http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=3046.0
Nice article on ‘shoes’ written by Nida Fazli shared by IS.
http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=3046.0
Nice article on ‘shoes’ written by Nida Fazli shared by IS.
Re: Joota Nama
The link is not working:(
Re: Joota Nama
Its working here. Anyway, here is text of the article.
[TABLE="width: 100%"]
[QUOTE]
جوتا انسان اورزمینی رشتے کے بدلتے ادوارکی تاریخ کا بیانیہ ہے۔ سردی سے بچنے کےلئے روئی ، اُون اور جانوروں کی کھالیں وجود میں آئیں۔
جب اللہ کی جنت میں آدم اور حوا نے شیطان کے بہکانے سے شجر ممنوعہ کا پھل کھایا اور پھر جب ایک دوسرے کو برہنہ پایا تو پہلے درختوں کے پتّوں سے اس برہنگی کو چھپایا پھر جب زمین کو بسایا تو طرح طرح سے شرم وحیا کا شعور جگایا۔ پھر گرمی آئی سورج کی حرارت نے سر کے اوپر چھپر اُٹھایا، برسات نے پانی سے بچنے کا گُر سکھایا۔ بھوک نے کبھی جڑی بوٹیوں کو کھایا کبھی جانوروں کو بھوجن بنایا۔ زمین کے کنکر پتھر نے جب پیروں کی نرم جِلد کو ستایا توآدم زاد نے اس تکلیف سے بچنے کےلئے کبھی لکڑی سے کھڑاؤں بنائی اورکبھی جانور کی کھال سے پیروں کوکنکرپتھر کے زخموں اور دھوپ کی تیزی سے تلووں کو آرام پہنچایا۔ وقت کے ساتھ آدمی کی ضرورتوں نے دریا ،پہاڑ ، درختوںوغیرہ کو توڑ جوڑ کر سنسار سجایا۔ اس سنسار کی تہذیبی تعمیر میں ’ جوتے نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی کئی نشانیوں میں سے ایک کے، جوتے ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ہاتھی آدمی سے کئی گنا لمبا چوڑا ہے لیکن اُسے کبھی جوتے کی ضرورت نہیں پڑتی، شیر کو جنگل کا راجہ کہا جاتا ہے پورا جنگل اس کے اختیار میں ہوتا ہے لیکن وہ بھی آدمی اور عورت کی طرح نہ کسی چیز سے اپنے ننگے پن کو ڈھانپتا ہے ، نہ بھوجن کےلئے شکار کی راہوں کو جوتوں سے ناپتا ہے۔ چڑیاں بھی اپنے پنجوں سے پھدکتی پھرتی ہیں۔ اوربزرگ مصّور مقبول فدا حسین کے پیر بھی اس انسانی ایجاد سے آزاد ہیں۔ وہ انسانوں کی طرح داڑھی ترشواتے ہیں، اپنے ڈیزائن کے کپڑے بھی سلواتے ہیں، مسلمان ہوتے ہوئے کبھی حسینی رامائن بناتے ہیں، کبھی بھارت ماتا کو آدی باسی کی طرح بے لباس دِکھاتے ہیں، پھر بھی سپریم کورٹ سے معافی پاتے ہیں۔ لیکن جوتا کبھی ان کی بے توجہی سے ناراض نہیں ہوا۔ لوگوں نے اپنے جوان اور بزرگ جوتوں کو لاکھ گھمایا پھرایا لیکن حسین کا گم شدہ جوتا ، ان کے خلاف گواہی دینے کبھی نہیں آیا۔ لیکن اس احسان کے باوجود حسین صاحب نے اسے نہیں اپنایا۔ وہ ہٹّے کٹّے گھوڑوں کی ہی تصویربناتے رہے۔ ان گھوڑوں کو نہ کبھی جوتا پہنایا اورنہ اس جوتے کو جس نے عدالت میں غیرحاضر ہوکر کیس میں ان کا ساتھ نبھایا ، اسے کبھی اپنے پیروں سے نہیں لگایا۔ حسین جسمانی لحاظ سے بھلے ہی دھان پان ہوں لیکن ان کے گمشدہ یا طلاق شدہ جوتے کافی بلوان ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں کئی سیاسی جوتے ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ کبھی وہ جن سنگھی بن کر اُن پروار کرتے ہیں، کبھی آر ایس ایس کے روپ میں انہیں پریشان کرتے ہیں، کبھی ہندتوا کی شکل میں ان کو ڈراتے ہیں، لیکن ان سارے جوتوں کے سامنے حسین کے وہ وفادار جوتے جن کو کبھی ان کا قرب حاصل نہیں ہوا، حسین صاحب کی حفاظت ہی نہیں کرتے ہزاروں ، لاکھوں کی بھیڑکا اکیلے مقابلہ کرتے ہیں اوراس مقابلہ میں جیت بھی انہیں کی ہوتی ہے۔
بھارت میں قبل از تاریخ کے دور میں جوتا پہلی بار اساطیری حوالے میں ملتا ہے ۔ اس وقت اس کا نام کھڑاؤں تھا اوراسے لکڑی سے بنایا جاتا تھا۔ رام کے پتا دشرتھ کی تین رانیاں تھیں۔ ان میں ایک کانام کیکئی تھا ۔ رام ،پریوار میں سب سے بڑے ہونے کے ناطے راج گدّی کے حقدار تھے ۔ لیکن کیکئی اپنے بیٹے بھرت کو دشرتھ کو تخت کا وارث بنانا چاہتی تھی۔ اس نے چالاکی سے دشرتھ سے ایک خواہش پوری کرنے کا وعدہ لے لیاتھا۔ اس نے دشرتھ کو وہ وعدہ یا د دِلاکر رام کو چودہ سال کے بن باس کےلئے مجبورکردیا۔ رام پتا شری کے آدیش کو فرض مان کر محل چھوڑ کر چل دیئے۔ لیکن کیکئی کا بیٹا بھرت ، اپنے بڑے بھائی کا عقیدتمند تھا۔ وہ رام کو محل چھوڑنے سے روک تونہیں پایا ۔ لیکن اس نے رام کی راج گدّی پر بیٹھنے سے بھی انکار کردیا۔ اس نے اپنی ماں کی مرضی کے خلاف، راج گدّی پر رام کی کھڑاؤں رکھدیں اور وہ چودہ برس تک ان کے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا۔ ایودھیا میں جوتوں کی علامتی حکومت کی یہ پہلی مثال ہے۔
جوتوں کا دُنیا کی ہرزبان میں الگ الگ نام ہیں۔ کہیں اسے’ شو‘ کہا جاتا ہے کہیں موجڑی کے نام سے پکارا جاتا ہے، پاپوش اس کا نام ہے ۔ کہیں جفتِ یا اس کا اسم ہے۔ کہیں زیر پائی مشہور ہے۔ کہیں کفش بولا جاتا ہے۔ اسی اعتبارسے جوتوں کے تعلق سے اردولغت میں بہت سے محاوروں نے جنم لیا ہے۔ ان میں ایک محاورہ جوتیاں چٹخانہ ہے ۔ فسانہء آ زاد میں اسے یوں استعمال میں لایا گیا ہے۔ جھوٹ بولنے والے ، خوشامد کرنے والے .... تو مزے اڑائیں، اور علماءفضلاءجوتیاں چٹخائیں۔ مشہور نقاد اور شاعر صفدر آہ نے تباہ حالی کےمعنی میںاسے نظم کیا ہے۔
آپ کے کوچے میں دشمن رات دن
جوتیاں پھرتے ہیں چٹخاتے ہوئے
جوتیاچٹخانے کی طرح جوتیاں مارنا ذلیل کرنے کے معنی میں مستعمل ہے ۔ خدائے سخن میرتقی میر کی ایک غزل کا مقطع ہے۔
اے میر غیر تجھ کو گر جوتیاں نہ مارے
سیّد نہ ہووے پھر تو کوئی چمار ہووے
اسی طرح جوتے پر جوتا سوار کے معنی سفر درپیش ہونے کا شگون ہوتا ۔ کبھی کبھی جوتا اُتارتے وقت ایک جوتا دوسرے پر چڑھ جاتا ہے۔ اس سے مراد جوتے والے کے آئندہ سفر سے ہوتی ہے۔ جوتی سے ہی ایک محاورہ جوتی جانے بھی بنتا ہے۔ کسی بات سے لاتعلق ہونے کےلئے اکثر خواتین اسے بولتی ہیں۔ قلق نے اپنی مثنوی میں اسے یوں نظم کیا ہے۔
جوتی جانے مری مجھے کیا کام
جس نے بلوایا ہے اسے دوپیام
’جوتیوں میں دال بٹنا‘ بھی محاورہ ہے ۔ اس سے آپس میں پھوٹ پڑنے کا مفہوم لیاجاتا ہے۔ لڑائی ، جھگڑا بھی اس کا مطلب ہوتا ہے معروف نے شعر میں اس محاورہ کو یوں باندھا ہے۔
جو بزم غیر میں منہ کا ترے اُگال بٹے
خدا کرے کہ وہاں جوتیوں میں دال بٹے
جوتی کی اَنی ، یعنی جوتی کی نوک کے مفہوم میں خواتین بولتی ہیں۔ خواجہ حیدرعلی آتش کے ہم عصر امام بخش ناسخ لکھنوء کی زبان اوراس کے محاوروں کے پرستار تھے ۔ ان کی شعری زبان سند کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کا ایک شعرملاحظہ کریں۔ آج کل یہ محاورہ متروک ہے۔
پھبتی یہ نئی ہے ماہِ نوپر
گویا تری جوتی کی اَنی ہے
جوتوں سے کئی تہذیبی رسموں کا بھی تعلق ہے ۔ شادی بیاہ میں سالیاں ( دلہن کی بہنیں) اکثر دولہا بھائی کا جو جوتا چھپا کر جوتا چھپائی کا نیگ مانگتی ہیں۔ بھاؤ تاؤ کیا جاتا ہے اوراس طرح دولہے سے منہ مانگا انعام لیاجاتا ہے۔ ایک دولہے اس رسم سے واقف تھے اس لئے احتیاطاًوہ ایک جوڑا پہن کر اوردوسرا ایک تھیلی میں چھپا کر لائے تھے۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔ خود دلہن نے اس طر ف اشارہ کیا اور لڑکیوں نے تھیلی کو بھی غائب کردیا۔ اب دولہا میاں لاچار ہوگئے۔
دولہا کا جوتا جس نے چرایا
مُنہ مانگا اس نے انعام پایا
روی داس ، جنہیں رے داس بھی کہاجاتا ہے ۔ سنت کبیر اور میرا ںبائی کے دور کے سنت کوی تھے۔ دیگر سنت کویوں کی طرح ان کی جائے پیدائش اور تاریخ ولادت کا تعین میں مختلف رائیں ملتی ہیں۔ وہ ذات سے چمار تھے ۔ اپنے باپ کے ساتھ جوتے بناتے تھے اوراسی محنت سے روٹی کماتے تھے۔ لیکن ان کا مزاج روحانی تھا۔ تجارت کے داو¿ں پیچ سے ناواقف تھے۔ سادھوسنتوں کو وہ اکثر مفت میں بھی جوتے پہنادیا کرتے تھے ۔ ان کی اس روِش سے نالاں ہوکر ان کے باپ نے انھیں گھردوکان سے الگ کردیا۔ ان کی شاعری میں رام رحیم دونوں ایک ہی نور کے نام تھے۔ میراں بائی انہیں کی چیلی کہی جاتی ہیں۔ رے داس کے کئی پدسِکھوں کے مقدس گرنتھ میں بابا فرید، کبیر، نام دیو کے ساتھ کافی تعداد میں شامل ہیں۔ رے داس کی بانی بھی کبیر کی طرح خدا کو رسوم کا پابند نہیں بناتی ، ہر ذرے میں اس کا دیدار پاتی ہے۔ ان کے ایک پد کی لائنیں ہیں۔
تُرک مسیت( مسجد) اللہ ڈھونڈئی دہرے (مندر) ہندو رام گسائیں
روی داس ڈھونڈیا رام رحیم کوں ، جہامسیت دہرانا ہیں....
اردو میں میاں نظیر بھی سب دھرموں کی عزت کرتے تھے۔ وہ میر اور غالب کی طرح آگرے کے اشرافیہ میں سے نہیں تھے۔ ان کا سماجی طبقہ عام آدمی سے متعلق ہے۔ ہر لکھنے والے کی تخلیق میں اس کا سماجی طبقہ جھانکتا ہے ۔ اسی لئے نظیر اردو شاعری کے مجموعی مزاج سے مختلف نظر آتے ہیں۔ اس میں نہ چاند میں محبوبہ نظرآتی ہے اورنہ عشق کو دماغی خلل سمجھاجاتا ہے ۔ وہ محبوبہ اور عشق کے بجائے روٹی ، مفلسی ، ڈھونگی اور درویشی کی بات کرتے ہیں۔ روٹی کو موضوع سخن بنانے کے جرم میںانہیں ناقدین نے کبھی قابلِ توجہ نہیں سمجھا۔ لیکن وقت کی تبدیلی نے ناقدین کے علم کو عوامی لاعلمی کے سامنے جھکادیا اورنظیر کے بعد نظیر کو اردو شاعری کا غالب ، میر، انیس کے ساتھ چوتھا ستون بنادیا۔ نظیر کی مشہور نظم’ آدمی نامہ‘ میں جوتوں کے موضوع پر ان کا ایک بندیوںہے۔
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور حظبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قرآں اورنمازیاں
اورآدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جو، ان کو تاڑتا ہے سوہے وہ بھی آدمی
مقبول فدا حسین کا گمشدہ جوتا ، ایک لمبی تاریخ کا مسافر ہے۔ وہ رے داس کے ساتھ بھی تھا بعد میں میروغالب کے عہد میںنئے رنگ روپ میں نظیر کے یہاں نظرآتا ہے۔ یہ جوتا کافی سفر مزاج سیلانی ہے۔ کبھی یہ بنارس میں رے داس کے مانڈور نامی گاؤں میں اتحاد ویگانگت کے گیت گاتا ہے۔ آگرے میں نظیر کے یہاں انھیں کوئی چراتا ہے ۔
ممبئی میں یہ غیر حاضر ہوکر عدالت سے صحیح فیصلہ کرواتا ہے اور کبھی صدام کے بغداد میں ایک صحافی کے ہاتھ سے دُنیا کی سب سے بڑی طاقت کے منہ پر مارا جاتا ہے۔ بغداد نے اس جوتے کے ذریعے عالمی تاریخ میں ایک نیا باب جوڑا ہے۔ اس باب میں اس نے لکھا ہے جب لغت بے معنی ہوجاتی ہے ۔ الفاظ گونگے ہو جاتے ہیں ۔ سننے والے بہرے ہوجاتے ہیں ، بولنے والے ہونٹ خاموش ہوجاتے ہیں توجانور کی مری ہوئی کھال کا جوتا بولنے لگتا ہے۔ میری رائے ہے کہ ان اُچھالے ہوئے جوتوں کو بغداد سے برِصغیر کے تینوں علاقوں میں مدعو کیاجائے اور ان کے کئی کلونز بنائے جائیں اور بہ وقتِ ضرورت سیاست کو راستہ دکھانے کے کام میں لائے جائیں۔
کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کو سمجھایا ہے۔
[/QUOTE]
Re: Joota Nama
What is this about. ![]()
Re: Joota Nama
About Joota
Now don’t tell me that you can’t read Urdu ![]()
Re: Joota Nama
Propaganda bout ‘joota’ ?
I can read urdu :korn:
Re: Joota Nama
Mat poochen kitni khushi hui Urdu padhne wala dekha kar :)
Its a good article telling us importance about joota (shoes) and explaining why and how people made it, what was the importance of joota in different cultures, mentioning of joota in religious books and idioms, etc. A good read.
PS: The story behind this was IS posted some ashar in poetry where the word 'Khedaon' was used and I confirmed from him that does that mean 'Jootay' and he then shared this article with me.
Re: Joota Nama
Seriously joota paray gaa to samjh aa jaaye gi ![]()
Nice article Muqawee
Re: Joota Nama
Nice Article but its not complete without Bandar Killa :cobra:
Re: Joota Nama
Mat poochen kitni khushi hui Urdu padhne wala dekha kar :)
Its a good article telling us importance about joota (shoes) and explaining why and how people made it, what was the importance of joota in different cultures, mentioning of joota in religious books and idioms, etc. A good read.
PS: The story behind this was IS posted some ashar in poetry where the word 'Khedaon' was used and I confirmed from him that does that mean 'Jootay' and he then shared this article with me.
Urdu ko parhnay kaa maza urdu mein hai roman urdu mein nahi :)
Re: Joota Nama
saheeh kaha main bari mushkiloon say urdu walli stories dhoond dhoond kar parhta hoon ![]()
Re: Joota Nama
Bnadar killa?? ![]()
Re: Joota Nama
Lagta hay aap ne bachpan mai bohat jhote khaiye hain ![]()
Re: Joota Nama
Should i open a thread here
Its about Culture :cobra:
Pyaar kia to darna kia ![]()
Re: Joota Nama
Yes go ahead. Waise hum to Shahi muhale ke culture per bhi thread kholenge.
Re: Joota Nama
us main payar tu nai karna hota rassi ko pakar k gol gol gomna hota hay ![]()
Re: Joota Nama
Acha maine to Pakistani filmon main aashiqon ko darakhton ke chakar lagate huw dekha hai. ![]()
Re: Joota Nama
us ko Bandar Killa nai kuch ar kehte hain ![]()
Re: Joota Nama
Mein to kuch bhi nahi kiya ![]()
Re: Joota Nama
magar joota nama samjh to nahi aya naa
ab jootay say hi samjhana paray gaa ![]()