آج کے دن ہم گيارہ ستمبر 2001 کے واقعے ميں دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو ياد کرتے ہيں اور ان ہيروز کو خراج تحسين پيش کرتے ہيں جنھوں نے بہادری کے ساتھ اس روز کئ جانيں بچائيں۔ اس روز ان کی جرات برائ کے مقابلے ميں امريکی عوام کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اس روز ہمارا ملک زخمی ہوا تھا، آج کے روز ہم دنيا کو يہ باور کرواتے ہيں کہ دہشت گردی کبھی بھی امريکہ کو شکست نہيں دے سکتی۔
يہ دن ہميں اس سانحے کی بھی ياد دلاتا ہے جب ليبيا کے شہر بن غازی ميں امريکی وزارت خارجہ کے دو اہلکاروں سميت چار امريکی شہری دہشت گرد حملے ميں ہلاک ہوۓ تھے۔ ان کا نقصان ہميشہ ہمارے دلوں پر بوجھ رہے گا۔
ہماری نيک خواہشات اور دعائيں ان کے ساتھ ہيں جن کے عزير واقارب دہشت گردی کی بھينٹ چڑھ گۓ۔ ہم پرتشدد عناصر کو روکنے کے ليے پرعزم ہيں جو معصوموں پر حملوں کے ساتھ ساتھ ان کی منصوبہ بندی اورسہولت کاری ميں ملوث ہيں۔
British & American true agent & puppet
Asli Yahoodi Bani Terrorist JI
Anti Pakistan & Pakistan movement
Pakistan ka har qabal e zikar leader Pakistan main mara
CIA ka agent US main mara
Hussain Haqqani ka naam lainy say apni oqat dekho… insani tareekh main aesa pehli vari howa kay jamati londa… insan bana… ji han yeh Hussain Haqqani ka hi jamal hia… jisny badboodar aur galeez jamat ko chor kar insaan bana…
Jamation aur bilkhosos tum jaisay londoon kay dulha bhai… osama jaisay aalmi dehshat gardon ko unkay anjam tak pohanchiay…
aap ne ghalat farmaya. OBL in ka dulha bhi nahin haybal ke pir-o-murshid hay. in ka dulha bhai Mumtaz Qadri hay jis ne governor Punjab ka qatal kya tha.
What happened at 9/11 was terrible and unacceptable. Let history also remember that in response over 100K innocent lost their lives at the hands of American forces in Afghanistan and Iraq. Woh bhi insaan thay, collateral damage nahin.
امريکی حکومت نے کبھی بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے ليے جاری عالمی کوششوں کے ضمن میں کبھی بھی کوئ بے گناہ شہری ہلاک نہيں ہوا ہے۔ کسی بھی مسلح تنازعے کے ضمن ميں جانی نقصان ايک تلخ حقيقت ہے اور اس تلخ حقيقت کا اطلاق تاريخ کی ہر جنگ پر ہوتا ہے۔
امريکی قيادت ميں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی کوششيں بھی اس اصول سے مبرا نہيں ہيں۔
بعض راۓ دہندگان کی راۓ سے يہ تاثر ابھرتا ہے کہ جيسے امريکی حکومت دانستہ اس طرح کے واقعات کے ليے ذمہ دار ہے۔
معاملے کو درست تناظر ميں سمجھنے کے لیے گزشتہ دو دہائيوں کے دوران عراق اور افغانستان کی جنگوں کے دوران ان امريکی اور اتحادی فوجيوں کی ہلاکت کے حوالے سے ايک سرسری جائزہ پيش ہے جو مختلف “فرينڈلی فائر” واقعات ميں اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے۔
يقینی طور پر کوئ بھی يہ دعوی نہيں کر سکتا کہ امريکہ اپنے سب سے قيمتی اثاثوں يعنی کہ اپنے فوجيوں کو دانستہ نشانہ بنا کر انھيں ہلاک کرے گا۔
وہ بے رحم قاتل اور دہشت گرد جو دانستہ ايک پاليسی کے تحت نہ صرف يہ کہ معصوم لوگوں کو اپنا نشانہ بناتے ہيں بلکہ انھيں ڈھال کے طور پر بھی استعمال کرتے ہيں، وہ آپ کی مذمت کے اصل حقدار ہيں۔ کسی بھی تنازے ميں بے گناہ افراد کی ہلاکت يقینی طور پر ايک سانحہ ہے اور اس پر اظہار افسوس بھی لازمی ہے۔ امريکی فوج بے گناہ افراد کی جانوں کے تحفظ کے لیے طے شدہ قواعد و ضوابط کو بھی ملحوظ رکھتی ہے اور اس ضمن ميں ہر ممکن احتياط بھی برتی جاتی ہے۔ جيسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ بے گناہ افراد کی ہلاکت کی صورت ميں امريکی، نيٹو اور پاکستانی افواج کو کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ اس کے برعکس دہشت گردوں کی حکمت عملی کا بنيادی نقطہ ہی يہ ہے کہ زيادہ سے زيادہ بے گناہ افراد کو ہلاک کيا جاۓ۔**
**
چاہے وہ سلالہ کا واقعہ ہو يا کوئ بھی سانحہ جس ميں امريکی اقدامات کی وجہ سے انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہو، ہم نے ہميشہ اپنی ذمہ داری قبول بھی کی ہے، اظہار افسوس بھی کيا ہے اور ايسے اقدامات بھی اٹھاۓ ہيں جن سے مستقبل ميں ايسے سانحوں سے بچا جا سکے۔
اس کے برعکس کيا آپ نے ان دہشت گرد تنظيموں کے کسی ترجمان کی جانب سے کبھی کوئ ايسا بيان بھی سنا ہے جس ميں اپنی مبينہ مذہبی جنگ کی پاداش ميں بے گناہ افراد کی ہلاکت پر اظہار افسوس يا پيشمانی کا اظہار کيا گيا ہو۔
I dont care what these terrorist say, they are despicable but you have to hold yourself to a higher moral level, you have missed the main point the response of killing so many innocents is also unacceptable and after so much bloodshed by the American forces Taliban is still there, Iraq is a mess so what have the Americans achieved. Remember the invasion of iraq was based on a lie of WMD, or if your security agencies thought that they were there than it was a total failure of their intelligence sources. Either way innocent lives in their thousands were lost, still are being lost and American forces are nowhere near to eliminating Taliban in afghanistan. Pakistan has paid a very heavy price as well. yet Pakistan is asked to do more. Time for America to do more and try and eliminate the taliban after 15 years instead of pointing their finger at others for their utter failure there.
افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو ناکامی سے تعبير کرنے سے پہلے کچھ حقائق کا جائزہ لے ليں۔
سال 2001 ميں افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ سے پہلے ملک ايک ايسی جابرانہ حکومت کے زير تسلط تھا جس نے نا صرف يہ کہ تمام عالمی براداری کے مطالبات کو يکسر نظرانداز کر ديا تھا بلکہ سرکاری سطح پر دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظيم کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے علاوہ انھيں ہر قسم کا تعاون اور مدد بھی فراہم کی تھی۔ ايک ايسی تنظيم جس کا سربراہ دنيا کے تمام اہم شہروں ميں 911 جيسے دہشت گرد حملوں کی دھمکياں دے رہا تھا۔ دنيا بھر ميں دہشت گردی کے خفيہ سيلوں کی موجودگی کے حوالے سے حقيقی خطرات اور خدشات موجود تھے۔
آج اس دہشت گرد تنظيم کی وقعت اور صلاحيت اتنی محدود ہو چکی ہے کہ اس کے بچے کچھے کارندے دنيا کو دھمکياں دينے کی بجاۓ اپنی جانيں بچانے کے ليے بھاگتے پھر رہے ہيں۔ القائدہ کی دو تہائ سے زائد قيادت جو 911 کے وقت دھمکياں جاری کر رہی تھی اور نئ بھرتياں کرنے کے ليے مہم جاری رکھے ہوئ تھی، آج گرفتار يا ہلاک ہو چکی ہے جس ميں دنيا کا سب سے زيادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن بھی شامل ہے۔
اس تنظيم کی موجودہ قيادت کی جانب سے جو بھی بيانات سامنے آۓ ہيں ان سے بھی يہ واضح ہے کہ يہ تنظيم اب صرف اپنی حيثيت برقرار رکھنے کے ليے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔
اگر آپ القائدہ کے نقطہ نظر سے ديکھيں تو يہ حقائق ايسے نہيں ہيں کہ جن کی بنياد پر افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو “شکست” قرار ديا جا سکتا ہے۔
افغانستان میں آج لاکھوں افغان ووٹروں کی مرضی سے ايک فعال جمہوری حکومت قائم ہے اور وہاں کے شہريوں نے دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے اليکشن کے بائيکاٹ کی اپيل کو يکسر نظرانداز کر کے عام انتخابات ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا تھا۔
اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ خطے ميں پائيدار امن کو يقینی بنانے کے ليے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اس ضمن ميں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ اور پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ تمام فريقين کے ليے بدستور سب سے بڑا چيلنج ہے۔ تاہم افعان معاشرے نے عمومی طور پر يہ طے کر ليا ہے کہ جس متشدد سوچ نے برسوں سے انھيں عذاب ميں مبتلا کر رکھا ہے، اس کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہونا وقت کی اہم ترين ضرورت ہے، اور يہ شعور سب سے بڑی فتح ہے۔
آج ہم اس خطے ميں اپنے ٹيکس دہندگان کے کئ بلين ڈالرز ترقياتی منصوبوں کی مد میں افغانستان اور پاکستان کے عام لوگوں کے معيار زندگی کو بہتر بنانے پر صرف کر رہے ہيں تا کہ صحت، تعليم اور بنيادی ڈھانچے کی بحالی جيسے اہم شعبوں ميں مثبت تبديلی لائ جا سکے۔
افغانستان اور فاٹا ميں جاری ترقياتی منصوبوں کے حوالے سے يو ايس ايڈ کے اعداد وشمار پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی خطے کے عوام کے ساتھ ہماری طويل المدت وابستگی اور اس دعوے کی نفی ہو جاتی ہے کہ خطے ميں ہماری موجودگی علاقوں پر قبضے جمانے کی کوشش ہے۔
جہاں تک بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کا سوال ہے تو ميں واضح کر دوں کہ سياسی، سفارتی اور فوجی لحاظ سے بے گناہ شہريوں کی ہلاکت سے امريکہ کو کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ امريکی اور اتحادی افواج بے گناہ شہريوں کے تحفظ کو يقینی بنانے کے ليے ہر ممکن قدم اٹھاتی ہيں۔ اس کے برعکس دہشت گردوں دانستہ نا صرف يہ کہ شہريوں کو نشانہ بناتے ہيں بلکہ حکمت عملی کے تحت عوامی مقامات کو ہدف بناتے ہيں تا کہ زيادہ سے زيادہ جانی نقصان کے ذريعے اپنی بربريت اور دہشت کی دھاک بٹھا سکيں