Re: Our History?
[RIGHT]کیا صلیبی جنگوں میں عربوں اور کردوں کو فتح اسلام کی بدولت ہوئی؟جب ازمنہ وسطیٰ میں یورپ اور مشرق وسطیٰ صلیبی جنگوں کے نام پر باہم مقابل ہوئے تو یورپ اس وقت مکمل مسیحی اعتقادی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا جبکہ مشرق وسطیٰ مادی، سائنسی اور جنگی تکنیک پر انحصار کیے ہوئے تھا.دونوں کی نوعتیں متضاد تھیں.یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا جبکہ ترکوں،کردوں اور عربوں کے پیچھے ایک مضبوط علمی و تمدنی روایت تھی.یورپ کا انحصار دعاؤں، پادریوں کی شعلہ بیاں جذباتی تقریرں پر تھا جبکہ مسلمان اس عہد کی جنگی ٹیکنالوجی ، جدید ہتھیاروں، اور جنگ لڑنے کی ماہرانہ تزویرات کو بروئے کار لا رہے تھے.یورپ کا اعتقاد صرف خداوند،اور اس صلیب کی برکت پر تھا جسے وہ صلیب المصلوب سمجھ کر میدان جنگ میں اٹھائے پھرتے تھے جبکہ مسلمان جرنیل مادی سروساماں کا بہتر سے بہتر استعمال کر رہے تھے. یورپ والوں کو صرف معجزوں کے ظہور کا انتظار تھا جبکہ مسلمان بہترین حربی چالوں کو برت رہے تھے.معروف فرانسیسی صلیبی مجاھد ژواین ویل کی سرگزشت سے کچھ اقتباسات پیش کر رہا ہوں تاکہ اس صورت حال کو بہتر طور سمجھا جا سکے.
ژواین ویل ایک جگہ لکھتا ہے کہ؛
" جب مصری فوج نے منجنیقوں کے زریعے آگ کے بان پھینکنے شروع کیے تو ہم فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سواء کچھ نہ تھا بالکل بے بس ہوگئے.ایک رات جب ہم ان برجیوں ،جو دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئیں تھیں، پر پہرا دے رہے تھے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جیسی پٹریری Petrary کو لا کر نصب کر دیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے.یہ حال دیکھ کر میرے لارڈ والٹر نے جو ایک اچھا نائٹ تھا ہمیں یوں مخاطب کیا؛ "اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آ گیا ہے کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگا دی تو ہم بھی ان برجیوں کے ساتھ جل کر راکھ ہو جائیں گے.لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ ہم انکی حفاظت پر معمور کیے گئے ہیں.اب ایسی حالت میں خداوند کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جونہی مسلمان آگ کے بان چلائیں ہمیں چاہیے کہ ہم گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ منجی رحمت خداوند سے دعا مانگیں کہ ہماری مدد کرے".
"چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے.یہ بان اتنے بڑے تھے جیسے شراب کے پیپے اور آگ کا شعلہ ان سے نکلتا تھا جس کی دم نیزے کی مانند لمبی ہوتی.جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں.اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی جیسے کوئی آتشیں اژدھا ہوا میں اڑ رہا ہو.اس کی روشنی نہایت تیز تھی.چھاؤنی کے تمام حصے اس طرع اجالے میں آجاتے جیسے دن نکل آیا ہو".اس کے بعد وہ فرانس کے شہنشاہ لوئس نہم کے بارے میں لکھتا ہے؛
"ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت بادشاہ سنتا تھا تو بستر سے اٹھ کر کھڑا ہو جاتا اور روتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہمارے نجات دہندہ سے التجائیں کرتا؛ اے میرے مہربان مولیٰ میرے آدمیوں کی حفاظت کر.میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے بادشاہ کی ان دعاؤں نے ہمیں فائدہ پہنچایا ہوگا".لیکن ژواین ویل کو فائدے کا یہ یقین خوش اعتقادانہ وہم کے سوا کچھ نہ تھا. کیونکہ کوئی دعا بھی سودمند نہ ہوئی تھی اور بالآخر آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا.لیکن یہ حال تو گیارہویں صدی کا تھا.سات صدیوں بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورت حال یکسر الٹ چکی تھی.اب بھی دونوں فریقوں کے متضاد خصائص اسی طرع نمایاں تھے جس طرع صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے.البتہ اب دونوں نے اپنی اپنی جگہ بدل لی تھی جو جگہ پہلے مشرق وسطیٰ کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا.
اٹھارویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مرادبک نے جامعہ ازہر کے علماء کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی کہ جامعہ ازہر میں صیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے کہ مقاصد کے حصول کے لیے تیربہدف ہے.چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ابھی صیح بخاری کا ختم ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا.
اسی طرع انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارہ کا محاصرہ کیا تو امیر بخارہ نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھا جائے.ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کرتی چلی آرہی تھیں، ادھر اہل بخارہ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے یا مقلب القلوب یا محول الاحوالہ کے نعرے لگا رہے تھے.جبکہ درحقیقت دعا صرف ترک عمل کا حیلہ ہے.
پانی پت کے میدان میں سراج الدولہ کی ڈیڑھ لاکھ تیغ بکف فوج بیس ہزار برطانوی فوجیوں کے ھاتھوں شکست کھا گئی.کیونکہ جب برطانوی فوجیوں کی توڑے دار بندوقوں سے گولی نکلتی تو مسلمان فوجی اپنی تلواریں، نیزے، بھالے چھوڑ یوں بھاگتے جیسے ایک بھیڑیے کے آگے بھیڑوں کا ریوڑ بھاگتا ہے.یہاں بھی بنگال کی مسجدوں میں پڑھی جانے والی قضائے حاجات کی نمازوں نے کوئی فائدہ نہ دیا.
تاج برطانیہ کی فوج جب بنگال کے بعد ریاست اودھ کی طرف بڑھی تو آخری نواب واجد علی شاہ نے ریاست کی تمام امام بارگاہوں میں دعائے کمیل اور حدیث کساء کے دورے کا حکم دیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
گیلی پولی کے میدان میں عظیم ترک سلطنتِ اسلامیہ کی فوج کو اتحادیوں کے ھاتھوں شکست فاش ہوئی.کیونکہ ان کا انحصار جدید جنگی وسائل پر نہیں بلکہ اس خوش اعتقادی میں تھا کہ اسلامی خلافت تاقیامت قائم رہے گی.حتیٰ کہ ترک یہ بار خلافت امام مہدی کے سپرد نہ کر دیں.
65 کی جنگ کے دوران اخباروں میں ایسی بکثرت اطلاعات آتیں کہ پاکستان کی مدد کے لیے فرشتوں کی فوج آئی تھی جو سبز لباس میں گھوڑوں پر سوار ہوتی.بہت سے لوگوں نے اس فوج کو دیکھنے کا دعویٰ بھی کیا.کچھ لوگوں نے لاہور کے محاذ پر داتا گنج بخش کو بھی دیکھا جو بھارتی بمباروں کے پھینکے گئے گولوں کو کیچ کر رہے تھے.اسی عقیدہ پرستی کے ساتھ ہم نے 71 کی جنگ لڑی اور آدھا ملک گنوا دیا.پوسٹ کی طوالت زیادہ تفصیلات کی متحمل نہیں ہو سکتی وگرنہ تاریخ ایسی مثالوں سے اَٹی پڑی ہے.اور آج اس واقعے کے تیتالیس سال بعد بھی ہماری زہنی پستی،بے عملی،خوش فہمی،اور فکری دیوالیہ پن کا وہی عالم ہے.آج بھی نسیم حجازی مارکہ مورخ ہمیں یہ جتلانے میں لگے ہیں کہ مسلمان صلیبی جنگوں میں اس لیے فاتح رہے کہ انکا اعتماد الہی مدد پر تھا جبکہ فرنگیوں کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا.آج بھی ہر مسئلے کا ایک ہی سبب بیان ہوتا ہے کہ ہم دین سے دور ہوگئے.آج بھی ہر دکھ درد کا ایک ہی تریاق پیش کیا جاتا ہے کہ چودہ صدیاں ماقبل کی بدوی حمیت کو اپنا لیا جائے تو دنیا ہمارے سامنے سرنگوں ہوجائے گی.جبکہ مادی اسباب اور زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے والوں کے لئے عقیدہ محض تنکے کا سہارا ہوتا ہے، جو مکافات کے سمندر میں ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا.
Written by Ahmad Sagheer - Pakistani freethinkers[/RIGHT]