Lahorites is this True???

’میں جہاں بھی ہوں یہ یقیناً پاکستان کا حصہ نہیں ہے‘ میں نے سوچا۔

اس رات ہم سب دوست ایک ڈھولکی کی تقریب میں شریک ہونے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ ڈھولکی کے بعد رات ڈھائی بجے کا وقت تھا جب ہم بغیر کسی طے شدہ پروگرام کے محض اتفاقاً بیدیاں روڈ جا پہنچے۔ ہمارے ایک ساتھی کا اصرار تھا کہ چل کر دیکھا جائے’آل نائیٹر مارنے میں کیا مزہ آتا ہے‘۔
مدہوشی کا مکمل سامان
وہاں مدہوش ہونے کا پورا سامان موجود تھا۔ شراب کی مہک پوری فضا میں رچ بس گئی تھی۔ وہاں ہر شخص (لڑکا یا لڑکی) کے ہاتھ میں شراب تھی۔

بیدیاں روڈ ڈیفنس سے آگے لاہور سے تقریباً باہر ایک ایسی جگہ ہے جہاں لاہور کے ’ایلیٹ‘ لوگوں نے زمینیں خرید کر فارم ہاؤس بنا رکھے ہیں۔ یہ فارم ہاؤس عام طور پر رہائش سے زیادہ دیگر اور طرح کی مصروفیات کے لیے کام آتے ہیں۔ ان مصروفیات میں سے ایک پرائیویٹ ڈانس پارٹیز ہیں۔
ایک بڑے میدان میں بیشمار مہنگی گاڑیوں کے درمیان اپنی گاڑی پارک کرنے کے بعد ہم ایک فارم ہاؤس کے گیٹ پر پہنچے جہاں مسلح گارڈ کھڑے تھے اور ان کے ساتھ دو نوجوان اندر جانے والوں سے نام پوچھ رہے تھے۔
زمین کے ایک وسیع ٹکڑے کو اس انداز میں بنایا گیا تھا کہ ایک کونے میں تین کمرے تھے اور باقی پوری جگہ ایک لان جسے چاردیواری نے گھیر رکھا تھا۔ لان میں ایک طرف کمروں کے ساتھ ڈانس فلور بنایا گیا تھا جہاں پر ڈی جے اور چار نوجوان لوگوں کو ٹرانس میوزک کی دھنوں پر مدہوش کر رہے تھے۔
لوگ صرف موسیقی کی دھن پر مدہوش نہیں ہو رہے تھے بلکہ وہاں مدہوش ہونے کا پورا سامان موجود تھا۔ شراب کی مہک پوری فضا میں رچ بس گئی تھی۔ وہاں ہر شخص (لڑکا یا لڑکی) کے ہاتھ میں شراب تھی۔ کوئی پی رہا تھا تو کوئی پلا رہا تھا۔ لوگ آپس میں نہ صرف پینے اور پلانے میں مصروف تھے بلکہ ایک دوسرے پر شراب پھینک کر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جب کچھ چھینٹیں مجھ پر پڑیں تو میں وہاں سے ہٹ گئی۔
آدھی رات گزر چکی تھی مگر اس وقت بھی یہاں دن کا سماں تھا۔ لڑکیوں اور لڑکوں کی تعداد برابر تھی۔ مگر میرے لیے حیران کن بات یہ تھی کہ لڑکیوں کی عمر زیادہ تر بارہ سال سے لے کر پچیس سال تک تھی اور لڑکے تقریباً اٹھارہ سال سے لے کر تیس سال کی عمر تک تھے۔ ان لڑکیوں نے جس طرح کے لباس پہن رکھے تھے وہ ایف ٹی وی پیرس سے چلنے والے کسی بھی فیشن شو میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ میرے لیئے جسم کی کھلم کھلا نمائش اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔
میں بیٹھنے کی جگہ تلاش کرتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ شہر سے باہر یہ سب لوگ کس چیز کی تلاش میں ہیں۔ یہ نوعمر لڑکیاں جو مشکل سے ایف اے کی طالبات ہونگی اور یہ لڑکے جو جوانی کی دہلیز پر قدم نہیں جما پائے، کیسے شراب کے نشے میں دھت ایک دسرے کی بانہوں کے سہارے قدم جمانے کی کوشش رہے ہیں۔

یہ سب لوگ کون ہیں؟ یہ سب ’اچھے گھروں‘ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تعلیم مسئلہ نہیں، جہاں پیسے کی کمی نہیں اور جہاں ماں باپ گھر میں ایک آزاد فضا قائم رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے بڑی فرسٹریشن پیسہ ہےمگر یہ سب لوگ پیسے کی کمی کا شکار ہرگز نہیں تھے۔ پھر یہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نہ صرف شراب پی رہے ہیں بلکہ غالباً چرس، کوکین بھی استعمال کر رہے ہیں۔
گیارہ ہزار کی ایک گرام
یہاں کوک گیارہ ہزار روپے گرام ہے اور میں اپنی تنخواہ میں سے پیسے بچاتا ہوں صرف تھرل کے لیے۔۔۔
ایک لڑکے سے میں نے پوچھا کہ تم کوکین کیوں کرتے ہو تو اس کا کہنا تھا ’کوکین ہر کوئی نہیں کرتا یہاں کوک گیارہ ہزار روپے گرام ہے اور میں اپنی تنخواہ میں سے پیسے بچاتا ہوں صرف تھرل کے لیے۔‘
ابھی میں اپنے سوالوں میں گم تھی کہ ایک طرف سے چیخوں کی آواز نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ میں تھوڑا آگے بڑھی تو دیکھا ایک لڑکی جس کی عمر مشکل سے چودہ سال ہوگی، بری طرح رو رہی تھی کیوں کہ اس کی ساتھی لاؤنج میں بیہوش پڑی تھی۔ وہ مدد کے لیے پکار رہی تھی لیکن لوگوں کو اپنی ہوش ہوتی تو اس کی سنتے۔
آخر کار گارڈ اس کی مدد کو پہنچے اور اس بیہوش لڑکی کو اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ لڑکی پوری طرح سے بیہوش تھی اور اس کو اٹھانے کے لیے گارڈ جتنی محنت کر رہے تھے اس میں کسی کو فکر نہیں تھی کہ اس کے برائے نام کپڑے بھی کہاں جا رہے ہیں۔ وہ بس اس کو جلد از جلد وہاں سے نکالنا چاہتے تھے کہ کہیں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے۔

ان دونوں کے ساتھ کوئی لڑکا نہ تھا۔ لڑکی نے بتایا کہ وہ دونوں سہیلیاں ہیں اور گھر سے ڈرائیور کے ساتھ آئی ہیں۔ پندرہ منٹ کی محنت کے بعد آخرکار اسے کار تک پہنچا دیا گیا۔ اس کے پیچھے چلتی اس کی پریشان ساتھی کو ایک لڑکے نے روک کر کہا: ’فکر کی کوئی بات نہیں اس کو جتنا ہو سکے پانی پلا دینا یہ ٹھیک ہو جائےگی‘۔ اس لڑکی نے انتہائی پریشانی سے جواب دیا کہ اس کی ساتھی نے صرف شراب نہیں پی بلکہ کوکین بھی کی ہے‘۔ لڑکے نے ہمدردی سے سر ہلایا۔ اور وہ لڑکی گارڈز کے ساتھ گیٹ سےباہر غائب ہوگئی۔
ہمدردی اور مدہوشی
لڑکی نے انتہائی پریشانی سے جواب دیا کہ اس کی ساتھی نے صرف شراب نہیں پی بلکہ کوکین بھی کی ہے‘۔ لڑکے نے ہمدردی سے سر ہلایا۔

میں واپس آئی تو ڈانس فلور پر نیم اندھیرے میں سب لڑکے اور لڑکیاں مدہوش ناچ رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ لڑکیاں آہستہ آہستہ فلور سے غائب ہورہی ہیں۔ اب فلور پر صرف لڑکے تھے، کچھ بالکل ہی چھوٹی عمر کے بمشکل سولہ سترہ سال کے اور باقی پچیس سے تیس سال کےدرمیان۔ وہ سب آپس میں ناچ رہے تھے، ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے اور بوس وکنار ہورہا تھا۔ اس فلور پر ناچ کم اور کھلے عام محبت کا اظہار زیادہ ہو رہا تھا۔ میں نے آج سے پہلے صرف سن رکھا تھا مگر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا اتفاق پہلی مرتبہ تھا۔
وہاں سو سے زیادہ لوگ موجود تھے اور ان میں سے تقریباً تیس فیصد ایسے تھے جو مخالف جنس میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ ہم جنس پرستی کے اس کھلے اظہار کو وہاں موجود پارٹی آرگنائزر نے تقریبا پندرہ منٹ برداشت کیا اور پھر ان کو ڈانس فلور سے جانے کو کہا گیا۔ چونکہ وہ اپنے مطلب کے لوگ اکٹھے کر چکے تھے اس لیے انہیں وہاں سے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہوا اور وہ اپنے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے اتر کر لان کے کونے کھدروں میں غائب ہوگئے۔
ڈانس فلور ایک بار پھر لڑکیوں اور لڑکوں سے بھر گیا اور ایک اور دور چلا ٹرانس میوزک کا، شراب کا اور چرس کا دھواں پھیل گیا ہر طرف۔

اٹس گیٹنگ ہاٹ
مجھے یوں لگا کہ یہ گیت جیسے کسی رسم کا آغاز ہو کیونکہ وہاں فلور پر موجود کچھ لڑکیوں نے اپنے برائے نام کپڑوں سے بھی آزادی حاصل کر لی۔

ڈانس فلور پر جلنے والی رنگ برنگ لائیٹیں بند کر دی گئیں سوائے دو سرخ روشنیوں کے۔ اور فضا میں ایک انگریزی گانے کے بول گونجے جو کچھ یوں تھے: ’اٹس گیٹنگ ہاٹ ان ہیئر سو ٹیک آف یور کلوتھز‘ مجھے یوں لگا کہ یہ گیت جیسے کسی رسم کا آغاز ہو کیونکہ وہاں فلور پر موجود کچھ لڑکیوں نے اپنے برائے نام کپڑوں سے بھی آزادی حاصل کر لی۔ کچھ لڑکوں نے انہیں گھیر لیا اور وہ ناچتے ناچتے ایک طرف ہوگئے۔
ہر طرف لڑکے لڑکیاں اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ’ہیونگ اے گڈ ٹائم‘ (اچھا وقت گزارنے) میں مصروف تھے۔ کسی کو یاد نہیں کہ صبح ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں ہے مگر ’صبح ہونے سے پہلے خبر ہو جائے‘ اس کا انتظام کیا گیا ہے۔ لان کے بیچوں بیچ ایک ایسی طاقتور لائٹ لگائی تھی جس کا رخ آسمان کی طرف تھا اور پارٹی کا باقاعدہ اختتام اسی لائٹ کی روشنی میں کیا گیا۔
فجر کی اذان کی آواز تو یہاں نہیں پہنچی مگر جب پو پھٹی تو اس سے کچھ لمحے پہلے ایک گانا بلاسٹ ہوا جس کے بول تھے: ’صبح ہونے کو ہے چلو سب مل کر سورج نکلتا دیکھیں‘۔ سب کی نظریں آسمان کی طرف لگ گئیں اور پیار کے اظہار میں زوروشور بڑھ گیا۔ سب کو پتہ تھا کہ رات ختم ہونے والی ہے اور یہ لمحے دوبارہ نہیں ملیں گے۔
جس لڑکے نے یہ پارٹی آرگنائز کی تھی جب میں نے اسے بتایا کہ میں نے پہلی بار اس طرح کی پارٹی دیکھی ہے تو اس نے مجھے کہا: ’ویلکم ٹو لاہور، آج تم پیدا ہوگئی ہو‘۔

نخبت لاہور میں فلم میکر ہیں اور ایک این جی او کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ نوجوانوں اور بچوں پر فلمیں بنا چکی ہیں۔ اگر آپ بھی ایسی کوئی کہانی ہمیں لکھ کر بھیجنا چاہیں تو بائیں ہاتھ لگے ای میل فارم کے ذریعے لکھ بھیجئے۔

Re: Lahorites is this True???

cheap sensationalism at best. How many people in a city like lahore are into this stuff.. a few hundred, a few thousand, tens of thousands? Surely if this goes away the city will not become some utopia.

But its easy, anyone can just point to the 'elite' and 'westernised' and 'burgers' and say oh theyare so bad. what about other problems in society, that effect more people and have a bigger impact.

intolerance, prejudice, corruption, cheating etc etc etc..but i guess those are not masala enough. Its sad to see bbc printing stories like evening special rag

Re: Lahorites is this True???

pehley yeh batao keh iss ko parey gaa kon?

can u summarize it then we will reject or confirm what ever it is that you want confirming. meri tarah dekh ke darr jaatey hein log aur reply nahin karein ge. so please

Re: Lahorites is this True???

Pretty sad story about a man’s suffering.

Re: Lahorites is this True???

can someone translate what this says for those of us who can't read urdu?

Re: Lahorites is this True???

It's about young "Rich/?Educated" Pakistan girls(between 14-25 years) and guys (18-30 years).

It's about Night partying in Lahore around Defence area near Bedian Road where according to the article..."Rich People" have bought some rest/farm houses(Ranches) & have converted them into 'Invitation Only' all night long ..Night Parties.

It's about how every body (espcially "rich family" kids)drink Alcohol at these parties & how frequently Cocaine & Hash is used.

It also qoutes about young boys(from these "rich"families) in their teenage(16-17 years) doing homosexual acts with not so young guys(25-30 years) & after kissing etc they spent nights with them...Pakistani "Hum Jins Parast"

Accordingly this article is written by a Pakistani Movie Maker/NGO worker named "nikhbat" & it is part of a Bizarre Series on Online BBC URDU named "Sexuality"...Luxury Item has qouted a para from another article from that " series ".

Re: Lahorites is this True???

If i was invited i would hide and take a machine gun with me, and when inside i would have some REAL fun lol

Re: Lahorites is this True???

The story I've quoted is about the sexual frustration of a married man whose wife is a cold fish. That poor man is extremely depressed.

Re: Lahorites is this True???

The above article also mentions about...The young teenage Pakistani girls wearing semi nude clothes dancing on the dance floors ,kissing & hugging with guys...And during the night these tiny clothes are also taken off ...

Re: Lahorites is this True???

is the article making us believe that girls from rich families strip dpwn to complete nudity at these parties?

Thats utter bull****...they may wear revealing clothes by desi standards and they may get into even less at some of these parties but i doubt anyone gets naked. I think in the efforts to sensationalize, what the writer is not disclosing is that at such parties in some cases there are strippers invited as well, and they would strip.

Sure stuff happens in these circles but not out in the open like that. you may know that so and so slept with so and so, but either of the people do not strip in front of strangers. The hookups and all is also highly exxagerated, sure it happens but not everyone at these parties is drinking, doing drugs or getting laid.

alcohol hash, cocaine etc etc... the rich families do not have a monopoly on those. Agsin the group we are talkign about makes up what .. .0000001% or less of the population. surely they are not the only ones smoking pot and drinking alcohol.

Its easy to target this group, makes everyone feels so holy and proper and pakistani. In comparison one's own musalmaniyat and pakistaniyat all of a sudden seems high.

Pathetic story, which paints a horny sensationalised account rather than reality.

Re: Lahorites is this True???

if this is true, what the dude has not written is whethe rhe took her to a psychologist, to figure out what her deal is, and there is no indication of his own skills..

the lady seems to have issues, and he needs to take her to a shrink rather than become crazy himself

or, let her go, if physical relationship is not even close to being satisfactory, then why bother? now having a kid only complicates the situation.

Re: Lahorites is this True???

Some of these retarded people who think they are being "modern" deserve to be terrorised! lol! hahaha yeah im crazy!!! i just feel like grabbing them by the gichey and swinging them around, before picking them up and throwing them in the air onto the farash!!! muhahahah!!!!!!!!!!

Re: Lahorites is this True???

Yes, true.

In Pakistan going to a shrink is an admission of a person's pagal-ness. I suspect his wife would retory by saying maiN pagal nahin hooN!!!.

As regards skills, even they fail on cold fishes and from his account he has stumbled upon one from the frozen foods section.

He is better off calling it quits.

Re: Lahorites is this True???

Who cares :rolleyes:

Re: Lahorites is this True???

^ for some reason the bbc found it publication worthy.

Re: Lahorites is this True???

this sh*T happens everywhere.... who cares

Re: Lahorites is this True???

^ its made into an art form in pakistan, add some mirch masala to stories, externally say tobah tobah and oh how bad and inside live vicariously through others and get your jollies.

It amuses me when ppl get on this holier than thou pulpit when it comes to 'burgers' as if porn movies are not available and seen all over the city anyways or prostitution is not in service all over. laikin ji...'woh' log kharab hain. baqi sab acchay hain

Re: Lahorites is this True???

That story is utter bull****. This guy claims that his wife,having done masters, never knew about physical relations between husband and wife. As if people eat from their noses in Pakistan.

Re: Lahorites is this True???

frikkin burger log.

Re: Lahorites is this True???

Lahore is sick freakin place
I mean who cares about lahore???:desimunda: