[RIGHT]ہر چند کہ ہمارے گھر میں غربت کا خاصا آنا جانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی ابا نے دل پر جبر کرکے مجھے ایف اے کرا ہی دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری خواہش تھی کہ میں ایم اے کرتا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابا ایم اے کی بجائے ’’ایویں‘‘ میں زیادہ خوش تھے۔ میں نے کئی دفعہ ابا سے کہا کہ مجھے کوئی نوکری کرلینے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ابا کا تو پلان ہی کچھ اور تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر دفعہ جیسے ہی میں نوکری کا ذکر چھیڑتا ۔۔۔۔۔۔۔ ابا کا منہ عالم لوہار جیسا بن جاتا اور آنکھیں حسن جہانگیر جیسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وہ مسلسل ساڑھے تین منٹ مجھے پرانے ماڈل کی نئی گالیاں نکالتے اور بعد میں بڑی عزت سے سمجھاتے کہ ۔۔۔۔۔۔ ’’منحوس! یہ نوکری وغیرہ کی سوچے گا تو نہ خود کھا سکے گا نہ ہمیں کھلائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے کی سوچ ۔۔۔۔۔۔ آگے کی ۔۔۔۔۔۔۔ میں تیری شادی کسی امیر کبیر لڑکی سے کرنا چاہتا ہوں تاکہ تیرے سسرال والے تجھے کاروبار بھی سیٹ کرکے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ان کی بیٹی اور تیرے والدین دونوں سکھی رہیں گے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’سبحان اللہ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ ابا کا پلان سن کر میرے گھٹنوں میں ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے بچا ۔۔۔۔۔۔۔ ’’اے ابا! ۔۔۔۔۔ اتنی امیر لڑکی آخر مجھے ملے گی کیسے ۔۔۔۔۔۔‘‘ میں نے طلعت حسین کے انداز میں بڑا سیریس سوال کیا۔
’’ابے بھری پڑی ہے دنیا ایسی لڑکیوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بس تو دیکھتا جا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کہتا ہے قسمت ہمارے دروازے پر دستک دینے ہی والی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔۔۔!!
میں نے اٹھ کر دیکھا تو ہمیشہ کی طرح ابا کا کہا سچ پایا ۔۔۔۔۔۔۔ رشتے کرانے والی ’’ماسی قسمت‘‘ اندر داخل ہورہی تھی۔
(گل نوخیز اختر کے مزاحیہ ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]
Re: مہربانی قسمت
hasan jahangir ki ankhen kesi hein
Re: مہربانی قسمت
Maasi Qismat ki story bhi likho do... agaye kiya howa?
Re: مہربانی قسمت
hasan jahangir ki ankhen kesi hein
bohat choothi or soji hoe
Re: مہربانی قسمت
Maasi Qismat ki story bhi likho do... agaye kiya howa?
phir to pori book likhna paray gi
Re: مہربانی قسمت
Maasi Qismat ki story bhi likho do... agaye kiya howa?
orr alam lohar kion kaha
bo to itny khobsurat thy
Re: مہربانی قسمت
unse puch rhy hein
![]()
aik novel start kerne na daily one post
muqa voh MADHU LAAL HUSAIN ![]()
کبوتر ۔ ابن انشا کے مضامین سے اقتباس
[RIGHT]کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ یہ آبادیوں میں، جنگلوں میں، مولوی اسماعیل میرٹھی کی کتاب میں، غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں (۱) نیلے کبوتر (۲) سفید کبوتر۔
نیلے کبوتر کی بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ سفید کبوتربالعموم سفید ہی ہوتا ہے۔ کبوتروں نے تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں، شہزادہ سلیم نے مسماۃ مہر النسا کو جب کہ وہ ابھی بے بی نورجہاں تھیں، کبوتر ہی پکڑایا تھا جو اس نے اڑا دیا اور پھر ہندوستان کی ملکہ بن گئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اس سارے قصے میں زیادہ فائدے میں کون رہا؟ شہزادہ سلیم؟َ نور جہاں؟ یا وہ کبوتر؟ رعایا کا فائدہ ان دنوں کبھی معرض بحث میں نہ آتا تھا۔ پرانے زمانے کے لوگ عاشقانہ خط و کتابت کے لئے کبوتر ہی استعمال کرتے تھے۔ اس میں بڑی مصلحتیں تھیں۔ بعد میں آدمیوں کو قاصد بنا کر بھیجنے کا رواج ہوا تو بعض اوقات یہ نتیجہ نکلا کہ مکتوب الیہ یعنی محبوب قاصد سے ہی شادی کرکے بقیہ عمر ہنسی خوشی گزار دیتا۔ چند سال ہوئے ہمارے ملک کی حزب مخالف نے ایک صاحب کو الٹی میٹم دے کر والئی ملک کے پاس بھیجا تھا۔ الٹی میٹم تو راستے میں کہیں رہ گیا۔ دوسرے روز ان صاحب کے وزیر بننے کی خبر اخباروں میں آگئی۔ کبوتر کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا جاتا تو یہ صورت حال پیش نہ آتی۔
(ابن انشا کے مضامین سے اقتباس)
[/RIGHT]
اللہ کا احسان
[RIGHT]ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
Re: اللہ کا احسان
beshak kion k vo STATTARU AYUB (Concealer (of) the mistakes)hein
Re: اللہ کا احسان
[RIGHT]ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔ (نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
Beshak
Re: اللہ کا احسان
[RIGHT]ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے اور اسے اپنا ایک ایک احسان یاد ہے، ہم بھول جاتے ہیں، وہ نہیں بھولتا۔ تم اپنے حل ہوئے مسئلوں کے لئے اس کا شکر ادا کیا کرو جو ساری زندگی تمہارے مسئلے حل کرتا آیا ہے، وہ آگے بھی کردے گا۔ تم وہی کرو جو وہ کہتا ہے، پھر وہ وہی کرے گا جو تم کہتے ہو۔ (نمرہ احمد کے ناول ’’جنت کے پتے‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
app nay kabhi apni zaati zindagi main apny ird gird kissi ko tabahi kay dahany par kahara dekha?
Re: کبوتر ۔ ابن انشا کے مضامین سے اقتباس
^ ISI trained pigeon...
Re: اللہ کا احسان
app nay kabhi apni zaati zindagi main apny ird gird kissi ko tabahi kay dahany par kahara dekha?
تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوا بھی دیکھا اور تباہ ہوتے ہوئے بھی دیکھا۔۔۔۔۔
Re: اللہ کا احسان
[RIGHT]ہر شخص کی زندگی میں ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ تباہی کے دہانے پہ کھڑا ہوتا ہے اور اس کے راز کھلنے والے ہوتے ہیں اور اس وقت جب وہ خوف کے کوہ طور تلے کھڑا کپکپا رہا ہوتا ہے تو اللہ اسے بچالیتا ہے۔ یہ اللہ کا احسان ہے۔
[/RIGHT]
jab koi rah ni dekhti to KHUDA hi hamy
manzil py ly jata hai....
شیطانیاں
[RIGHT]۔ شاعروں کو ضرور شادی کرنی چاہئے، اگر بیوی اچھی مل گئی تو زندگی اچھی ہوجائے گی اور بیوی اچھی نہ ملی تو شاعری اچھی ہوجائے گی۔
۔ دنیا کی وہ عورت جسے آپ ساری زندگی متاثرنہیں کرسکتے وہ بیوی ہے، اور وہ عورت جسے آپ چند منٹوں میں متاثر کرسکتے ہیں، وہ بھی بیوی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر دوسرے کی۔
۔ شاعری، گلوکاری اور اداکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنون لطیفہ میں سے ہے۔
۔ دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں، دوسرے وہ جنہیں لوگ عاشق کہتے ہیں اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں۔
۔ میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے عاشق دراصل ’’آ شک‘‘ ہے کہ وہ اتنا محبوب سے پیار نہیں کرتا جتنا شک کرتا ہے۔
۔ ہمارے ہاں جتنے بھی اچھے عاشق ملتے ہیں وہ کتابوں میں ہیں یا قبرستانوں میں۔
۔ کامیاب عاشق وہ ہوتا ہے جو عشق میں ناکام ہو، کیونکہ جو کامیاب ہوجائے وہ عاشق نہیں خاوند کہلاتا ہے، شادی سے پہلے وہ بڑھ کر محبوبہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنی محبت کے لئے جب کہ شادی کے بعد وہ بڑھ کر بیوی کا ہاتھ پکڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لئے۔
۔ کہتے ہیں عاشق خوبصورت نہیں ہوتے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ عاشق نہیں ہوتے، لوگ ان پر عاشق ہوتے ہیں۔
۔ عاشق ، شاعر اور پاگل ان تینوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ خود کسی پر اعتبار نہیں کرتے۔
۔ اس دنیا میں جس شخص کی بدولت عاشق کی تھوڑی بہت عزت ہے وہ رقیب ہے، جب رقیب نہیں رہتا تو اچھے خاصے عاشق اور محبوب میاں بیوی بن جاتے ہیں۔
۔ میرا دوست ’’ف‘‘ ایک ہی نظر میں عاشق ہوجاتا ہے، کہتا ہے ’’میرے ساتھ کوئی دوشیزہ مخلص نہیں نکلی، جو مخلص نکلی وہ دوشیزہ نہیں نکلی۔‘‘ اس کی کلاس میں تیس لڑکیاں تھیں، ان میں سے ایک لڑکی اس لئے ناراض رہتی کہ وہ اسے توجہ نہ دیتا اور باقی انتیس اس لئے کہ وہ توجہ دیتا۔
۔ شیطان کائنات کا سب سے پہلا صحافی ہے جس نے اللہ تعالی کو خبر دی کہ انسان زمین پر جاکر کیا کرے گا! یہی نہیں وہ پہلا وکیل بھی ہے جس نے آدم کو مشورہ دیا پھل کھالو، پھر کوئی تم سے جنت کا قبضہ نہ لے سکے گا، ہمیشہ کے لئے یہیں رہوگے، اور فیس مشورے میں جنت لے لی۔
اپنی غلطی تسلیم کرنا دراصل خود کو انسان ماننا ہے، کیونکہ وہ صرف شیطان ہے جس نے آج تک اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔ شاید اسی لئے ہم بھی آج کل اپنی غلطی نہیں مانتے۔
(ڈاکٹر یونس بٹ ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]
Re: شیطانیاں
[RIGHT] ۔ شاعری، گلوکاری اور اداکاری کی طرح عشق کرنا بھی فنون لطیفہ میں سے ہے۔ ۔ دنیا میں تین قسم کے عاشق ہیں۔ ایک وہ جو خود کو عاشق کہتے ہیں، دوسرے وہ جنہیں لوگ عاشق کہتے ہیں اور تیسرے وہ جو عاشق ہوتے ہیں۔
[/RIGHT]
bohat umda
Re: شیطانیاں
har shair k 3 matlab hotay hain, aik jo parhnay wala smjhta hai, doosra jo sha'er ka matlb hota hai, aur aik jo shair ka asal matalb hot hai.
dr younu butt, dont remember if it is from shaitanyan or aks br aks.
خط کی اقسام
خط کی کئی قسمیں ہیں۔ سیدھے خط کو خطِ مستقیم کہتے ہیں۔ چونکہ یہ بالکل سیدھا ہوتا ہے اس لئے سیدھے آدمی کی طرح نقصان اٹھاتا ہے۔ تقدیر کے لکھے خط کو خطِ تقدیر کہتے ہیں، جسے فرشتوں نے سیاہی سے لکھا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا مٹانا مشکل ہوتا ہے۔ جس خط میں ڈاکٹر صاحب نسخے لکھتے ہیں اور جو کسی سے پڑھے نہیں جاتے اسے خطِ شکستہ کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل لوگ بیماریوں سے زیادہ نہیں مرتے بلکہ غلط دوائیوں سے مرتے ہیں۔
خط کی دو قسمیں اور بھی ہیں مثلاً حسینوں کے خطوط......... یہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو حسینائیں اپنے چاہنے والوں کے نام لکھتی ہیں، جن میں دنیا کے اُس پار جانے کا ذکر ہوتا ہے جہاں ظالم سماج دو محبت کرنے والوں تک نہ پہنچ سکے۔
دوسرے ’’حسینوں کے خطوط‘‘ یعنی نقش و نگار جن کی بدنمائی چھپانے کے لئے ہر سال کروڑوں روپے کی کریمیں، لوشن، پاؤڈر اور پرفیومز وغیرہ استعمال کرلئے جاتے ہیں۔
(ابنِ انشاء کے مضمون ’’ابتدائی حساب‘‘ سے اقتباس)
Re: خط کی اقسام
ye akhri jumla per to mujhy sakht etraaz hy :halo: