وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://s23.postimg.org/9qa1qkxx7/IFTAR_DINNER_Urdu.jpg

**
Vimeo

https://vimeo.com/100920451

YouTube

Obama Iftar Dinner 2014 - YouTube

Daily Motion

Obama Iftar Dinner 2014 - Video Dailymotion

**
وائٹ ہاؤس ميں خوش آمديد

آج رات ہم دنيا کے ايک عظيم مذہب کی روايات کو خراج تحسين پيش کرتے ہيں۔ مسلمانوں کے ليے رمضان غور اور اس ياد دہانی کا وقت ہے کہ نظم و ضبط اور لگن ايک مذہبی زندگی کی بنيادی اساس ہيں۔ اور ہم سب کے ليے اس بات سے قطع نظر کہ ہمارا مذہبی عقيدہ کيا ہے ماہ رمضان اس بات کی ياد دہانی کرواتا ہے کہ ہماری اقدار کس قدر مشترک ہيں۔ امن اور خيرات کا جذبہ، خاندان اور کميونٹی کی اہميت – يہ عالمی قدريں ہيں۔ ايک دوسرے سے محبت اور انصاف کی بالادستی کا درس۔ اور ہمارے درميان موجود مستحقين کی ديکھ بھال ايسے موضوعات ہيں جو ہماری مذہبی روايات ميں مشترکہ ہيں۔

آج کی رات ہميں سرحدوں کی قيد سے قطع نظر ايک دوسرے کی جانب ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم اپنی مشترکہ قدروں کا جشن منا رہے ہيں، ہم جانتے ہيں دنيا کے بہت سے حصوں ان عناصر کی جانب سے تشدد اور دہشت گردی کی جار ہی ہے جو تعمير کی بجاۓ تخريب کو ترجيح ديتے ہيں۔ خاص طور پر مشرق وسطی ميں اس وقت کڑا وقت ہے۔ شام ميں اسد کی حکومت بدستور عوام کے خلاف ظلم ڈھا رہی ہے۔ چنانچہ ہم شام کے باسيوں کی مدد جاری رکھے ہوۓ ہيں تا کہ وہ اسد کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ انسانی الميے سے نبردآزما ہو سکيں اور متشدد پسندوں کا راستہ روک سکيں۔ عراق جہاں آئ ايس آئ ايس کے شہريوں پر حملے اور مذہبی عمارات کی تبائ جاری ہے تا کہ فرقہ وارانہ کشيدگی کو ہوا دی جاۓ، ہم مسلسل ايک نئ حکومت کے قيام کا مطالبہ کر رہے ہيں جو عراقيوں کو متحد کر سکے اور عراق کے تمام طبقوں کو يہ يقين دہانی کروا سکے کہ وہ سياسی عمل کے ذريعے اپنی خواہشات کی تکميل کر سکتے ہيں۔ علاوہ ازيں اسرائيل اور غزہ سے متعلق جو تصاوير ہم ديکھ رہے ہيں، وہ دل دہلا دينے والی ہيں۔

ہمارا ہدف پہلے اور اب بھی اسرائيل اور فلسطين دونوں کے ليے امن اور تحفظ کا حصول ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ ميں پيدا ہونے والا انسانی بحران جس کے خاتمے کے ليے ہم نے کافی عرصے سے انتھک کوششيں کی ہيں، فلسطينی شہريوں کی اموات اور ان کے زخم ايک سانحہ ہے۔ يہی وجہ ہے کہ ہم نے شہريوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور ديا ہے، اس بات سے قطع نظر کہ وہ کون ہيں اور کہاں رہتے ہيں۔ ميں اس بات پر يقین رکھتا ہوں کہ تناؤ ميں مزيد اضافہ کسی کے مفاد ميں نہيں ہے، خاص طور پر اسرائيلی اور فلسطينی شہريوں کے ليے۔ چنانچہ ہم صورت حال کو سال 2012 ميں جنگ بندی کی پوزيشن پر واپس لے جانے کے ليے اپنی ہر ممکن کوشش کرتے رہيں گے۔

صحيح معنوں ميں سيکورٹی کے حصول کا واحد راستہ اسرائيلوں اور فلسطينيوں کے درميان ديرپا اور انصاف پر مبنی امن کا قيام ہے جہاں اختلافات کا تصفيحہ پرامن طريقے سے اور ان خطوط پر کيا جاۓ جس کے تحت سب کا احترام ملحوظ رکھا جاۓ۔

امريکہ ميں نسلوں اور مذاہب کے درميان جعلی تقسيم کی کوئ گنجائش نہيں ہے۔ ہم سب امريکی ہيں۔ حقوق اور احترام کے ضمن ميں ہم برابر ہیں اور کبھی بھی کسی کو اس کے مذہب کی بنياد پر نشانہ نہيں بنايا جانا چاہيے اور يہ امر بھی ہميں مضبوط کرتا ہے۔ چنانچہ آج رات جب کہ ہم رمضان کا جشن منانے کے ليے اکٹھا ہوۓ ہیں، ہم ايک دوسرے سے وابستہ اپنی ذمہ داريوں کا اعادہ کرتے ہيں۔ آئيے افراد اور ممالک کی حيثيت سے اس امن کی تلاش ميں خود کو وقف کريں جو ہم اپنی دنيا ميں ديکھنا چاہتے ہیں۔ اور ياد رکھيں کہ ہمارا جو بھی مذہب ہے، ہم خدا کے خادم ہيں جنھيں اپنے بھائيوں اور بہنوں کی ديکھ بھال کے ليے طلب کيا گيا ہے۔ چنانچہ خدا آپ سب کا بھلا کرے۔ خدا امريکہ کا بھلا کرے اور آپ اور آپ کے خاندان کو رمضان مبارک ہو۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
Facebook
**[/RIGHT]

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Message delivered by Obama is not ethically correct… He should condemn Isreal.

What is US State Department’s position on continuous war wage by Isreal against innocent people of Gaza, Palestine?

Why did not Obama use strong tone against Isreal?

Is Obama two years old kid?

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Hypocrisy Championship in progress, currently America is leading. US/EU sanctioned Russia for 'allegedly' supporting separatists, but will continue to provide aid to a country who continues to bombard civilian population of an occupied territory, continues to extend its settlement over their lands, continues to defy UN resolutions.

This iftar was nothing but insult of Muslim leadership, rubbing it in their faces that they are helpless that US will continue to support Israeli terrorism.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

That will never happen until US is free from the choke-hold of Zionism.
And there is little chance of it.
Only Allah can do that.

Read “The Holocaust Industry” by Norman Finkelstein.
The Holocaust Industry: Reflections on the Exploitation of Jewish Suffering, New Edition 2nd Edition: Norman G. Finkelstein: 9781859844885: Amazon.com: Books

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اس ميں کوئ شک نہيں کہ اسرائيل اور فلسطين کا جاری تنازعہ اور اس ميں بے گناہ انسانی جانوں کا نقصان امريکہ سميت تمام انسانی برادری کے ليے لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس معاملے ميں بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ مسلۓ کے ديرپا حل کی جانب جاری عمل کا حصہ ہے۔ خطے ميں پائيدار امن کے حصول اور تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں کم کرنے کے ليے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ ہمارے موقف اور اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔

ميں يہ بالکل واضح کر دينا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت نا تو کسی مخصوص ملٹری آپريشن يا اسرائيل سميت کسی بھی ملک کی فوج کے مجموعی رويے کے ليے ذمہ دار ہے۔ جس کا مطلب يہ ہے کہ حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کی ذمہ داری بھی ہم پر نہيں ڈالی جا سکتی ہے۔

اس ميں کوئ شک نہيں کہ ہم خطے ميں اسرائيل کو اپنا اسٹريجک شراکت دار سمجھتے ہيں۔ يہ کوئ خفيہ امر نہيں ہے۔ تاہم ہم فلسطين کے عوام کے ليے بھی ايک عليحدہ سرزمين کے حصول پر يقین رکھتے ہيں جہاں وہ آزادانہ اور محفوظ طريقے سے اپنی زندگی گزار سکيں۔

اگر آپ اسرائيل کے ليے امريکی حمايت اور سپورٹ کو اجاگر کرتے ہیں تو پھر انصاف کا تقاضا يہ ہے کہ آپ اس امداد کا بھی تذکرہ کريں جو ہم نا صرف يہ کہ فلسطين کے عوام بلکہ خطے ميں اپنے عرب دوستوں کو بھی ديتے چلے آ رہے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu**[/RIGHT]

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

“khittay mai der paa hal”

State Department Spokesperson Israels Bombing | Video | C-SPAN.org

US indirectly endorses Israel’s “der paa hal” by completely occupying rest of Palestine lands, kill all Palestinians who disagree/oppose Israel and are living in current Palestine.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

what is Muslim ummah position by the way?

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

“Leti” position

#collegeNCCterm](http://www.paklinks.com/gs/usertag.php?do=list&action=hash&hash=collegeNCCterm)

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

They are silent as usual, rather non existent. After ZAB, no one cared about Muslim ummah, every leader of Muslim country are saving the their 'dhoti', not to be fallen down.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

US is super power. They claim world's best democracy, and human rights champion.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Giving aid to Isreal and your Arab friends is not solving decades long issue.

Because US government provide aid to Palestine, therefore they should not say WRONG to WRONG…

Because some phatto Arab states support you therefore State Department is not vocal against Isreal aggression to helpless state of Palestine.

A rocket from hamas does not mean full scale air strike , ground offense and naval attack against Gaza, Palestine.

Remember, Gaza, Palestine has not yet exercised his freedom. They are living under sever condition.

The tone of the digital outreach team of US State Department is not satisfactory.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Funny speech by champ of peace :D

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

What's the point? Oneway or other way it's America responsibility? So much for a ummah !

i came to conclusion we Muslims have some kind a different gene then rest of the humanity or our current state & interpretation of beliefs make us no better then monkeys living in wild jungle.

rant done/
back to sleep/
like rest of ummah/

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Those who criticize the dinner would be the first ones to show up there if invited.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

aisii iftaarii aur aise 'ishaaiyah kaa kia faaida kiuN k mujhye to mada'uu hii nahiiN kiyaa gayaa! :( :D

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

Other old books by him that are still relevant:

Amazon.com: Image and Reality of the Israel-Palestine Conflict, New and Revised Edition (9781859844427): Norman G. Finkelstein, Norman Finkelstein: Books

Newer edition of the above:

Amazon.com: Image and Reality of the Israel-Palestine Conflict, Third Edition (9781844671953): Norman G. Finkelstein: Books

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

yes it is America’s responsibility as it is helping Israel even in this state to protect it from the patakhay-rockets instead of asking Israel to stop bombardment of Gaza.

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

raton ko uth uth kar rota tha na ZAB muslim umma k liye :hmmm:

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

bilkul sahe, next afari ka pas mil sakta hey kia :@:

Re: وائٹ ہاؤس ميں افطار ڈنر

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

مسلۂ فلسطين – امريکی موقف

يہ کہنا بالکل غلط اور حقائق کے منافی ہے کہ ہم دونوں ميں سے کسی بھی فريق کی جانب سے دانستہ بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کے اقدام کی تائيد کرتے ہيں يا اسی طرح کے واقعات کو منصفانہ سمجھتے ہيں۔

اس وقت ہماری اولين ترجيح زمين پر کشيدگی ميں کمی لانا ہے اور ہم تمام فريقين پر زور دے رہے ہيں کہ وہ تناؤ ميں کمی لانے کے ليے مل کر کام کريں اور عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنائيں۔
ہم اس بارے ميں بالکل واضح ہيں کہ فلسطينی عوام کے ليے رياست کا خواب فريقين کے مابين براہراست مذاکرات کے ذريعے ہی ممکن ہے۔

امريکی حکومت کی جانب سے اسرائيل کی حمايت کے ضمن ميں تمام تر تنقيد، سوالات اور آراء پڑھی ہيں۔ جيسا کہ ميں نے پہلے بھی فورمز پر متعدد بار واضح کيا ہے کہ امريکی حکومت اس عالمی کوشش کا حصہ ہے جس کی بنياد اسرائيل اور فلسطين کے عوام کی خواہشات کے عين مطابق خطے ميں پائيدار امن کے قيام کا حصول ممکن بنانا ہے۔

ہم خطے ميں ايک مربوط امن معاہدے کے لیے کوشاں ہيں جس ميں فلسطين کے عوام کی اميدوں کے عين مطابق ايک خودمختار اور آزاد فلسطينی رياست کے قيام کا حصول شامل ہے۔ اس ايشو کے حوالے سے امريکہ پر زيادہ تر تنقید اس غلط سوچ کی بنياد پر کی جاتی ہے کہ امريکہ کو دونوں ميں سے کسی ايک فريق کو منتخب کرنا ہو گا۔ يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ امريکہ اسرائيل کی غيرمشروط حمايت کرتا ہے۔ ہم اسرائيل کے بہت سے اقدامات پر تحفظات رکھتے ہيں۔

ميں يہ بھی ياد دلا دوں کہ سال 2008 ميں غزہ ميں حملے کے بعد امريکہ نے اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1860 کی مکمل حمايت کی تھی جس کے تحت مستقل اور پائيدار جنگ بندی اور غزہ سے اسرائيلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کيا گيا تھا۔ اسی قرارداد ميں غزہ کے مکينوں کے ليے خوراک اور طبی امداد کی فراہمی کو يقينی بنانے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بہت سے راۓ دہندگان لگاتار امريکہ کی جانب سے اسرائيل کو دی جانے والی امداد کا ذکر کرتے ہیں ليکن اسی پيراۓ اور دليل ميں وہ اس حقيقت کو نظرانداز کر ديتے ہيں کہ امريکی حکومت فلسطين کو معاشی اور ترقياتی مد ميں امداد فراہم کرنے والے ممالک ميں سرفہرست ہے۔ سال 1993 سے يو ايس ايڈ کے توسط سے قريب 3 بلين ڈالرز کی امداد مہيا کی جا چکی ہے۔ اس امداد کے ذريعے جن شعبوں ميں ترقياتی منصوبوں کو سپورٹ فراہم کی گئ ہے ان ميں صاف پانی کی فراہمی، انفراسٹکچر، تعليم، صحت اور معاشی ترقی جيسے اہم شعبہ جات شامل ہيں۔

امريکی حکومت غزہ ميں بنيادی انسانی ضروريات بشمول خوراک، ادويات، صاف پانی اور علاج معالجے کی سہوليات کی فراہمی کو يقينی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ غزہ ميں ان سہوليات کی فراہمی کو اقوام متحدہ کی “ريليف اينڈ ورکس” ايجنسی اور ديگر بين الاقوامی نجی تنظيموں کے ذريعے ممکن بنايا جاتا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
Facebook
**[/RIGHT]