[RIGHT]فیلڈ میں کام کرنے کے دعویدار صحافیوں کی دانش کو سلام جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ فاروق ستار اور مصطفی کمال کو اتحاد کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے مجبور کیا لیکن پھر اگلے ہی دن ان کی مجبوری ختم ہوگئی اور فاروق ستار نے اتحاد ختم کر دیا۔ایسے جاہل تجزیہ نگاروں کو شاید علم نہیں کہ ایم کیو ایم یا مہاجر گروہ اس وقت قبضے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ الطاف حسین کی کمزور ہوتی انتظامی گرفت کے بعد جانشین یا ’ ٹیریٹری ’ پر قبضے کا حق لینے کی جدوجہد میں ہی ایم کیو ایم کے سارے دھڑے وجود میں آئے ہیں۔ ان دھڑوں کی کامیابی کا دارومدار اسی بات پر ہے کہ یہ اپنے ایکشنز کو اسٹیبلشمنٹ کا حکم نامہ کہہ کر کارکنان کو اپنی طرف کھینچ سکیں، کیونکہ ایم کیو ایم کو بنایا بہرحال اسٹیبلشمنٹ نے ہی تھا۔اگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اتنی بودی ہوچکی کہ اس سے مصطفی کمال اور فاروق ستار جیسے ٹپوری قابو میں نہیں آرہے تو پھر ڈر کاہے کا؟ اس اسٹیبلشمنٹ سے کون ڈرے گا؟
ہر وقت فیلڈ میں کام کرکے تجربہ حاصل کرنے کے دعویدار یہ مت بھولیں کہ پاکستان کے 98 فیصد الیکٹیبلز جرائم پیشہ اور قبضہ گروپ ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کی تو ایس ایس پی سیاسی وفاداریاں تبدیل کروا دے، فوج کیلئے تو یہ توپ سے مکھی مارنے والی بات ہے۔
اسٹیبلشمنٹ جب کرنے پر آتی ہے تو وہ دن دیہاڑے ن لیگ سے قاف لیگ بنواتی ہے، پی پی سے پیٹریاٹس نکلواتی ہے، ایم کیو ایم سے الیکشن کا بائیکاٹ کرواتی ہے، ایم ایم اے کو دو صوبے دے دیتی ہے، نوازشریف کو زرداری کے خلاف میمو گیٹ میں کالا کوٹ پہنا کر وکیل بنا کر سپریم کورٹ بھیج دیتی ہے، جماعت اسلامی سے کشمیر کے نام پر معصوم لوگوں کی جہاد میں بھرتیاں کرواتی ہے۔۔۔۔۔
مصطفی کمال اور فاروق ستار جیسے ٹپوریوں پر اسٹیبلشمنٹ اپنا وقت ضائع نہیں کرتی۔ اگر تجزیئے کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے مطالعہ اور آبزرویشن کی صلاحیت پیدا کریں!!! بقلم خود باباکوڈا v
[/RIGHT]