پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ، گومل زام ڈیم سے آبپاشی کے لئے پائلٹ ٹیسٹ کے پہلے مرحلے کے دوران پانی کو نہر میں چھوڑا گیا جس سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع ڈی آئ خان اور ٹانک کے لوگوں کو براۓ راست فائدہ پہنچے گا۔ تین دیگر نہروں پر کام بھی زير تعمیر ہے۔
حکومت امریکہ نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یوایس ایڈ) کے توسط سے کثیر المقاصد گومل زام ڈیم منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے ۹۷ ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں واقع یہ ڈیم ۲۷۰۰۰۰ لوگوں کو بجلی مہیاکرتا ہے، زندگیوں کیلئے خطرہ بننے والے تباہ کن سیلابوں سے تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ علاقے کے گھروں اور کسانوں کیلئے پانی ذخیرہ کرنے کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔
گومل زام ڈیم اس وقت۱۴۰۰۰۰ ہیکٹر میٹر پانی ذخیرہ کرتا ہے جس سےموسمی سیلاب کے خطرے سے دوچار ڈیرہ اسمٰعیل خان اورٹانک کے علاقوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس ڈیم سے ۷۷۰۰۰ایکڑ زرعی اراضی کو آبپاشی کیلئے پانی ملےگاجس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گےاور خطےمیں لگ بھگ ۳۰ ہزار کاشتکار خاندانوں کی آمدنیوں میں اضافہ ہوگا۔
امریکی محکمہ زراعت کے تعاون سے اراضی کو زرخیز بنانے سے متعلق سمپوزیم
اسلام آباد (۴ فروری، ۲۰۱۵ء)__ امریکی محکمہ زراعت نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے ساتھ ملکر پاکستان میں زرعی اراضی کو زرخیز بنانے سے متعلق سرکاری اور نجی شعبے کے پچاس تکنیکی ماہرین کے ایک سمپوز یم کا انعقاد کیا۔ یہ سمپوزیم پاکستان کے کاشتکاروں کے لئے کھاد کے استعمال کی افادیت کو بہتر بنانے کی مسلسل کاوش کا ایک حصہ ہے۔
سمپوز یم سے خطاب کرنے والے مہمان مقررین میں امریکی محکمہ زراعت کے قومی رہنما برائے زمینی وسائل ڈاکٹر طامس رینچ اور زرعی زمین کی زرخیزی سے متعلق امریکی محکمہ زراعت کے معروف زرعی ماہر اور کاشتکار مائیکل کیوسیرا شامل تھے۔ ڈاکٹر طامس جو پہلے بھی پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں، نے اپنے خطاب میں کہا کہ زمین کی زرخیزی کو بہتر بنانے اور پاکستان کے کاشتکاروں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لئے مناسب انتظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے بہت سے باکفایت اور آسان طریقے موجود ہیں جنہیں پاکستانی کاشتکار اختیار کرسکتے ہیں جبکہ کاشتکاروں اور کھاد تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان وسیع تر اشتراک کے قومی امکانات بھی موجو دہیں۔
ایک روزہ سمپوزیم میں کاشتکاروں کے لئے زمین کی زرخیزی سے متعلق متوازن نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جس کے تحت کاشتکار کھاد کے استعمال کے لئے چار طریقے اختیار کرتے ہوئے کھاد کی درست قسم، درست مقدار، درست وقت اور درست مقام کا تعین کرسکتے ہیں۔ ان چار طریقوں کو اختیار کرکے کاشتکار اپنے لاگت کم اور پیداوار بڑھا سکتے ہیں، جس سے ان کے منافع میں بہتری آئے گی اور کھاد کے زائد استعمال سے ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کو بھی کم کیا جاسکے گا۔ سمپوزیم میں زیر غور آنے والے اہم موضوعات میں نائٹروجن، فاسفورس اور مائیکرو نیوٹرنٹس کے مناسب استعمال کا احاطہ کیا گیا۔
پاکستان کی معیشت میں زراعت کے شعبے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں ۲۱ فیصد حصہ ہے اور یہ شعبہ کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت زرعی پیداوار کی صلاحیت میں بہتری، معاشی اہداف کے حصول اور غذائی سلامتی کی ضروریات کوپورا کرنے میں معاونت کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ اس منصوبے اورامریکی محکمہ زراعت کی دیگر سرگرمیوں کے لئے بھی امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) سے فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں
You are allowed any “discussion” here, but this is not place to “share” information. The thread will be closed in few days if no ‘point to discuss’ is presented as per policy.
یو ایس ایڈ پاکستان کو مکئی کے بیجوں کی پیداوار میں خود کفیل بنائے گا
امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹر جولی چین اور وزیر برائےقومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے مکئی کی پیداوار سے متعلق آج ایک قومی ورکشاپ کا افتاح کیا۔ ورکشاپ میں مکئی کے ان نئے بیجوں کی کارکردگی اجاگر کی گئی جو یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والے ایگریکلچرل انوویشن پروگرام (اے آئی پی) کے تحت گذشتہ سال بیس پاکستانی زرعی تحقیقی ادارں اور زرعی بیجوں کی پاکستانی کمپنیوں کو نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر میں فراہم کئے گئے تھے۔ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام سے پاکستان میں مکئی کے معیاری ہائیبرڈ بیج کی پیداوار تیزی سے پھیلی ہے۔
یو ایس ایڈ کے فنڈز سے چلنے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام پچاس ہائیبرڈ اور اوپن پولینیٹڈ مکئی کی اقسام جو پاکستان کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہیں، کی نشاندہی کے لئے پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (پی اے آر سی) کے ساتھ ملکر کام کررہا ہے۔ مکئی کے بیجوں کی یہ اقسام خشک سالی اور موسم کی حدت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کی گئی ہیں، جن سے غذائیت (مزید پروٹین، پروٹامن اے اور زنک) میں اضافہ ہوا ہے۔ ان اقسام سے کاشتکاروں اور صارفین دونوں کے لئے پیداواری صلاحیت اور غذائیت میں بہتری رونما ہوئی ہے۔
ورکشاپ ان بیجوں کی ایک سالہ پیشرفت کا جائزہ لینے اور ۱۹۶۰ء کی دہائی جب امریکی اور پاکستانی سائنسدانوں نے پاکستان میں گندم کی میکسی پاک قسم متعارف کرائی تھی، سے جاری امریکہ۔پاکستان تعاون کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔ ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۹ء کے دوران پاکستان میں گندم کی پیداوار میں ۲۵ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
یو ایس ایڈ کی ڈپٹی مشن ڈائریکٹرجولی چین نے کہا کہ مکئی کے بیجوں کی ان نئی اقسام کے ساتھ اب ہمارے پاس مقامی سیڈ کمپنیوں اور زرعی تحقیق کے سرکاری اداروں کے لئے مزید زیادہ قابل رسائی اور موسم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور زیادہ غذائیت کے حامل مکئی کے بیج موجود ہیں۔ گزشتہ سال نئی بیجوں کی فراہمی اس تعاون کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو امریکہ پاکستان کو زرعی شعبے میں فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکئی کے ان بیجوں کی صلاحیت لاکھوں پاکستانی کسانوں کی زندگی میں بہتری کا موجب بنے گی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے قومی غذائی سلامتی و تحقیق سکندر حیات خان بوسن نے پاکستانی کاشتکاروں کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی و تحقیق کا تبادلہ کرنے پر امریکہ کا شکریہ اا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستانی ادارے ان بیجوں سے مستفید ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ بیج کسانوں کو ان کے مقامی سپلائی اسٹور پر دستیاب ہوں۔
۲۰۱۳ء میں شروع کیا جانے والا ایگریکلچرل انوویشن پروگرام یو ایس ایڈ، انٹرنیشنل میز اینڈ ویٹ امپروومنٹ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کا منصوبہ ہے جو گندم، مکئی، چاول، مویشیوں، پھلوں اور سبزیوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی اور فراہمی کے ذریعے زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ کے لئے کام کرتا ہے۔
پاکستان کی سیکورٹی مضبوط بنانے کے لیے سرحدی چوکیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح
جنرل ہیڈ کوارٹر ز راولپنڈی میں ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ بریگیڈیر محمد یو سف ماجوکا اورشعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون (انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز) کی ڈائر یکٹر کیٹی اسٹا نا نے سرحدی چو کیوں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ایف سی خیبر پختونخواہ نے شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکی سفارتخانہ کا انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز ایک عشرے سے زیادہ عرصہ سے ایف سی کے ساتھ کھڑا ہےاور پاکستان کی مغربی سرحد پر قانون نافذ کرنے والےاداروں اور عام شہریوں کےجانی نقصانات ، سرحد پاردراندازی ، اسمگلنگ اور منشیات ،اغواء برائے تاوان اور دیگرجرائم کو کم کرنے میں اعانت فراہم کر رہا ہے۔
یہ تقریب ۲۰۱۴ء میں شروع ہونے والے ایک کروڑ ڈالر لاگت کے تین سالہ منصوبے کے مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کی گئی جس میں پانچ کمپنی ہیڈ کوارٹرز ، تینتیس سرحدی چوکیوں کی تعمیر ، ۵۴حفاظتی چوکیوں کی تزئین و آرائش شامل تھی ۔ قبل ازیں ۵۵ لاکھ ڈالر کی لاگت سے ۵۴ سرحدی چوکیوں کی تعمیر جبکہ تیس تنصیبات کی تزئین و آرائش کی گئی۔
تقریب میں انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ افئیرز اسلام آباد کی سربراہ کیٹی سٹانا نے پاکستان کی افغانستان کے ساتھ سرحد پر فر نٹیر کور کی بطور اولین دفاعی لائن کردارکی تعریف کی اور اس کے ساتھ تعاون کو قابل فخر قرار دیا ۔ کیٹی اسٹانا نے خاص طور پر شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون کے تعاون سے چترال ، مہمند اور باجوڑ ایجنسی میں قائم سرحدی چوکیوں کا ذکر کیا جن سے ۲۰۱۴ ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران کئی حملوں میں انسداد منشیات اور سرحد پار در اندازی روکنے میں مصروف عمل ایف سی اہلکاروں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے میں مدد ملی۔
شعبہ انسدادِمنشیات ونفاذِقانون انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ رواں سال انسداد منشیات اہلکاروں کے تحفظ اور فاٹا اور پاک افغا ن سرحد پر ایف سی کی موجودگی بہتر بنانے کے لیے بلٹ پروف جیکٹس ، ہیلمٹ اور بم ڈسپوزل سوٹ کی فراہمی سمیت سازو سامان کی شکل میں پچاس لاکھ ڈالر مہیا کرے گا۔