بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
[RIGHT]السلام علیکم[/RIGHT]
[RIGHT]پاکستان میں جنرل پرویز کی قیادت میں ان کے دور میں روشن خیالی کے نام پر اسلام کے خلاف قانون نافذ کر کے اور امریکی اور یہودی ایجنڈے کے مطابق اس ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کی جو مہم زورو شور سے جاری ہے اس کی اگلی قسط بھی منظر عام پر آگئی جب قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی اور کچھ حکومتی ارکان نے شراب پر سے پابندی ہٹانے کے حق میںدلیلیں لاتے ہوئے کہا کہ[/RIGHT]
شراب پر پابندی لگانے کی وجہ سے ہیروئن اور دوسری منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے انھوں نے کہا کہ بعض قومی اسمبلی کے ارکان بھی شراب پیتے ہیں لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا ۔شراب پر پابندی لگا کر لوگوں کو ہیروئن پینے پر مجبور کر دیا گیا پہلے نوجوان ایک بوتل شراب پی کر نشہ کر لیتے تھے اب ہیروئن نے انھیں تباہ کر دیا ہے اور یہ کہ چھوٹی برائی کو بند کر کے بڑی برائی کو فروغ دیا گیا ہے ۔
[RIGHT]شراب جسے ام الخبائث کہا گیا ہے جو تمام برائیوںکو جنم دیتی ہے اسے چھوٹی برائی کہہ کر اسے معاشرے میں عام کرنے کے لئے دیگر نشہ آور چیزوں سے اس کا موازنہ کرنا غیر منطقی ہے نوجوان میں منشیات کا استعمال جس وجہ سے بڑھا اس میں سرِ فہرست غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل شامل ہیں نا کہ شراب نہ ملنا ۔ان معاشرتی مسائل کو حل کرنے اورتمام نشہ آور چیزوں پر بھی پابندی لگانے کے بجائے چند وی وی آئی پیزکی سہولت اور طلب کے لئے اس پر سے پابندی ہٹانے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔حالانکہ پابندی کے باوجود اس کا استعمال اور فروخت کہیں کھلے اور کہیں چھپے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی میں کیا جاتا رہتا ہے۔
[RIGHT]**پرویزی حکومت میں اب تک عوام کی طرف سے جن اسلام مخالف دشمن کاروائیوںپر خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے وہ سب آہستہ آہستہ پورے ہوتے نظر آ رہے ہیں عوام ان برائیوں کومعاشرے میں پھیلانے اور فحاشی اور عریانی کا سیلاب ملک میں لانے کی سازشوں پر معمولی احتجاج کر کے کب تک اسی طرح قبول کرتے رہیں گے؟؟ **[/RIGHT]
__________________
[/RIGHT]