کو بھی یہ بات معلوم ہے۔ اسی لئے وہ بڑے اطمینان سے شیر کے قریب ہی گھاس چررہے ہیں۔‘‘
میں نے سوچا کہ ہم سے بہتر تو یہ جانور ہیں، ہم انسانوں کا تو پیٹ بھرتا ہی نہیں۔
(’’امیر خسرو جرمنی میں‘‘ از مشتاق اسماعیل)
[/RIGHT]**

Re: Urdu Iqtabasat

**" یہ جاگیر، جائیداد، ذات و پات کے تفاخر انسان سے بہت بڑے بڑے گناہ کروادیتے ہیں _ ایک عمر ہوتی ہے جب جذبات جوان ہوتے ہیں تو ساری دنیا کو ٹھوکر لگانے کو انسان تیار ہوجاتا ہے اور پھر جب وہی جذبات مدھم پڑجاتے ہیں تو راکھ کی چنگاریاں بن جاتے ہیں _ کاش انسان وقت سے پہلے سوچ لیا کرے تو ساری عمر پچھتاوے خواب کا روپ اوڑھ کر کسی کو بھی نہ ستایا کریں " _

"سمیرا شریف طور" کے ناول " ٹوٹا ہوا تارا " کی 36 قسط سے اقتباس

**

Re: Urdu Iqtabasat


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat

**مجھے جب غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا چھلنی بن جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ اس جھکڑ کو گزر جانے دو، اندر رکے نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روکوگے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غصہ کھانے کی نہیں پینے کی چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے بار بار کوشش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی ۔۔۔۔۔۔۔ ضد نہ کرو ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نا ۔۔۔۔۔۔۔ ہار جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہار جانے میں ہی جیت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبھی میں تھکا ہوتا کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اسے ٹالنے کی سوچتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدرت اللہ کہتا دے دو دوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید اللہ کو تمہاری یہی ادا پسند آجائے۔
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’الکھ نگری‘‘ سے اقتباس)

**


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat

**انسان بعض دفعہ اپنی ذات کے بہت سے پہلوؤں سے اس وقت آگاہ ہوتا ہے جب دوسرے اسے دیکھ لیتے ہیں۔ ان کا اس سے واسطہ پڑجاتا ہے، وہ اس پر بات کرنے لگتے ہیں اور تب انسان جیسے شاک کے عالم میں اپنی ذات کے اس پہلو کو دیکھتا ہے۔ حیران ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیسے کرسکتا ہوں؟ میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں؟ لیکن سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال بہت سارے ہوتے ہیں، جواب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب بس ایک ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(عمیرہ احمد کے ناول ’’عکس‘‘ سے اقتباس)

**


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat

**چڑیا، چڑے کی کہانی

ایک تھی چڑیا، ایک تھا چڑا، چڑیا لائی دال کا دانا، چڑا لایا چاول کا دانا، اس سے کھچڑی پکائی، دونوں نے پیٹ بھر کر کھائی، آپس میں اتفاق ہو تو ایک ایک دانے کی کھچڑی بھی بہت ہوتی ہے۔
چڑا بیٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل میں وسوسہ آیا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے روز کھچڑی پکی تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، چوالیس حصے تو لے، اے بھاگوان پسند کر یا نا پسند کر۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر، چڑے نے اپنی چونچ میں سے چند نکات بھی نکالے اور بی بی کے آگے ڈالے۔ بی بی حیران ہوئی بلکہ رو رو کر ہلکان ہوئی کہ اس کے ساتھ تو میرا جنم کا ساتھ تھا لیکن کیا کرسکتی تھی۔
دوسرے دن پھر چڑیا دال کا دانا لائی اور چڑا چاول کا دانا لایا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈیا چڑھائی۔ کھچڑی پکائی، کیا دیکھتے ہیں کہ دو ہی دانے ہیں۔ چڑے نے چاول کا دانہ کھایا، چڑیا نے دال کا دانا اٹھایا۔ چڑے کو خالی چاول سے پیچش ہوگئی، چڑیا کو خالی دال سے قبض ہوگئی۔ دونوں ایک حکیم کے پاس گئے جو ایک بلا تھا۔ اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھیرا اور پھیرتا ہی چلا گیا۔
یہ کہانی بہت پرانے زمانے کی ہے۔ آج کل تو چاول ایکسپورٹ ہوجاتا ہے اور دال مہنگی ہے۔ اتنی کہ وہ لڑکیاں جو مولوی اسماعیل میرٹھی کے زمانے میں دال بگھارا کرتی تھیں، آج کل فقط شیخی بگھارتی ہیں۔
(’’اردو کی آخری کتاب‘‘ از ابن انشا سے انتخاب)
**

Re: Urdu Iqtabasat

محبت
محبت چہروں اور آوازوں سے تھوڑی کی جاتی ہے۔ محبت تو روح سے کی جاتی ہے، دل سے کی جاتی ہے، انسان سے کی جاتی ہے، اس کی خوبیوں سے کی جاتی ہے۔ محبت انسان کی غیر مرئی خصوصیات سے کی جاتی ہے۔ محبت ظاہری چیزوں سے نہیں کی جاتی ہے کیونکہ یہ سدا رہنے والی چیزیں نہیں ہوتیں، یہ تو کبھی بھی کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔
(عنیزہ سید کے ناول ’’جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم‘‘ سے اقتباس)


Restored attachments:

Re: Urdu Iqtabasat

محبت
محبت دنیا کا خوبصورت جذبہ ہے۔ سونا جس طرح تپ کر کندن بن جاتا ہے، اسی طرح محبت جب اپنی خالص ترین شکل میں ڈھلتی ہے تو ’’ممتا‘‘ بن جاتی ہے اور ممتا وہ جذبہ ہے جو کائنات کو متحد رکھنے میں، جوڑنے میں اور اس کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ کام آتی ہے۔
(تنزیلہ ریاض کے ناول ’’عہد الست‘‘ سے اقتباس)


Restored attachments:

Re: شیطانیاں

**تحکم
انسان کو غالباً سب سے زیادہ تحکم کا شوق ہے۔ وہ دوسروں پر کبھی خوشامد، کبھی سزا دے کر اپنی انا کو پہچانتا رہتا ہے۔ تحکم زیادہ ہوتا چلا جائے تو خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ دوسروں کی مرضی پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے مواقع کم ہوں تو احساس کمتری بڑھنے لگتا ہے۔ مذہب، قانون، ماں، باپ، استاد، رسم و رواج، کسی قسم کی بھی اطاعت ہو تو انسان تابع کی حیثیت میں فیصلے کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے فیصلوں کے لئے اپنے اندر کے بجائے باہر کی آواز حق پر اعتماد کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماننے والے پر سے فیصلے کی ذمہ داری اٹھ جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بوجھ کے اٹھتے ہی وہ صاحب اختیار بھی نہیں رہتا اور اسی لئے اپنے پر بھروسہ کرنا اس کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ ترقی کے لئے اپنے فیصلے پر اعتماد کرنا انتہائی اہم ہے۔ اسی خود اعتمادی کے سہارے مغربی معاشرے میں ترقی کا پہیہ جام نہیں ہوتا۔
(بانو قدسیہ کی کتاب ’’حاصل گھاٹ‘‘ سے اقتباس)

**


Restored attachments: