Urdu Iqtabasat

Re: خط کی اقسام

app nay iss main say konsa khat likh chukay hian.... ?

Re: خط کی اقسام

خط ویسے بھی مختلف قسم کے ھو سکتے ھیں جیسے داڈھی کا خط
ڈاک والا خط
اور خط جدّی (if I am not wrong Tropic of Cancer, equator etc)

خوف

[RIGHT]ہماری خوشیوں کی سب سے بڑی دشمن یہی ’’اندر‘‘ کی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے۔ ہم جسے ’’کوئی‘‘ کہہ کو خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ ’’کوئی‘‘ ہمارے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہوا خوف ہوتا ہے۔ اردگرد کے انسانوں کا خوف، اپنے سے برتر انسانوں کا خوف، اپنے سے کمتر انسانوں کا خوف، ناکامی کے بوجھ سے خائف لرزتے دل کا خوف، آنکھوں کی اوٹ سے جھانکتے تاسف کا خوف، طعنوں کا خوف، ہمدردی کی آڑ میں رگِ جاں کو آری کی طرح کاٹتے فقروں کا خوف، واہ واہ سمیٹ کر ایک اونچی مسند پر پہنچ نہ پانے کا خوف اور کبھی کبھی اس مسند پر پہنچ کر عزت و ستائش کے مہین لبادے میں لپٹی اس ’’واہ واہ‘‘ کے گر کر چکنا چور ہوجانے کا خوف، پابندیوں سے جکڑے اس معاشرے کا خوف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں، اس معاشرے کا خوف۔ کوئی ایسا نہ کہہ دے، کوئی ویسا نہ کہہ دے، کوئی دیکھ نہ لے، کسی کو پتا چل گیا تو؟ میرے دل کو بھی ایسے ہی خوف لاحق رہا کرتے تھے تب ہی میرا’’اندر‘‘ میری بڑبڑاہٹ کو دبا کر ’’سب اچھا ہے‘‘ کی گردان کرنے پرمجبور کردیتا تھا۔
(تنزیلہ ریاض کے ناول ’’من شر ما خلق‘‘ سے اقتباس)[/RIGHT]

taaluq

[RIGHT]تعلق تو چھتری ہے، ہر جسمانی، ذہنی، جذباتی غم کے آگے اندھا شیشہ بن کر ڈھال کا کام دیتی ہے۔ بے روزگاری، بیماری، غریبی، تنہائی، سارے غموں پر تعلق کا ہی پھایا رکھا جاتا ہے، دوستی، رشتہ داری، بہن بھائی، نانا، دادا ۔۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ ہر دکھ کی گھڑی میں کندھے پر رکھا ہوا ہمدرد ہاتھ، آنکھ میں جھلملاتی شفقت، ایک میٹھا بول، مسکراتا چہرہ بلڈ ٹرانسفیوشن، اسپرو کی گولی بن سکتے ہیں۔ اسی لئے محبت اندوہ ربا کہلاتی ہے۔ انسان اسی لئے کبھی خدا نہیں بن سکتا کہ اس کی ضرورت دوئی ہے، حتیٰ کہ اگر اسے دوسرا نہ ملے تو وہ خدا کو اپنی دوئی کا حصہ بنالیتا ہے۔ انسان کی تنہائی قیامت خیز ہے۔ جونہی اس خلا کو بھرنے والا کوئی آجاتا ہے، انسان اپنی جنت میں پہنچ جاتا ہے اور اپنے آپ کو مکمل سمجھنے لگتا ہے۔ ساتھ نہ ہو تو زندگی آزاد دوزخ ہے۔[/RIGHT]
(بانو قدسیہ کے ناول ’’حاصل گھاٹ‘‘ سے اقتباس)](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)


Restored attachments:

Re: خط کی اقسام

[QUOTE]
app nay iss main say konsa khat likh chukay hian.... ?
[/QUOTE]

حسینوں کے خطوط۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا ہا

مونچھیں تراشنا - ڈاکٹر محمدیونس بٹ کے قلم س

[RIGHT]مونچھیں تراشنا ایک مشکل فن ہے کہ بندہ ساری زندگی یہ کام کرنے کے بعد بھی اس میں ماہر نہیں ہوتا۔ البتہ وہ متحمل مزاج اور متوازن شخصیت کا مالک ضرور ہو جاتا ہے کہ مونچھیں تراشنا جلد باز اور انتہا پسند شخص کے بس کا روگ نہیں۔ مونچھیں تراشنے والا تو جیب تراش کی طرح ہوتا ہے کہ ذرا سی غلطی ہو جائے، دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔

شروع میں جب انسان کے پاس سر چھپانے کو جگہ نہ تھی، قدرت نے اس کے سر پر بالوں کا جنگل اگا دیا جس میں وہ چھپ گیا۔ جب وہ عمر کے اس حصے میں پہنچا جہاں اسے منہ چھپانے کی ضرورت پیش آئی تو یہ جنگل پھیل کر اس کے چہرے تک آ گیا۔ پھر جب اس نے گارے اور پتھر کی دیواریں اوڑھیں تو وہی بال جنہیں وہ خود کو چھپانے کے لئے استعمال کرتا تھا انہیں تراش کر خود کو نمایاں کرنے کے لئے استعمال کرنے لگا۔ یوں انسانی تہذیب کی بنیاد اس دن پڑی جس روز پہلے انسان نے اپنے بال تراشے۔ شاید اسی لئے ہمارے ہاں ہر نئے پیدا ہونے والے بچے کو اس مہذب دنیا کا ممبر بنانے کے لئے سب سے پہلے ایک خصوصی تقریب میں اس کے بال ہی تراشے جاتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں آج کے انسان اور جانور میں بس یہی فرق رہ گیا ہے کہ انسان بال تراشتا ہے، جانور نہیں۔

بچپن، معصومیت اور جوانی اس سے بغاوت کا نام ہے۔ جب کہ بڑھاپا اس بغاوت کی سزا ہے۔ شاید اسی لئے جب بچہ معصومیت کی "حدود" پھلانگتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے قابل ہوتا ہے تو قدرت اس کے چہرے پر ناک کے نیچے بالوں کی ایک سیاہ لائن لگا دیتی ہے بلکہ ناک تو بنائی ہی مونچھوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے۔ یہ لائن اتنی پکی ہوتی ہے کہ آپ ساری زندگی استرا ہاتھ میں رکھیں پھر بھی اسے نہیں مٹا سکتے، لیکن میرا دوست "ف" کہتا ہے "مونچھیں احتجاجی بینر ہیں جو ہم نے بچپن چھن جانے کے خلاف چہروں پر لٹکا رکھے ہیں۔" حالانکہ اس کی مونچھیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ یہ بینر اس کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کا چہرہ اس بینر پر لٹکایا ہوا ہے۔ کہتا ہے "مچھ نہیں تو کچھ نہیں۔" واقعی اس کی مچھ نہ ہوتی تو کچھ نہیں رہتا۔ ذرا سی ہوا چلے تو اس کی مونچھیں یوں پھڑپھڑانے لگتی ہیں جیسے کوئی پرندہ وزنی چیز اٹھانے کی کوشش میں ہو۔ دور سے دیکھو تو لگتا ہے جیسے اس نے سیاہ کپڑے میں منہ لپیٹ رکھا ہے۔ جب اس کی مونچھیں چھوٹی چھوٹی تھیں تو وہ انہیں اپنے ہاتھ سے گھی اور مکھن کھلاتا۔ اب تو ماشا اللہ اتنی بڑی ہو گئی ہیں کہ یہ کام خود ہی کرنے لگی ہیں۔ اس لئے وہ کھانا کھاتے وقت مونچھیں یوں اٹھائے ہوتا ہے جیسے سہرا اٹھا کر کھانا کھا رہا ہو۔ محلے میں کوئی شرارت کرئے تو سزا کے طور پر اس کا منہ چومتا ہے۔ یہاں تک کہ نومولود پیدائش کے وقت نہ روئے تو فوری طور پر اس کا چہرہ دکھاتے ہیں۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ موصوف میں مونچھیں تراشنے کی صلاحیت نہیں، کہتا ہے، "مونچھیں تراشنے کے لئے صلاحیت کی نہیں بس قینچی کی ضرورت ہوتی ہے۔" اسے کون بتائے کہ اس کام کے لئے قینچی اتنی ضروری نہیں ہوتی جتنی عقل۔ بڑی مونچھیں تو بدمعاشی کا داخلہ فارم ہیں کیونکہ بے ترتیب مونچھوں والا دنیا میں کہاں ترتیب لائے گا۔ وہ امن پسند نہیں ہو سکتا۔

مونچھیں چہرے کا لباس ہیں، شاید اسی لئے عورتوں کی نہیں ہوتیں۔ مونچھیں تراشنا لباس کو ماحول، مرضی اور مزاج کے مطابق ڈھال کر پہننے کے قابل بنانے کا نام ہے۔ جیسے بچوں کی ساری شخصیت ان کی آنکھوں میں اور عورتون کی دیکھنے والوں کی آنکھوں میں سمٹ آتی ہے۔ ایسے ہی مرد کی پوری شخصیت ان کی مونچھوں کی بناوٹ میں ہوتی ہے۔ یہ مردوں کا شناختی کارڈ ہیں۔ انہیں دیکھ کر یہ پتہ چلے نہ چلے کہ یہ کیا کرتا ہے، یہ ضرور پتہ چل جاتا ہے کہ کیا کرنا چاہتا ہے۔

ہمارے ہاں مونچھ بلوغت کی علامت ہے اور داڑھی بلاغت کی۔ مونچھ کی علیحدہ حیثیت اور شخصیت تو حکومت بھی مانتی ہے۔ جسم کے کسی اور حصے کا الاؤنس اس وقت ملتا ہے جب وہ نہ رہے اور مونچھ الاؤنس اس وقت جب یہ چہرے پر موجود ہو۔ مونچھ مرد کا زیور ہے۔ گاؤں میں تو مونچھیں منڈوا کر پھرنے سے بےپردگی ہوتی ہے۔ بڑے بوڑھے سخت برا مناتے ہیں۔ کیونکہ ان کی نظریں اتنی کمزور ہو چکی ہوتی ہیں کہ انہوں نے مونچھیں دیکھ کر ہی یہ اندازہ لگانا ہوتا ہے کہ آیا ہے یا آئی ہے۔ اور تو اور جب تک مونچھ نہ ہو کوئی پنجابی فلم نہیں بن سکتی۔ پہلے تو اردو فلموں میں بھی اس کی ضرورت پڑتی تھی اور وہ ہیرو کے ناک کے نیچے یوں لیٹی ہوتی جیسے کسی اہم سطر کو کالی پنسل سے انڈر لائن کیا گیا ہے۔

درخت زمین کے چہرے پر اُگے بال ہیں جو گھنے ہو کر جنگل کی صورت میں زمین کی مونچھیں بناتے ہیں۔جن سے ڈر کر ہوائیں اس علاقے میں مٹی نہیں اڑاتیں اور مٹی سبز چادر اوڑھ کر سامنے آتی ہے۔ بادل ان کے خوف سے اوپر سے گزرتے گزرتے پسینہ پسینہ ہو جاتے ہیں اور جب ان مونچھوں کو تراش لیا جائے تو یہ پارک اور باغ بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی چہرے کی مونچھیں تراشنے کے بعد نہ صرف آپ کے چہرے پر بلکہ دیکھنے والے کے چہرے پر بھی ملائمت آ جاتی ہے۔

مونچھیں آپ کے بُرے وقت کی ساتھی ہیں، آپ کسی کی گردن نہیں مروڑ سکتے تو اپنی مونچھیں مروڑ کر غصہ نکال سکتے ہیں۔ آپ پریشان ہیں، کسی کا انتظار کر رہے ہیں تو ان پر ہاتھ پھیرکر وقت گزار لیں۔ آپ کو باغبانی کا شوق ہے تو مونچھوں کی پرورش اور کانٹ چھانٹ کر کے اپنا شوق پورا کر سکتے ہیں۔ مونچھیں تو مردوں کا ایکسلریٹر ہیں، اس لئے وہ لڑنے سے پہلے مونچھوں کو بل دیتے ہیں

مونچھیں تراشنا میری پسندیدہ ان ڈور گیم ہے۔ اس کھیل میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بندہ اپنی مرضی سے کسی بھی وقت اکیلا کھیل سکتا ہے۔ مگر یہ بچوں کا کھیل نہیں کیونکہ یہ ہار اتنی مہنگی ہے کہ ہارنے والے کو ہفتوں منہ چھپائے رہنا پڑتا ہے۔ اس لئے تو مقابلوں میں بڑی سے بڑی شرط یہی لگائی جاتی ہے کہ ہار گیا تو مونچھیں منڈوا دوں گا۔ شاید اسی لئے شادی کے بعد اکثر لوگ مونچھیں صاف کروا دیتے ہیں۔ میں تو بڑا ڈرتے ڈرتے مونچھوں کو قینچی لگاتا ہوں اور ڈرنے میں برائی ہی کیا ہے؟

مونچھیں تراشنا دراصل توازن برقرار رکھنے کا نام ہے۔ دنیا میں پہلی کلین شیو اس دن ہوئی جب مونچھیں تراشنے والے سے ایک مونچھ چھوٹی ہو گئی اور دوسری بڑی۔ بڑی کو چھوٹی کرنے کی کوشش کی تو چھوٹی بڑی ہو گئی اور یوں ہوتے ہوتے کلین شیو ہو گئی۔ میں جب دنیا کی بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں قینچیاں دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں۔ کیونکہ ایک بار ہٹلر نے توازن بگاڑا تھا تو مونچھ سکڑ کر مکھی مونچھ ۔بن گئی تھی۔ اگر اب توازن بگڑ گیا تو پھر دنیا کو کلین شیو ہونے سے کوئی نہ بچا سکے گا
[/RIGHT]

mazeed himaqatain

بلّو کی منگنی ھونے والی ھے۔ میں نے چھیڑا کہ بلّو کا منگیتر پبلشر ہے ، اس لیے انگوٹھی پر "جملہ حقوق محفوظ ہیں" ضرور لکھوائیں
حمّو تو تمھیں یاد ہو گی۔ اس کی شادی پر ہم سب لوگ گئے تھے۔ سنا ہے کہ لڑکے نے اعتراض کیا کہ نہ تو رسوم ادا کی جائیں اور نہ باجا گاجا ہو۔ خاموشی سے سب کچھ ہو جائے۔ توبہ کیسا ہونق لڑکا ہوگا۔ شادی ہو رہی ہے یا کوئی چوری کر رہے ہیں۔ ولایت سے ابھی ابھی آیا ھے، اس لیے دماغ درست نہیں ہے۔ لیکن کون سنتا ہے۔ رسمیں ساری ہوئیں - مانجھے بٹھانا، کنگنا باندھا، مہندی لگانا، مسالہ پسوانا، پانی بھروانا۔ تمہیں خوشی ہو گی کہ مہر تین لاکھ مقرر ہوا ہے اور ڈیڑھ ہزار روپے جیب خرچ لکھا گیا ہے۔ حمّو کتنی خوش نصیب ہے۔ باقی کی رسمیں بھی ادا کی گئیں۔ چوتھی کھیلنا، دلہن کی جوتی دولہا کے کندھے پر لگانا،آرسی مصحف کرنا، دولہا کے سر پر بہنوں کا آنچل ڈالنا، دولہا کو زعفران کے بہانے مرچیں کھلا دینا، دولہا کے جوتے چرا لینا، پھر دولہا کو الٹی چارپائی سے گرا دینا، اس کی شیروانی پلنگ سے سی دینا، میراثنوں کا بیہودہ گانے گانا، بڑا لطف رہا۔ دولہا بھی ایک چغد نکلا۔ جنم نہ دیکھا بوریا سپنے آئی کھاٹ۔ سنا ہے کہ نکاح کے فوراً بعد کہیں فرار ہو گیا۔ بڑی مشکلوں سے ڈھونڈ کر لائے۔ پتہ نہیں آج کل کے لڑکے کیسے ہو گئے ہیں۔ یہی رسومات تو قوموں کے زندہ رہنے کی نشانیاں ہیں۔ دولہا نے مہر میں بھی مین میخ نکالی کہ بیس ہزار کا جو جہیز لڑکی کو دے رہے ہیں یہ اپنے پاس رکھئے اور تین لاکھ کی رقم کم کر کے مہر کو اور کچھ نہیں تو دو لاکھ اسّی ہزار ہی کر دیجیے۔ لاحول ولا قوۃ
(شفیق الرحمٰن کی "مزید حماقتیں" سے اقتباس)

Re: mazeed himaqatain

Dulha bhi aik chugad nikla… :rotfl: yehi rasoomat to qomon kay zinda rehnay ki nishaniyan hian…

bohat say dukh

بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں، وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑتا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے، اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
(فرحت اشتیاق کے ناول ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ سے اقتباس)


Restored attachments:

taee taee fish

[RIGHT]ٹائیں ٹائیں فش
میں نے اٹھ کر دیکھا تو ہمیشہ کی طرح ابا کا کہا سچ پایا ۔۔۔۔۔ رشتے کرانے والی ’’ماسی قسمت‘‘ اندر داخل ہورہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
’’اے بیٹے اچھا ہوا جو تو مل گیا ۔۔۔۔۔ بڑی شاندار خبر لائی ہوں آج تو ۔۔۔۔۔‘‘
’’شاندار خبر ۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے تیرے خاوند کی ڈیوٹی پھر سے رات کی ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔۔‘‘ ابا نے چارپائی پر لیٹے لیٹے ہانک لگائی اور ماسی کے دانتوں تلے سپاری مزید تیزی سے ریزہ ریزہ ہونے لگی۔ اس نے دانت پیستے ہوئے بات ان سنی کی اور میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’نوراں کدھر ہے؟‘‘
میں نے آواز دی ۔۔۔۔۔ ’’اماں۔۔۔۔ ماسی آئی ہے۔‘‘
’’آرہی ہوں‘‘ ۔۔۔۔۔ اماں نے سیڑھیوں کے نیچے قائم ’’ٹو اِن ون‘‘ باورچی خانے سے آواز لگائی۔ ٹو ان ون میں نے اس لئے کہا ہے کہ خورد و نوش کے فرائض سے نمٹنے کے بعد اکثر یہ باورچی خانہ بطور غسل خانہ بھی استعمال ہوتا تھا۔ سامنے والے حصے کی طرف چارپائی کھڑی کرلی جاتی تھی۔ ابا نے جدید غسل سے لطف اندوز ہونے کے لئے انوکھا طریقہ نکال رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔ وہ سرکاری پانی کی ٹونٹی کے ساتھ ٹیوب لگادیتے اور دوسرا سرا غسل خانے والی چارپائی کے بان میں سے نکال دیتے ۔۔۔۔۔۔ یوں ہر دفعہ وہ تازہ شاور لیتے تھے۔ سردیوں کے دنوں میں ہم اکثر دوپہر کو نہاتے تھے کیونکہ پانی بہت ٹھنڈا ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔ تاہم ابا پانی کی بالٹی بھر کر دھوپ میں رکھ دیتے ۔۔۔۔۔ ان کا مشاہدہ تھا کہ پانی اس طرح سے بھی گرم کرکے نہایا جاسکتا ہے۔
اماں ماسی قسمت کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
’’اے بہن ۔۔۔۔۔ بڑی خاص خبر لائی ہوں۔۔۔۔۔‘‘ ماسی نے ابا کا جملہ آنے کے ڈر سے نہ صرف آواز آہستہ رکھی بلکہ جملے میں بھی خاطر خواہ تبدیلی کرلی۔
’’میری کمیٹی تو نہیں نکل آئی ؟؟‘‘ اماں نے غربت کا عالمی مظاہرہ کیا۔۔۔!!
’’اے نہیں ۔۔۔۔۔۔ اس سے بھی بڑی خبر ہے۔۔۔۔۔‘‘ ماسی نے عینک درست کرتے ہوئے کن اکھیوں سے ابا کی طرف دیکھا جو چارپائی کی ادوائن میں پھنسے لاپرواہی سے ہاتھ ہلاتے ہوئے نورجہاں کا گیت پٹھانے خان کی آواز میں گانے کی کوشش کررہے تھے۔
’’خالی خبر ہے یا خوشی کی خبر ہے؟‘‘ ۔۔۔۔۔ اماں نے یکدم چونک کر پوچھا۔
’’اے ہے ۔۔۔۔۔ اللہ خیر کرے خوشی کی خبر ہے ۔۔۔۔۔‘‘ ماسی نے اپنی مسکراہٹ چھپائی اور اماں کے حلق سے طویل سانس نکل گئی۔
’’تو بتاؤ پھر۔۔۔‘‘
ماسی نے کچھ لمحے توقف کیا ۔۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ میں بظاہر سائیکل کا چمٹا صاف کررہا تھا لیکن میرے تمام ’’حواس ضروریہ‘‘ اسی طرف تھے۔
’’بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ فریدہ کی بیٹی نے ۔۔۔۔۔ بی اے کرلیا ہے۔ آج اس کا نتیجہ تھا ۔۔۔۔ پورے کالج میں فشٹ آئی ہے۔‘‘
’’تو پھر ؟؟‘‘ اماں نے قہر آلود نظروں سے ماسی کو گھورا ۔۔۔۔۔!!!
’’پھر کیا ۔۔۔۔۔۔ لڑکی بہت اچھی ہے ۔۔۔۔ باپ بھی فیکٹری میں فورمین ہے ۔۔۔۔۔۔ لوگ بھی بہت شریف ہیں۔‘‘
’’تو ہم کیا دہشت گرد ہیں ۔۔۔۔۔‘‘ اماں کڑکی۔
’’نن ۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔ میں نے یہ کب کہا ۔۔۔۔۔۔ میں تو کہہ رہی تھی کہ اپنا کمالا پتر بھی بڑا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔‘‘
’’اچھا ۔۔۔۔۔ تو رشتہ لے کر آئی ہے ۔۔۔۔۔۔‘‘ اماں ساری بات سمجھ گئی ۔۔۔۔۔ اور میں بھی سمجھ گیا کہ اب کیا ہوگا ۔۔۔۔۔ اماں ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔ ابا کے کانوں تک آوازیں تو نہیں پہنچی تھیں تاہم اماں کے اٹھنے کا ایکشن دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ سبزی میں کچھ کالا ہے ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے فوراً اپنے گیت کو لگام دی اور ہمہ تن چوکنے ہوگئے۔
’’بات سن ۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے لڑکے کا رشتہ ایرے غیروں میں نہیں کرنا ۔۔۔۔۔۔ دوبارہ اس سلسلے میں آنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔ کمالے کا رشتہ ہم جیسے بڑی ذات کے راجپوتوں میں ہوگا۔‘‘ اماں نے گردن اکڑائی۔
’’راج ۔۔۔۔۔ پوت ۔۔۔۔۔‘‘ بے اختیار میرا ہاتھ سائیکل کی گھنٹی سے پھسل گیا ۔۔۔۔۔۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ ابا نے بتایا تھا، ہم شیخ ہیں ۔۔۔۔۔۔ ابا کی چارپائی میرے قریب تھی ، میں نے سرگوشی کی ۔۔۔۔۔ ’’ابا ۔۔۔۔۔ کیا ہم راجپوت ہیں؟؟‘‘
’’کیا کہا ۔۔۔۔۔ جن بھوت ہیں۔۔۔۔‘‘ ابا چونکے ۔۔۔۔۔’’ابے ہوش کر ۔۔۔۔ اس غریب گھر میں جن بھوت کہاں سے آگئے، یہاں سے تو چڑیلیں بھی پردہ کرکے گزرتی ہیں۔‘‘
’’جن بھوت نہیں ابا ۔۔۔۔ راج پوت ۔۔۔۔۔ راجپوت ۔۔۔۔۔ کیا ہم راجپوت ہیں؟‘‘ میں نے زچ ہوکر ابا کے کان کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔
’’یہ کس نے کہا؟‘‘ ابا سیدھے ہوئے۔
’’اماں کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہ اپنی جگہ ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔‘‘ ابا نے سر ہلایا۔
’’دیکھ نوراں ۔۔۔۔۔ رشتہ بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔ ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘ ماسی قسمت نے آخری کوشش کی۔
’’ماسی ۔۔۔۔ رشتہ نکلے نہ نکلے ۔۔۔۔ تو ضرور نکل جا ۔۔۔۔۔ ورنہ میرا دماغ چل گیا تو ۔۔۔‘‘ اماں نے چپل اٹھالی۔
ماسی نے تمام تر خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا برقعہ سمیٹا ۔۔۔۔۔۔ میری طرف دیکھ کر پان کی پیک زور سے زمین پر تھوکی ۔۔۔۔۔ اور منہ بناتی ہوئی چلی گئی۔
(گل نوخیز اختر کے ناول ’’ٹائیں ٹائیں فش‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]

Re: bohat say dukh

drust...islye is ayat ko zehan mein rakhna chahye

"aur tum apney Rab ki kin kin nematon ko jhutlaogay"

Re: bohat say dukh

sahi keh rhi hein

Re: bohat say dukh

sadaqAllahul azeem :)

Re: bohat say dukh

Shouldn’t we take life as life? Bumps and smooth rides are two flavor journey. Passenger takes both during his travel. You can not think only bumps, when ride is smooth, enjoy that moment. and be thankful.

rishto ki ahmiyat

[RIGHT]چیزیں حیثیت نہیں رکھتیں، انسان بھی نہیں رکھتے، اہم ہوتے ہیں رشتے۔ جب ہم سے چیزیں چھین لی جائیں تو دل ڈوب ڈوب کے ابھرتا ہے۔ مگر جب رشتے کھو جائیں تو دل ایسا ڈوبتا ہے کہ ابھر نہیں سکتا، سانس تک رک جاتی ہے، پھر زندگی میں کچھ اچھا نہیں لگتا۔
(نمرہ احمد کے ناول ’’پارس‘‘ سے اقتباس)
[/RIGHT]


Restored attachments:

Re: rishto ki ahmiyat

Insaan ki bhi ahmiat hoti hia.. Insan nahi hongay to rishty teel lainay jain gain…

faraad or makkaar

جو مرد کسی عورت سے یہ کہتا ہے کہ وہ اس کے لئے اپنے آپ کو بدل دے گا، اس سے بڑھ کر فراڈ اور مکار کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنے مذہب کے لئے اپنی پارسائی برقرار نہیں رکھ سکتا، جو شخص اپنے خاندان کی عزت اور نام کے لئے اپنی آوارگی پر قابو نہیں پاسکتا، جو اپنے ماں باپ کے پڑھائے ہوئے تمام سبق بھول کر پستی کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے، جو خود اپنی نظروں میں اپنا احترام اور عزت باقی رکھنے کی پرواہ کئے بغیر عیاشی کرتا ہے، وہ کسی عورت کے لئے خود کو کیا بدلے گا۔
(عمیرہ احمد)


Restored attachments:

aashiq

**عاشق](http://www.urduinc.com/AdbiCorner)

**
[RIGHT]دوسرے کو پریشان کرنے کے دو ہی طریقے ہیں، یا تو اس کی ناکامیوں کا ذکر کرو جو اس میں ہیں یا اس کی ان خوبیوں کا ذکر کرو جو اس میں نہیں ہیں۔
اور عاشق یہی کرتا ہے۔ وہ محبوب کا نقشہ کھینچ رہا ہو تو لگتا ہے محبوب کی کھنچائی کررہا ہے۔ جیسے ناگن زلفیں، یعنی بالوں کی جگہ لٹکتے ہوئے سانپ۔ چاند چہرہ، یعنی چاند کی طرح گڑھوں اور داغ دھبوں والا۔ پھر ہرنی جیسی چال، یعنی چوپایوں کی طرح چلنا۔ شاید وہ اسی لئے کہتا ہے کہ اس کے محبوب جیسا پوری دنیا میں کوئی نہیں۔
عاشق نے ہمیشہ محبوب کو ملزم سمجھا۔ اس پر اپنے اسپیئر پارٹس کی چوری کا الزام ، دل، جگر، نیند وغیرہ کی گمشدگی کا پرچہ بھی محبوب کے نام کٹوایا۔ یہاں تک کہ اسے سرعام قاتل کہا۔
عورت کے لئے اس شخص کو محبت کا یقین دلانا جس سے محبت نہیں کرتی، اس شخص کی نسبت آسان ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔
عشق میں عورت نے ہر قسم کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اس کا نام ہمیشہ مردوں سے پہلے آیا جیسے سسی پنوں، ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، لیلیٰ مجنوں وغیرہ۔
مرد کم ہی چوٹی کے عاشق گزرے ہیں۔ اکثر عورتیں ہی عاشق ہوتی ہیں۔
دولت سے محبت نہیں ملتی اور غربت سے محبوبہ نہیں ملتی۔
سب سے قیمتی عاشق فلموں میں ملتے ہیں کیونکی عشق کرنے سے انہیں محبوبہ نہیں معاوضہ ملتا ہے۔، شاید اسی لئے وہ سچا عشق کرتے ہیں۔
[/RIGHT]
(ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب ’’شیطانیاں‘‘ سے اقتباس)

Re: aashiq

bohat khoob

Re: faraad or makkaar

sachi or bilkul sahi bat hai....