Day to remember
Shaheed e Millat , Liaqat Ali Khan [IMG2=JSON]{“data-align”:“none”,“data-size”:“full”,“src”:“https://encrypted-tbn0.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcQhcy1F33YcvLBXJSsHP38qRUpvGmPb_flP2hPdGSSEO4GTmagzmr522D0”}[/IMG2]](http://www.google.com.pk/imgres?imgurl=http://3.bp.blogspot.com/_vW1GG83Zr1U/S845CVPRpmI/AAAAAAAAFjs/JASrbyHTyGY/s400/Fatima%2BJinnah%2BLiaqat%2BAli%2BKhan%2BFatima.jpg&imgrefurl=http://chagataikhan.blogspot.com/2008/10/jinnah-liaquat-relations.html&usg=__N2ihTyMxzGUCcnN8euygBmbM7z0=&h=287&w=213&sz=13&hl=en&start=2&sig2=aFGApwmlUnmaAu8B6wKzYQ&zoom=1&tbnid=aXx8a1j7qFnktM:&tbnh=115&tbnw=85&ei=Ezp9UKqnO4m0rAfOjIFg&itbs=1)
Liaquat Ali Khan 6](Redirect Notice)1st Martyrdom anniversary observed
Sad day , Shaheed-e-awal killed brutally by greedy power hunting people .
[IMG2=JSON]{“data-align”:“none”,“data-size”:“full”,“src”:“https://encrypted-tbn3.gstatic.com/images?q=tbn:ANd9GcQd0cfleWMCOw9t0nO_Ub4-TDYhFj6jam2K3cq3XMM52WY7K56Mpa3xGZrN”}[/IMG2]](http://www.google.com.pk/imgres?imgurl=http://jinnah.pk/wp-content/uploads/2012/06/Jinnah-with-Liaqat-Nishtaq.jpg&imgrefurl=http://jinnah.pk/2012/06/20/some-rare-pictures-of-muhammad-ali-jinnah/jinnah-with-liaqat-nishtaq/&usg=__msjDtZFXMOSgcFsbD5yblPVSXWs=&h=490&w=720&sz=38&hl=en&start=15&sig2=f0MQnCCWKUS2xN1deuk-pg&zoom=1&tbnid=HcbrA0Hks1EFcM:&tbnh=95&tbnw=140&ei=Ezp9UKqnO4m0rAfOjIFg&itbs=1)
India and Pakistan have some history of killing of leaders but Indian leaders were killed by angry persons and our leaders killed by insiders .
پاکستان کے پہلے وزير اعظم نواب زادہ لياقت علی خان کا تعلق مشرقی پنجاب کے زميندار گھرانے سے تھا مگر انہوں نے روايتی نواب زادوں کے برعکس سادہ اور جہد مسلسل سے بھرپور زندگی گزاری۔ لیاقت علی خان کو سولہ اکتوبر کے روز قتل کر دیا گیا۔
مشرقی سوچ و فکر کے سانچے ميں ڈھلے لیاقت علی خان نے آکسفورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ انگلستان سے واپسی کے بعد اُنہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور کانگريسی رہ نماؤں سے معذرت کرتے ہوئے ان پر يہ بھی واضح کر ديا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ان کی اولين ترجيح ہے۔
لياقت علی خان نے قائد اعظم کے ديرينہ ساتھی کی حيثيت سے تحريک پاکستان ميں حصہ ليا۔ ان کی سياسی اور پارليمانی زندگی ميں کئی اتارچڑھاؤآئے۔ 1926 سے 1940 تک لياقت علی خان یوپی کی مجلس قانون ساز اور بعد ازاں مرکزی مجلس قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ مسلم لیگ میں وہ سیکریٹری جنرل سے لیکر پارلیمانی ڈپٹی لیڈر تک کئی عہدوں پر فائز رہے۔
قائد ملت لیاقت علی خان کو قیام پاکستان کے بعد ملک کا پہلا وزیراعظم نامزد کيا گيا۔ ابتدائی سازشوں کے نتیجے میں لياقت علی خان کو سولہ اکتوبر انیس سو اکاون کو راول پنڈی میں ایک جلسے کے دوران خطاب کرتے ہوئے قتل کر ديا گيا۔
سترہ نومبر 1948 مسلم لیگ کے ايک جلسے کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ “اگر پاکستان کو سرمایہ داروں کے استحصال کیلئے کھلا چھوڑ دیا گیا تو اس ملک کا مستقبل تاریک ہو جائے گا، پاکستان نہ تو سرمایہ داروں کا ملک ہوگا اور نہ اشتراکیوں کا یہاں صرف اسلامی اصولوں پر عمل ہوگا”