[Urdu] جمعہ کے فضائل قرآن و صحیح حدیث سے
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم ﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو ۔
سورہ جمعہ
آیت نمبر 09
جمعہ کی نماز میں پہلے مسجد جانے کی فضیلت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی ( اگر اول وقت مسجد میں پہنچا ) اور اگر بعد میں گیا تو گویا ایک گائے کی قربانی دی اور جو تیسرے نمبر پر گیا تو گویا اس نے ایک سینگ والے مینڈھے کی قربانی دی۔ اور جو کوئی چوتھے نمبر پر گیا تو اس نے گویا ایک مرغی کی قربانی دی اور جو کوئی پانچویں نمبر پر گیا اس نے گویا انڈا اللہ کی راہ میں دیا۔ لیکن جب امام خطبہ کے لیے باہر آ جاتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 881
عورتوں کے لئے نماز جمعہ
اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جمعہ کی نماز صرف مردوں پر فرض ہے ، عورتوں پر فرض نہیں ہے ۔اس کی دلیل :
الجمعةُ حقٌّ واجبٌ على كلِّ مسلمٍ في جماعةٍ ؛ إلا أربعةً : عبدًا مملوكاً ، أو امرأةً ، أو صبيًّا ، أو مريضًا
(صحيح الجامع للالباني : 3111)
ترجمہ: جمعہ کی نماز ہر مسلمان پہ جماعت کے ساتھ واجب ہے سوائے چار لوگوں کے غلام،
عورت ،
بچہ،
بیمار۔
لیکن یہاں یہ بات بھی جان لینی چاہئے کہ اگر خواتین جمعہ کی نماز میں شامل ہوجاتی ہے تو اس کی نماز جمعہ صحیح ہے اور اس سے ظہر کی نماز ساقط ہوجائے گی ۔
نبی ﷺ کے زمانے میں صحابیات جمعہ میں شریک ہوتی تھیں۔
دلیل : عن أم هش&1575;م بنت حارثة بن النعمان: وما أخذت (ق والقرآن المجيد) إلا عن لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كل يوم جمعة على المنبر إذا خطب الناس.
(صحیح مسلم : 873)
ترجمہ :سیدہ اُم ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
اس حدیث میں دلیل ہے کہ صحابیہ
ام ہشام رضی اللہ عنہا جمعہ کی نماز میں شریک ہوتی تھی ، جمعہ میں شرکت کی وجہ سے خطبہ نبوی میں پڑھی جانے والی سورت ق انہیں حفظ ہوگئی۔
یہاں ایک اور بات یاد رکھنی چاہئے کہ عورتوں کا اکٹھا ہوکر الگ سے عورتوں کے لئے جمعہ کی نماز قائم کرنے کی دلیل نہیں ملتی ۔
خطبہ کو توجہ سے سننا اور خاموش رہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
جس نے وضو کیا اور اچھی طرح کیا ۱؎ پھر جمعہ کے لیے آیا ۲؎، امام کے قریب بیٹھا، غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس کے اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے ۳؎ کے گناہ ۴؎ بخش دیئے جائیں گے۔ اور جس نے کنکریاں ہٹائیں تو اس نے لغو کیا۔
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جامع ترمذی رقم 498
جمعہ کے فرائض دو رکعت ہیں۔
آپﷺ نےفرمایا
من أدرك من الجمعة رکعة فلیصلي إلیها أخری
(سنن ابن ماجہ:١١٢١)
??جو شخص جمعہ سے ایک رکعت پالے تو اسکے ساتھ دوسری آخری رکعت ملا لے۔??
اس حدیث سے ثابت ہو ا کہ نمازِ جمعہ کے فرائض صرف دو رکعات ہیں۔ جو اس دن ظہر کی نماز کے متبادل ہوجائیں گے اور ظہر کی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
دل پر مہر لگا دے گا?
رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم نے فرمایا: ?جو جمعہ تین بار سستی ۱؎ سے حقیر جان کر چھوڑ دے گا تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا?
جامع ترمذی
رقم الحدیث 500
جمعہ کے دن درود کثرت سے پڑھیں
رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تمہارے دنوں میں سب سے افضل ( بہترین ) جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ سلام پیدا ہوئے، اسی دن میں ان کی روح قبض کی گئی، اور اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن بیہوشی طاری ہوگی، لہٰذا تم مجھ پر زیادہ سے زیادہ صلاۃ ( درود و سلام ) بھیجو کیونکہ تمہاری ( درود و سلام ) مجھ پر پیش کیے جائیں گے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا:
اللہ کے رسول! ہماری ( درود و سلام ) آپ پر کس طرح پیش کی جائیں گی حالانکہ آپ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوں گے یعنی وہ کہنا چاہ رہے تھے، کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ
انبیاء علیہم السلام کے جسم کو کھائے ۔
نسائی حدیث نمبر 1375

کفارہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
ابن ماجہ حدیث نمبر 1086
ایک ساعت. (ایک لمحہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جمعہ کا دن بارہ ساعت ( گھڑی ) کا ہے، اس میں ایک ساعت ( لمحہ ) ایسی ہے کہ کوئی مسلمان اس ساعت کو پا کر اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اللہ اسے ضرور دیتا ہے، لہٰذا تم اسے عصر کے بعد آخری ساعت ( گھڑی ) میں تلاش کرو ۔
ابو داود
حدیث نمبر 1048
جمعہ کے دن سورۃ کہف کی تلاوت
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ? جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے والے کے لئے دو جمعوں کے در&1605;یانی عرصہ کے لئے روشنی رہتی ہے۔
امام حاکم نے بھی اسے روایت کیا ہے ( مستدرک ص368
ج 2 )
[/urdu]