Re: NS na-ihl again
**بھائی صاحب، نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے پاس پیسہ بہت ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ یا زیادہ پیسہ ناجائز ذرائع سے بھی بنایا ہو، مگر یہاں پر رزق حلال کمانے والے کتنے ہیں یہ اللہ تو جانتا ہی ہے مگر ہم پاکستانی بھی کافی کچھ جانتے ہیں۔
کیا یہ فوجی لوگ بڑے حلالی ہوتے ہیں؟ ایوب خان نے پیسہ نہیں بنایا؟ آج اس کا خاندان امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ کہاں سے آیا یہ پیسہ؟
اختر عبدالرحمان کی اولاد کو کیا اوجھڑی کیمپ سے کوئی خزانہ ہاتھ آیا تھا جو یہ لوگ روپے پیسے میں کھیل رہے ہیں؟
ابھی زیادہ پرانی بات نہیں، آرمی چیف پرویز اشرف کیانی کا بھائی زرداری کے دور میں 2 نمبر پیسہ بناتا رہا۔ کس نے روکا؟
سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی کا بھائی پی آئی اے کا طیارہ کھا گیا، کسی ثاقب نثار کے پیٹ میں درد نہیں ہوا۔
ایڈمرل منصورالحق آگسٹا آبدوزوں کے نام پر حرام مال کھا گیا، امریکہ بھاگ گیا۔ کیا ہوا اس کا؟
راحیل شریف کی شرافت کون کون سے ٹی وی چینلز کھول کھول کر بتائیں گے؟
ان جرنیلوں کو مہنگی زمینیں اور اسلام آباد کے قیمتی پلاٹ کیا ان کی ماؤں کو جہیز میں ملے تھے؟
ججوں اور عدلیہ کی حرام کاری پر کسی سراج الحق کا اسلام بیدار نہیں ہوتا۔ لوگوں کا انصاف نہیں ملتا اور چیف جسٹس ہسپتالوں کے دورے کر رہا ہے۔
ان فوجی اور انصافی خنزیروں کے لیے بس ایک چیز اہم ہے۔ نواز شریف اور بس نواز شریف! باقی پاکستان جائے بھاڑ میں، ان حرام کے نطفوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
آخر کو یہی فوجی جرنیل تھے، ایوب اور یحیٰ جنہوں نے پاکستان توڑا اور پاکستان کو زمانے بھر میں رسوا کیا۔ کسی نطف حرام عدلیہ نے پاکستان توڑنے والے جرنیلوں کو جیل تک نہیں پہنچایا۔
اگر اتنے بڑے بہادر باپ کی اولاد ہو تو جاؤ ہندوستان سے لائن آف کنٹرول پر مقابلہ کرو۔ کبھی امریکہ اور کبھی چین کی چڈی میں گھس کر سمجھتے ہو ہندوستان کا مقابلہ کر لو گے؟ نہ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا اور نہ ہی پاکستان کو خود انحصاری کے راستے پر آنے دینا۔ برٹش انڈیا کی ناجائز اولاد ہو، اور یہ غلامی فوجیوں کی نس نس میں آج تک ہے۔ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی سپر پاور کے پالتو بن کر رہیں گے اور پاکستان کو اور اس میں بسنے والے لوگوں کو اپنا غلام بنائے رکھیں گے۔ ان دہی لسی کے دماغوں کی اوقات ہی یہی ہے۔
سیاست دان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ چور ہو۔ کیوں کہ اگر وہ شریف ہو گا تو فوج اس کو سیاست میں ٹکنے ہی نہیں دے گی۔ فوج کو چاہیے چور اور ڈاکو جو فوج کے اشاروں پر اس کی بلیک میلنگ کا نشانہ بنتا رہے، اور فوج کی خدمت کرتا رہے۔ اچھے لوگ ہوں گے تو فوج ان کے ساتھ وہی حشر کرے گی جو لیاقت علی خان اور فاطمہ جناح کے ساتھ کیا، دونوں کو مار ڈالا۔
اصول یہی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے انڈر ویئر دھو دھو کر سیاست کرنے والے بدکار، بدمعاش اور چور ہی ہوتے ہیں۔ تبھی یہ کہنا غلط نہیں کہ عمران خان، سراج الحق اور ان کی قماش کے لوگ بھی ایک نمبر کے چور اور مجرمین ہیں۔ یہ بچے ہوئے اس لیے ہیں کہ جی ایچ کیو کے جھوٹے خداؤں کا ان کے سر پر ہاتھ ہے۔ اور اسی لیے ان پر کوئی عدلیہ ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ آج سراج الحق فوجیوں کی چڈیاں دھونا چھوڑ دے اور نواز شریف کے ساتھ مل جائے تو اس کے بیسیوں اسکینڈلز کی ویڈیوز یوٹیوب پر لیک ہو جائیں گی اور الیکٹرونک میڈیا میں جماعت اسلامی کا وہی حشر کیا جائے گا جو ایم کیو ایم الطاف گروپ کے ساتھ کیا گیا۔
**