[RIGHT]انسان مشکل ، دکھ، تکلیف بیماری
طرح طرح مصائب سے دوچار ھوتا ھے
کبھی یہ مصائب اللہ کی طرف سے آزمائش ھوتی ھے
اور کبھی تو گناھوں کی سزا ...............................
اب یہ کیسے پتہ چلے کہ ہم پر جو مصیبت ھے یہ ھمارے گناھوں کی سزا ھے ٰٰٰیا اللہ کی طرف سے آزمائش ؟
جو تکلیف بیماری انسان کو اللہ سے دور کردے سمجھ لینی چاھیے کہ وہ ھمارے گناھوں کی سزا ھے جو دنیا میں مل رہی ھیں . .............................
اور اس کے برعکس جو مصیبت تکلیف بیماری انسان کو اللہ کے قریب کرد ے وہ اللہ کی طرف سے آزمائش ھوتی ہیں،کہ اپنےبندہ کو اس طرح تکلیف میں مبتلا کرکے اس کے درجات بلند فرماتا ھے جو اللہ کے قرب کا سبب بنتا ھے
لہذا دکھ تلکیف اور مصیبت آنے پر اپنا محاسبہ کرلینا چاھے
[/RIGHT]
Ok let suppose, agr ek admi ne sari zindagi buraiyaan krtay krtay guzaari, but ab woh death bed pay hai bht buri bemaari ka shikar hai, Allah se qareeb b ho chuka hai or maafi b mangta hai but still woh mazeed bemar hota ja rha hai.. to kya yeh saza hai ya azmaish? ab woh Allah k qareeb b ho gya hai lekin phir b apnay gunahon ki saza b duniya mein he bhugat rha hai?
Ok let suppose, agr ek admi ne sari zindagi buraiyaan krtay krtay guzaari, but ab woh death bed pay hai bht buri bemaari ka shikar hai, Allah se qareeb b ho chuka hai or maafi b mangta hai but still woh mazeed bemar hota ja rha hai.. to kya yeh saza hai ya azmaish? ab woh Allah k qareeb b ho gya hai lekin phir b apnay gunahon ki saza b duniya mein he bhugat rha hai?
پہلے تو ایک بات آپ سمجھ لیں کہ انسان فانی ہے اور بالآخر ایک دن اسے فنا ہونا ہے۔۔۔۔۔۔ بیماری جو انسان کے اوپر آتی ہے اس سے اس کے گناہوں میں کمی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ حتیٰ کہ اگر آپ کو بخار بھی ہے تو اس سے بھی آپ کے گناہوں میں کمی آرہی ہے۔۔۔۔۔۔ اب آپ نے خود ہی فرمایا کہ وہ انسان بستر مرگ پر ہے۔۔۔۔۔۔ جب بستر مرگ پر ہے تو اس کی بیماری کے باعث اس کے گناہوں میں کمی ہورہی ہے اور وہ معافی کا خواستگار بھی ہے۔۔۔۔۔ تو اللہ رب العزت اس کے گناہوں کا کفارہ بیماری کی صورت میں دے رہا ہے۔۔۔۔۔ اب وہ دنیا سے جائے گا تو اپنے گناہوں میں خاطر خواہ کمی لے کر جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ اور جو بیماری ہے وہ اس کی سزا نہیں ہے بلکہ وہ اس کے لئے گناہوں کا کفارہ ہے۔۔۔۔۔
[RIGHT]عشق انسان کو کائنات کے کسی دوسرے حصے میں لے جاتا ہے، زمین پر رہنے نہیں دیتا اور عشق لاحاصل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگ کہتے ہیں انسان عشق مجازی سے عشق حقیقی تک تب سفر کرتا ہے جب عشق لاحاصل رہتا ہے۔ جب انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی دل اور ہاتھ لے کر پھرے۔
ہوتا ہوگا لوگوں کے ساتھ ایسا،
گزرے ہوں گے لوگ عشق لاحاصل کی منزل سے اور طے کرتے ہوں گے مجازی سے حقیقی تک کے فاصلے۔ مگر میری سمت الٹی ہوگئی تھی۔ میں نے عشق حقیقی سے عشق مجازی کا فاصلہ طے کیا تھا۔ مجازی کو نہ پاکر حقیقی تک نہیں گئی تھی۔ حقیقی کو پاکر بھی مجازی تک آگئی تھی اور اب در بہ در پھررہی تھی۔
(عمیرہ احمد کے ناول ’’دربارِ دل‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
اللہ کی رضا
[RIGHT]جب مجھے غصہ آتا تو قدرت اللہ میرے کان میں کہتا۔ ’’چھلنی بن جاؤ، اس جھکڑ کو گزر جانے دو، اندر رکے نہیں۔ روکو گے تو چینی کی دکان میں ہاتھی گھس آئے گا، غصہ کھانے کی نہیں، پینے کی چیز ہے۔‘‘
جب میں کسی چیز کے حصول کے لئے بار بار کوشش کرتا تو قدرت اللہ کی آواز آتی۔ ’’ضد نہ کرو، اللہ کو اجازت دو اپنی مرضی کو کام میں لائے۔‘‘
جب میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا تو وہ کہتا۔ ’’نہ، ہار جاؤ، ہار جاؤ، ہار جانے میں ہی جیت ہے۔‘‘
جب بھی میں تھکا ہوتا، کوئی مریض دوا لینے آتا تو میں اسے ٹالنے کی سوچتا تو قدرت اللہ کہتا۔ ’’دے دو دوا، شاید اللہ کو تمہاری یہی ادا پسند آجائے۔‘‘
(ممتاز مفتی کی کتاب ’’الکھ نگری‘‘ سے اقتباس)
محبت
[RIGHT]محبت وہ شخص کرسکتا ہے جو اندر سے خوش ہو، مطمئن ہو اور پرباش ہو۔ محبت کوئی سہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میں لگالیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ سونے کا تمغہ نہیں کہ سینے پر سجالیا ۔۔۔۔۔۔ پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طرہ چھوڑ کر۔ محبت تو روح ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے اندر کا اندر ۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی جان کی جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کا دروازہ صرف ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنی انا، اپنی ایگو اور اپنے نفس سے جان چھڑا لیتے ہیں۔[/RIGHT]
(اشفاق احمد کے ناول ’’من چلے کا سودا‘‘ سے اقتباس)
عذاب](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
[RIGHT]دنیا میں اس سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں کہ انسان وہ بننے کی کوشش میں مبتلا رہے جو کہ وہ نہیں ہے۔ گو اس خواہش اور اس آرزو کی کوئی حد نہیں ہے۔ ہم لوگ کوشش کرکے اور زور لگا کے اپنے مقصد کو پہنچ ہی جاتے ہیں اور بالآخر وہ نظر آنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جو کہ نہیں ہوتے۔ اپنے آپ کو پہچانو اور خود کو جانو اور دیکھو کہ تم اصل میں کیا ہو۔ اپنی فطرت اور اپنی اصل کے مطابق رہنا ہی اس دنیا میں جنت ہے۔[/RIGHT]
(اشفاق احمد۔ زاویہ ۳، علم فہم اور ہوش سے اقتباس)
[RIGHT]خواب تو وہ ہوتے ہیں جن سے خوشی اور امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھی گئی ان خوشیوں کا نام ہے جو حقیقت میں نہیں ہوتیں۔ خواب تو امید ہوتے ہیں، اچھے وقت کی، اچھے مستقبل کی، اچھی زندگی کی، خواب محبت سے عبارت ہوتے ہیں۔[/RIGHT]
(نمرہ احمد کے ناول ’’میرے خواب میرے جگنو‘‘ سے اقتباس)
حلال حرام
[RIGHT]یاد رکھو! ابھی مغرب والے یہاں تک نہیں پہنچے ۔۔۔۔۔۔ جب ہم سور کا گوشت نہیں کھاتے تو وہ حیران ہوتے ہیں۔ جب ہم بکرے پر تکبیریں پڑھ کر اسے حلال کرتے ہیں تو وہ تعجب سے دیکھتے ہیں۔ جب ہم عورت سے زنا نہیں کرتے، نکاح پڑھ کر اسے اپنے لئے حلال بناتے ہیں تو وہ سمجھ نہیں سکتے ۔۔۔۔۔ بھائی میرے کیسے سمجھیں، حرام حلال کا تصور انسانی نہیں ہے اس لئے ۔۔۔۔ اس میں بھید ہے، گہرا بھید ’’جین میوٹیشن‘‘ کا ۔۔۔۔۔۔ حرام حلال کی حد سب سے پہلے بہشت میں لگائی تھی اللہ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[/RIGHT]
(بانو قدسیہ کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے اقتباس)
عشق
[RIGHT]ہر وقت خدا کے احسانات یاد کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غور کر کہ ہر سانس خدا کی عنایت ہے، یوں دل میں شکر گزاری پیدا ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر تو بے بسی محسوس کرے گا کہ اتنے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بے بسی تیرے دل میں محبت پیدا کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سوچے گا کہ مالک نے بغیر کسی غرض کے تجھے نوازا، تجھ سے محبت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو غور کر کہ اتنی بڑی دنیا میں تو کتنا حقیر ہے۔ سینکڑوں کے مجمع میں بھی تیری کوئی پہچان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی تجھ پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالے گا۔ کسی کو پروا نہیں ہوگی کہ الٰہی بخش بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تیرا رب کروڑوں انسانوں کے بیچ بھی تجھے یاد رکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری ضروریات پوری کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری بہتری سوچتا ہے، تجھے اہمیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان سب باتوں پر غور کرتا رہے گا تو تیرے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس محبت کے ساتھ یہ بھی سوچتا رہے گا تو محبت میں گہرائی پیدا ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر تجھے خدا سے عشق ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[/RIGHT]
(’’عشق کا عین‘‘ از علیم الحق حقی سے اقتباس)
زندگی کی تلخیاں
[RIGHT]زندگی کی تلخیاں آدمی کی زندگی میں وہ ہی حیثیت رکھتی ہیں جو سونے چاندی کو تپانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ تپانے کا عمل جس طرح سونے چاندی کو نکھارتا ہے اسی طرح تلخ تجربات آدمی کی اصلاح کرتے ہیں اور انسانوں میں چمک پیدا کردیتے ہیں، ان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔[/RIGHT]
(صائمہ اکرم چوہدری کے ناولٹ ’’میں ہوں ناں‘‘ سے اقتباس)
حق
[RIGHT]** میں نے انسان کو شہر بساتے اور حق مانگتے دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ جان لو صاحبو! جب کبھی سڑک بنتی ہے اس کے دائیں بائیں کا حق ہوتا ہے، جو مکان شہروں میں بنتے ہیں باپ کے مرتے ہی وارثوں کا حق بن جاتے ہیں۔ میرے ساتھ چلو اور چل کر دیکھو، جب سے انسان نے جنگل چھوڑا ہے اس نے کتنے حق ایجاد کرلئے ہیں۔ رعایا اپنا حق مانگتی ہے، حکومت کو اپنے حقوق پیارے ہیں، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے حق مانگتی ہے، استاد شاگرد سے اور شاگرد استاد سے اپنا حق مانگتا ہے۔
اصلی حق کا تصور اب انسان کے پاس نہیں رہا، کچھ مانگنا ہے تو اصلی حق مانگو ۔۔۔۔۔۔ جب محبت ملے گی تو پھر سب حق خوشی سے ادا ہوں گے، محبت کے بغیر ہر حق ایسے ملے گا جیسے مرنے کے بعد کفن ملتا ہے۔*[/RIGHT]
*(بانو قدسیہ کے ناول ’’راجہ گدھ‘‘ سے اقتباس)
**
مایوسی و ناامیدی
بھلا روز ازل کیا ہوا تھا، لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے لیکن میرا خیال ہے کہ تکبر کا حاصل مایوسی ہے۔ جب ابلیس اس بات پر مصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کرسکتا تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا لیکن جب تکبر ناکامی سے دوچار ہوا تو ابلیس اللہ کی رحمت سے ناامید ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی ناکام ہوئے، وہ بھی جنت سے نکالے گئے لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے، یہی تو ساری بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابلیس نے دعویٰ کررکھا ہے میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کروں گا، ناامید، مایوس لوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا اغوا ممکن نہیں۔ وہ کنویں میں لٹکائے جائیں، صلیب پر لٹکیں، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔
(’’ابن آدم، سامان وجود‘‘ از بانو قدسیہ سے اقتباس)