Re: faraad or makkaar
Sab mard aik jaisay hotay hia… phir yeh kis kisam ka mard Omera Ahmed nay dhondh liya… @Microbian
Re: faraad or makkaar
Sab mard aik jaisay hotay hia… phir yeh kis kisam ka mard Omera Ahmed nay dhondh liya… @Microbian
Re: faraad or makkaar
پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :smack:
Urdu Iqtabasat
[RIGHT]**مرد عورت سے ہمہ وقت محبت نہیں کرسکتا۔ وقفے وقفے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔ اپنی فرصت کے مطابق ۔۔۔۔۔۔ اپنی دہاڑی کے تحت وہ عورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ لیکن عورت سارا وقت توجہ چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت محبت چاہتی ہے۔ یہ بیل پریم جل کے بغیر سوکھنے لگتی ہے اور سنولا کر رہ جاتی ہے۔
(اشفاق احمد۔ ’’من چلے کا سودا‘‘ سے اقتباس)
**[/RIGHT]
Restored attachments:
taaluq
[RIGHT]تعلق تو چھتری ہے۔ ہر جسمانی، ذہنی، جذباتی غم کے آگے اندھا شیشہ بن کر ڈھال کا کام دیتی ہے۔ بے روزگاری، بیماری، غریبی، تنہائی سارے غموں پر تعلق کا ہی پھاہا رکھا جاتا ہے۔ دوستی، رشتہ داری، بہن بھائی، نانا دادا ۔۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ ہر دکھ کی گھڑی میں کندھے پر رکھا ہوا ہمدرد ہاتھ، آنکھ میں جھلملاتی شفقت، ایک میٹھا بول، مسکراتا چہرہ بلڈ ٹرانسفیوشن، اسپرو کی گولی بن سکتے ہیں۔ اسی لئے محبت اندوہ رہا کہلاتی ہے۔ انسان اسی لئے کبھی خدا نہیں بن سکتا کہ اس کی ضرورت دوئی ہے حتی کہ اگر اسے دوسرا نہ ملے تو وہ خدا کو اپنی دوئی کا حصہ بنالیتا ہے۔ انسان کی تنہائی قیامت خیز ہے۔ جونہی اس خلا کو بھرنے والا کوئی آجاتا ہے، انسان اپنی جنت میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے آپ کو مکمل سمجھنے لگتا ہے۔ ساتھ نہ ہو تو زندگی آزاد دوزخ ہے۔
(بانو قدسیہ کے ناول ’’حاصل گھاٹ‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]
achchay aamaal
[RIGHT]*بندے کو اپنے کسی عمل پر پھولنا نہیں چاہئیے۔ اس لیئے کے وہ اس کے رب کی طرف سے ہوتا ہے۔توفیق بھی وہ ہی دیتا ہے۔ قوتِ عمل بھی اس کی دی ہوئی ہے۔ راستہ بھی وہ ہی بناتا ہے۔ اور بندے کے اندر عمل کی تلقین بھی وہ ہی ڈالتا ہے۔ بندے کا تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اچھا عمل کر کے خود پر فخر کر لیا تو سب کچھ تباہ کر لیا۔دوسری بات یہ کے اللہ کے لئے کرو تو اس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ جتنی بھاری قیمت ادا کرو گے عمل اُتنا ہی مقبول ہو گا۔ مگر قیمت ادا کرنے کے بعد کے آداب بھی ہیں۔ قیمت ادا کر کے پچھتائے، افسوس کیا، غم کیا تو سب کچھ ختم،جتنی بڑی قیمت ادا کرو اُتنی ہی خندہ پیشانی سے رہو۔ اللہ کے عام بندوں میں اور خاص بندوں میں یہ ہی فرق ہے۔۔۔۔!!!
(علیم الحق حقی کی کتاب ’’عشق کا شین‘‘ سے اقتباس)
*[/RIGHT]
Re: taaluq
bohat sahi kaha
Toaan -o- karhan
[RIGHT]جب روز قیامت اللہ زمین آسمان کو بلائے گا ۔۔۔۔ تو ہر چیز کھنچی چلی آئے گی ۔۔۔ طوعاً یا کرہاً۔۔۔۔۔ خوشی سے یا ناخوشی سے ۔۔۔۔۔۔ جب ہم اللہ کے بلانے پر نماز اور قرآن کی طرف نہیں آتے تو اللہ ہمارے لئے ایسے حالات بنادیتا ہے، یہ دنیا اتنی تنگ کردیتا ہے کہ ہمیں زبردستی، سخت ناخوشی کے عالم میں آنا پڑتا ہے اور پھر ہم کرہاً بھی بھاگ کر آتے ہیں اور اس کے علاوہ ہمیں کہیں پناہ نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی طرف طوعاً آجاؤ محمل۔۔۔۔۔۔۔! ورنہ تمہیں کرہاً آنا پڑے گا۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
aadam shanaas
[RIGHT]*آدم شناس
بعض لوگ چینی کے برتن کی طرح ٹوٹتے ہیں، کہ مسالے سے آسانی سے جڑ تو جاتے ہیں مگر وہ بال اور جوڑ پہلے نظر آتا ہے، برتن بعد میں۔ اس کے برعکس کچھ ڈھیٹ اور چپکو لوگ ایسے اٹوٹ مادے کے بنے ہوتے ہیں کہ چیونگ گم کی طرح کتنا ہی چباؤ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتے۔ کھینچنے سے کھنچتے ہیں، چھوڑے سے جاتے ہیں سکڑ، آپ انہیں حقارت سے تھوک دیں تو جوتے سے اس بری طرح چپکتے ہیں کہ چھٹائے سے نہیں چھوٹتے۔ رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس سے تو دانتوں تلے ہی بھلے تھے کہ پپول تو لیتے تھے۔ یہ چیونگ گم لوگ خود آدمی نہیں، پر آدم شناس ہیں۔ یہ کامیاب و کامران کامگار لوگ ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے انسانوں کو دیکھا، پرکھا اور برتا ہے اور جب اسے کھوٹا پایا تو خود بھی کھوٹے ہوگئے۔ وقت کی اٹھتی موج نے اپنے حباب کا تاج ان کے سر پر رکھا اور ساعت گزران نے اپنے تختِ رواں پہ بٹھایا۔
اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ کار کے ونڈ اسکرین کی مانند ہوتے ہیں۔ ثابت و سالم ہیں تو سینہ عارف کی طرح شفاف کہ دوعالم کا نظارہ کرلو، اور یکایک ٹوٹے تو ایسے ٹوٹے کہ نہ بال پڑا نہ در، کہ نہ تڑخے۔ یکبارگی ایسے ریزہ ریزہ ہوئے کہ ناعارف رہا، نہ دوعالم کی جلوہ گری، نہ آئینے کا پتا کہ کہاں تھا، کدھر گیا۔ نہ حذر رہا نہ خطر رہا، جو رہی سو بے خبری رہی۔
اور ایک انا ہے کہ یوں ٹوٹتی ہے جیسے جابر سلطانوں کا اقبال یا حضرت سلیمان کا عصا جس کی ٹیک لگائے وہ کھڑے تھے کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ لیکن ان کا قالب بے جان ایک مدت تک اسی طرح استادہ رہا اور کسی کو شبہ تک نہ گزرا کہ وہ رحلت فرما چکے ہیں۔ وہ اسی طرح بے روح کھڑے رہے اور ان کے اقبال اور رعب و دبدبے سے کاروبارِ سلطنت حسبِ معمولِ سابق چلتا رہا۔ ادھر عصا کو دھیرے دھیرے گھن اندر سے کھاتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن وہ چٹاخ سے ٹوٹ گیا اور حضرت سلیمان کا جسدِ خاکی فرشِ زمین پر آرہا۔ اس وقت ان کی امت اور رعیت پر کھلا کہ وہ دنیا سے پردہ فرماچکے ہیں۔
(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’آبِ گم‘‘ کے مضمون ’’حویلی‘‘ سے اقتباس)
*[/RIGHT]
Jail
جیل
[RIGHT]**
گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کو غلطی سے پولیس پکڑ کر لے گئی۔ یاد رہے یہ غلطی میرے دوست کی نہیں پولیس کی تھی، لہٰذا اسے فوراً تین دن بعد چھوڑ دیا گیا۔ مجھے اس کی خوش قسمتی پر رشک آرہا تھا جسے بلاوجہ جیل میں رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ورنہ یہاں جانے کے لئے تو بڑے بڑے لوگوں کو بھی گھنٹوں تقریریں، توڑ پھوڑ، مارکٹائی اور نہ جانے کیا کیا ناپسندیدہ فعل کرنے پڑتے ہیں، پھر کہیں جاکر انہیں جیل جانے کا موقع ملتا ہے۔
لیکن مجھے حیرانی ہوئی کہ لوگ اسے رہا ہونے کی مبارک باد دے رہے ہیں حالانکہ مبارک باد تو اسے اس بات کی دینی چاہئے تھی کہ اب وہ عام آدمی نہیں رہا کیونکہ جیل جانے والا انسانوں کے جم غفیر سے یکدم الگ ہوکر اپنی انفرادیت کا احساس دلاتا ہے۔ جیل جاتے ہی وہ اس قدر اہم ہوجاتا ہے کہ اس کی ملاقات کے لئے کئی کئی سفارشی رقعے لانا پڑتے ہیں، گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، تب کہیں وہ جھروکوں سے جھلک دکھاتا ہے۔ جسے کبھی کسی نے آنکھ بھر کر نہیں دیکھا ہوتا اسے دیکھتے ہی آنکھیں بھر آتی ہیں۔
جیل جانا دراصل شریف ہونا ہے کہ شریف وہ ہوتا ہے جو جرم نہ کرے اور جرم ہمیشہ وہ کرتے ہیں جو جیل سے باہر ہوتے ہیں بلکہ جیل دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں سب سے کم چوریاں، ڈاکے اور قتل ہوتے ہیں۔
یوں بھی اب ہمارے ہاں جیلوں میں اتنی جگہ نہیں، جتنے اس کے مستحق افراد۔ سو اب یہی حل ہے جو چند شریف شہری ہیں انہیں جیلوں میں بند کردیا جائے۔
(ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)**[/RIGHT]
mashiyat-e-ezdi
مشیتِ ایزدی
[RIGHT]تدبیر بھی تقدیر کے آگے سرنگوں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔ مشیتِ ایزدی کے سامنے لبیک کہنا ہی بندگی کا اصل مفہوم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے تمہارے چاہنے، سوچنے یا کرنے سے ہی اگر تمام مسئلے حل ہوسکتے تو پھر خدا کہاں ہے؟ ہم منزل کی سمت قدم بڑھا کر سفر تو شروع کرسکتے ہیں لیکن منزل پالینا ضروری نہیں ٹھہرتا۔ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا ہی منزل کا مفہوم ہے۔[/RIGHT]
(’’کاجل کوٹھا‘‘ از محمد یحییٰ خان سے اقتباس)](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
adeeb log
ادیب لوگ](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)
[RIGHT]**
یوں تو آپس کی روٹھ راٹھ، چھوٹی موٹی ناراضگیاں ہمارے درمیان درجنوں بار ویسے ہی ہوئیں جیسے ہر میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہئے۔ لیکن ہماری اصل بڑی لڑائی ایک بار ہوئی۔ اسلام آباد میں ہم نے اپنے ڈرائنگ روم کے لئے قالین خریدنا تھا۔ میں نے بڑے شوق سے ایک قالین پسند کیا جس کی زمین سفید اور رنگین پھول تھے۔ عفت نے اسے یوں مسترد کردیا جیسے سبزی فروش کو الٹے ہاتھوں باسی پالک، مولی، گاجر اور گوبھی کے پھول لوٹا رہی ہو۔ مجھے بڑا رنج ہوا۔ گھر آکر میں نے سارا دن اس سے کوئی بات نہ کی۔
رات کو وہ کہنے لگی۔ ’’دیکھ تیرا منہ پہلے ہی بڑا گول ہے۔ جب تو ناراض ہوتا ہے تو یہ اور بھی گول مٹول ہوجاتا ہے۔ آج بھلا تو اتنا ناراض کیوں ہے؟‘‘
میں نے قالین کی بات اٹھائی۔
’’قالین تو نہایت عمدہ ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’لیکن ہمارے کام کا نہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’دراصل بات یہ ہے۔‘‘ وہ بولی۔ ’’جن لوگوں کے لئے یہ قالین بنا ہے ان میں سے کوئی ہمارے ہاں نہیں آتا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے تلخی سے دریافت کیا۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اسکول کی استانی کی طرح بڑی وضاحت سے گن گن کر سمجھانے لگی کہ ’’ہمارے ہاں ابن انشا آتا ہے، وہ پھسکڑا مار کر فرش پر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک طرف مالٹے دوسری طرف مونگ پھلی۔ سامنے گنڈیریوں کا ڈھیر۔ جمیل الدین عالی آتا ہے، آتے ہی فرش پر لیٹ جاتا ہے اور سگریٹ پر سگریٹ پی کر ان کی راکھ ایش ٹرے میں نہیں بلکہ اپنے اردگرد قالین پر بکھیرتا ہے۔ ممتاز مفتی ایک ہاتھ میں کھلے پان اور دوسرے ہاتھ میں زردے کی پڑیا لئے آتا ہے۔ اشفاق احمد قالین پر اخبار بچھا کر اس پر تربوز چیرنا پھاڑنا شروع کردیتا ہے۔ ملتان سے ایثار راعی آم اور خربوزے لے کر آئے گا۔ ڈھاکہ سے جسیم الدین کیلے اور رس گلوں کی ٹپکتی ہوئی ٹوکری لائے گا۔ وہ یہ سب تحفے لاکر بڑے تپاک سے قالین پر سجا دیتے ہیں۔ سال میں کئی بار ساٹھ سال کی عمر میں ممتاز حسین شاہ ایم بی اے انگلش کی تیاری کرنے آتا ہے اور فاؤنٹین پین چھڑک چھڑک کر اپنی پڑھائی کرتا ہے۔ صرف ایک راجا شفیع ہے۔ جب کبھی وہ مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ اور تازہ مکھن اپنے گاؤں سے لے کر آتا ہے تو آتے ہی انہیں قالین پر نہیں انڈیلتا بلکہ بڑے قرینے سے باورچی خانے میں جاکر رکھ دیتا ہے۔ کیونکہ نہ وہ شاعر ہے، نہ ادیب، فقط ہمارے دوستوں کا دوست ہے۔‘‘
بات نہایت سچی تھی۔ چنانچہ ہم نے ایک نہایت میل خوردہ قالین خرید کر آپس میں صلح کرلی۔
(قدرت اللہ شہاب کے ’’شہاب نامہ‘‘ سے لیا گیا اقتباس)**[/RIGHT]
Re: mashiyat-e-ezdi
bohat khoob farmaya
Re: mashiyat-e-ezdi
[RIGHT] ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا ہی منزل کا مفہوم ہے
[/RIGHT]
toba
[RIGHT]توبہ
ہم زمانہ جہالیت سے دورِ اسلام میں آکر ایک ہی دفعہ توبہ کرتے ہیں۔ ساری عمر پھر عمل صالح توکرتے رہتے ہیں مگر بار بار کی توبہ بھول جاتے ہیں۔ ہم ایک کھائی سے بچ کر سمجھتے ہیں کہ زندگی میں پھر کوئی کھائی نہیں آئے گی اور اگر آئی بھی تو ہم بچ کر نکل جائیں گے۔ ہم ہمیشہ نیکیوں کو اپنا انعام سمجھتے ہیں اور مصیبتوں کو گناہوں کی سزا۔ اس دنیا میں جزا بہت کم ملتی ہے اور اس میں بھی امتحان ہوتا ہے۔ نعمت شکر کا امتحان ہوتی ہے اور مصیبت صبر کا اور زندگی کے کسی نئے امتحان میں داخل ہوتے ہی منہ سے پہلا کلمہ ’’حطتہ‘‘ کا نکلنا چاہئے مگر ہم وہاں بھی گندم مانگنے لگتے ہیں۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’مصحف‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]
rejection
جب کسی لکھاری کا مسودہ رد کیا جاتا ہے، کسی شاعر کا کلام ناقابل اشاعت قرار دیا جاتا ہے، کسی مصور کی تصویر ریجیکٹ کی جاتی ہے، تب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں تب بھی اتنا دکھ محسوس نہیں ہوتا جتنا اپنی ذات، اپنے وجود کی ریجیکشن پر ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی صورت میں انسان کی ’’تخلیق‘‘ کو رد کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری صورت میں ’’انسان‘‘ کو دھتکارا جاتا ہے۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’سانس ساکن تھی‘‘ سے اقتباس)
ehsasaat
احساسات
وہ شخص جو اپنے احساسات کو کسی شکل میں پیش کرکے دوسرے ذہن پر منتقل کرسکتا ہے وہ دراصل اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی قدرت کا مالک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ شخص جو محسوس کرتا ہے مگر اپنے احساس کو خود آپ اچھی طرح نہیں سمجھتا اور پھر اس اضطراب کو بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اس شخص کے مترادف ہے جو اپنے حلق میں ٹھنسی ہوئی چیز کو باہر نکالنے کی کوشش کررہا ہے مگر وہ گلے سے نیچے اترتی جارہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک ذہنی عذاب ہے جس کی تفصیل لفظوں میں نہیں آسکتی۔
(سعادت حسن منٹو کے افسانے ’’انقلاب پسند‘‘ سے اقتباس)
yaqeen-e-kaamil
[RIGHT]مشکلیں حل ہوجایا کرتی ہیں، راستے بھی نکل آتے ہیں، بس انسان کا یقین مضبوط ہونا چاہئے۔انسان کو یہ اعتماد اور بھروسہ ضرور ہونا چاہئے کہ اللہ ہے اور اس کے ساتھ ہے، مشکلیں وہی حل کرے گا، راستے وہی بنائے گا۔ وہاں جہاں انسان اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتا وہاں کوئی اور ہے جو اس کے لئے سب کچھ کرسکتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں صرف اللہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ جو ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ کبھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ کبھی آپ کو نہیں بھولتا۔ وہ آپ کے ساتھ رہتا ہے، ہمیشہ آپ کا ساتھ دیتا ہے۔ وہ دیتا ہے۔ دیتا ہے بے شمار، بے حساب! آپ کے ناشکرے پن کے باوجود بھی دیتا رہتا ہے۔ وہ گنتا نہیں ہے، احسان نہیں جتاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں پر آزماتا ضرور ہے اور اس کی بھیجی ہوئی آزمائشوں میں کھرا اترانا آسان نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر یقین مضبوط ہو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا مشکل بھی نہیں ہوتا۔[/RIGHT]
(سحرش بانو کے ناول ’’ساتھ دل کے چلے‘‘ سے اقتباس)
shahi sawari
شاہی سواری
[RIGHT]انہیں اس گھوڑے سے پہلی نظر میں محبت ہوگئی ۔ اور محبت اندھی ہوتی ہے، خواہ گھوڑے سے ہی کیوں نہ ہو۔ انہیں یہ تک سجھائی نہ دیا کہ گھوڑے کی مدح میں اساتذہ کے جو اشعار وہ اوٹ پٹانگ پڑھتے پھرتے تھے، ان کا تعلق تانگے کے گھوڑے سے نہیں تھا۔ یہ مان لینے میں چنداں مضائقہ نہیں کہ گھوڑا شاہی سواری ہے۔ رعبِ شاہی اور شوکتِ شہانہ کا تصور گھوڑے کے بغیر ادھورا بلکہ آدھا رہ جاتا ہے۔ بادشاہ کے قد میں گھوڑے کے قد کا اضافہ کیا جائے تب کہیں وہ قدِ آدم نظر آتا ہے لیکن ذرا غور سے دیکھا جائے تو شاہی سواری میں گھوڑا دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس لئے کہ بادشاہوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مستقل اور دلپسند سواری درحقیقت رعایا ہوتی ہے۔ یہ ایک دفعہ اس پر سواری گانٹھ لیں تو پھر انہیں سامنے کوئی کنواں، کھائی، باڑھ اور رکاوٹ دکھائی نہیں دیتی۔ جوشِ شہ زوری و شہ سواری میں نوشتہ دیوار والی دیوار بھی پھلانگ جاتے ہیں۔ یہ نوشتہ دیوار اس وقت تک نہیں پڑھ سکتے جب تک وہ Braille میں نہ لکھا ہو جسے وہ اپنا دربار سمجھتے ہیں، وہ دراصل ان کا محاصرہ ہوتا ہے جو انہیں یہ سمجھنے سے قاصر رکھتا ہے کہ جس منہ زور سر شور گھوڑے کو صرف ہنہنانے کی اجازت دے کر بآسانی آگے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسے وہ پیچھے سے قابو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ لگام کے بجائے دم مروڑتا ہے۔ مگر اس بظاہر مسکیں سواری کا اعتبار نہیں کہ یہ ابلق لقاسد ایک چال نہیں چلتی : اکثر یہ بدرکاب بنی اور بگڑ گئی۔[/RIGHT]
(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ’’آبِ گم‘‘ سے اقتباس)
Re: yaqeen-e-kaamil
Great words :k:
But Ek cheez jo mujhy hamesha confuse krti hai..
Insan ko kaise pata chalay k jis phase se woh guzar rha hai woh us ki azmaish hay ya saza ??
Re: yaqeen-e-kaamil
[RIGHT]انسان مشکل ، دکھ، تکلیف بیماری
طرح طرح مصائب سے دوچار ھوتا ھے
کبھی یہ مصائب اللہ کی طرف سے آزمائش ھوتی ھے
اور کبھی تو گناھوں کی سزا …
اب یہ کیسے پتہ چلے کہ ہم پر جو مصیبت ھے یہ ھمارے گناھوں کی سزا ھے ٰٰٰیا اللہ کی طرف سے آزمائش ؟
جو تکلیف بیماری انسان کو اللہ سے دور کردے سمجھ لینی چاھیے کہ وہ ھمارے گناھوں کی سزا ھے جو دنیا میں مل رہی ھیں . …
اور اس کے برعکس جو مصیبت تکلیف بیماری انسان کو اللہ کے قریب کرد ے وہ اللہ کی طرف سے آزمائش ھوتی ہیں،کہ اپنےبندہ کو اس طرح تکلیف میں مبتلا کرکے اس کے درجات بلند فرماتا ھے جو اللہ کے قرب کا سبب بنتا ھے
لہذا دکھ تلکیف اور مصیبت آنے پر اپنا محاسبہ کرلینا چاھے
[/RIGHT]