بس بهول جاتا ہوں

سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے

تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جا تی ہے
ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے

محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کسی نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے

محبت میں جو ڈوبا ہوا سے ساحل سے کیا لینا
کسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے

بہت لہروں کو پکڑ ا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے
یہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے

صدائیں ایک سی، یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یا د رہتا ہے

میں کس تیزی سے زندہ ہوں ،میں یہ تو بھول جاتا ہوں
نہیں آنا ہے دنیا میں دوبارہ یاد رہتا ہے

Re: بس بهول جاتا ہوں

wahhh baiee :lajawab:

ye shayar waqay hi meitna acha hai :hmmm: jhoot to nahi bol raha ??

Re: بس بهول جاتا ہوں

محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کسی نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے

yaad na rehy to acha :bummer:

Re: بس بهول جاتا ہوں

Ap shayerk khilaf kyu hain:p

Re: بس بهول جاتا ہوں

Ap so jayen

Re: بس بهول جاتا ہوں

me kion :e6:

ap :hayaa: :eek:

Re: بس بهول جاتا ہوں

Hame kuch log sony nai dety

Re: بس بهول جاتا ہوں

:cb: hamy ko konsa farq perta

na dandon soton ka aser na dhool ka nend ho to esi
YA ALLAH mujhy b de

Re: بس بهول جاتا ہوں

بہت خوب ۔۔۔ زبردست۔۔۔ واہ