Military pushing ahead with Afghanistan border fencing

Re: Military pushing ahead with Afghanistan border fencing

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ يہ تاثر ہی لغو اور غير منطقی ہے کہ افغانستان پر امريکی فوج حکومت کر رہی ہے۔ ملک پر عوام کے منتخب نمايندوں کی حکومت ہے جو اس کی سرحدوں کی حفاظت کے ليے ذمہ دار ہيں۔ امريکہ اپنے افغان ہمعصروں کے ساتھ مل کر نا صرف يہ کہ دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کے قلع قمع کے ليے کام کر رہا ہے بلکہ مقامی افغان فوجيوں کی صلاحيتوں ميں اضافے اور متعلقہ محکموں کی تربيت اور انھيں ہر قسم کے وسائل فراہم کرنے کے ليے اپنا موثر کردار بھی ادا کر رہا ہے۔

تاہم حتمی تجزيے ميں ملک کے مستقبل کا تعين افغانستان کے عوام اور ان کے منتخب نمايندوں نے ہی کرنا ہے۔

جہاں تک “ڈو مور” کے حوالے سے آپ کی راۓ ہے تو ميں واضح کر دوں کہ امريکہ نے کبھی بھی اس حقيقت سے انکار نہيں کيا کہ امريکہ سميت تمام فریقين کو دہشت گردی کے عالمی عفريت کے خاتمے کے ليے مزيد کاوشوں کی ضرورت ہے۔

امريکی حکومت پاکستان اور افغانستان کی مدد اور خطے ميں امن کے قيام کے ليے “ڈو مور” کی پاليسی پر عمل پيرا ہونے کے ليے ہميشہ تيار رہی ہے۔ چاہے افغانستان ميں ہزاروں امريکی افواج کی تعنياتی ہو، افغانستان ميں تعميراتی کاموں اور انتظامی ڈھانچے کی استحکام کے ليے کئ بلين ڈالرز کی امداد ہو يا مختلف حکومتی اداروں کی افاديت کو بہتر بنانے کے ليے کئ بلين ڈالرز کے وسائل کی دستيابی کا معاملہ ہو – امريکی حکومت نے افغانستان اور پاکستان کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے ليے ہميشہ ہر ممکن کوشش کی ہے۔

يہ تاثر کہ افغانستان ميں داعش کو استحکام ملنے سے کسی بھی طور ہمارے اہداف حاصل کرنے ميں مدد مل سکتی ہے، ناقابل فہم ہے کيونکہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران خطے سے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے ليے امريکہ نے ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے فوجی بھی ميدان جنگ ميں اتارے ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]