Risala raday harkat e zameen?
Re: Is the earth round or flat?
قرآن 18:90۔ ذوالقرنین اور زمین کا مشرقی کنارہ[RIGHT]قرآن کے مطابق جب ذوالقرنین سفر کرتا ہوا زمین کے مشرقی کنارے پہنچا تو اس نے اس نے ایسی قوم کو دیکھا کہ جسکے پاس سورج کی شدت سے بچنے کی کوئی اوٹ نہ تھی۔
** (القرآن 18:90) حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَىٰ قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَل لَّهُم مِّن دُونِهَا سِتْرً*اترجمہ: یہاں تک کہ جب (ذوالقرنین) سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، اسے ایسی قوم پر نکلتا پایا جن کے لئے ہم نے سورج سے (بچنے کی) کوئی آڑ نہیں رکھی۔**
ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتا ہے (لنک](http://l.facebook.com/l.php?u=http%3A%2F%2Fweb.archive.org%2Fweb%2F20160806113747%2Fhttp%3A%2F%2Fgegasoft.com%2Fquran-reader%2Fen%2Ftafaseer%2Ftafseer-ibn-e-kaseer%2Fsurah-18-al_kahf-verse_no-90.html&h=NAQFiPP-w&s=1)):
- ”جب آپ سورج نکلنے کی جگہ پہنچے وہاں دیکھا کہ ایک بستی آباد ہے لیکن وہاں کے لوگ بالکل نیم وحشی جیسے ہیں ۔ نہ وہ مکانات بناتے ہیں نہ وہاں کوئی درخت ہے سورج کی دھوپ سے پناہ دینے والی کوئی چیز وہاں انہیں نظرنہ آئی ۔ ان کے رنگ سرخ تھے ان کے قد پست تھے عام خوراک ان کی مچھلی تھی ۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جایا کرتے تھے اور غروب ہونے کے بعد جانوروں کی طرح ادھر ادھر ہوجایا کرتے تھے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہاں تو کچھ اگتا نہ تھا سورج کے نکلنے کے وقت وہ پانی میں چلے جاتے اور زوال کے بعد دوردراز اپنی کھیتیوں وغیرہ میں مشغول ہو جاتے ۔ سلمہ کا قول ہے کہ ان کے کان بڑے بڑے تھے ایک اوڑھ لیتے ، ایک بجھالیتے ۔ قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ وحشی حبشی تھے ۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ وہاں کبھی کوئی مکان یا دیوار یا احاطہ نہیں بنا سورج کے نکلنے کے وقت یہ لوگ پانی میں گھس جاتے وہاں کوئی پہاڑ بھی نہیں ۔ پہلے کسی وقت ان کے پاس ایک لشکر پہنچا تو انہوں نے ان سے کہا دیکھو سورج نکلتے وقت باہر نہیں ٹھہرنا انہو نے کہا نہیں ہم تو رات ہی رات یہاں سے چلے جائیں گے لیکن یہ توبتاؤ کہ یہ ہڈیوں کے چمکیلے ڈھیر کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا یہاں سے پہلے ایک لشکر آیا تھا سورج کے نکلنے کے وقت وہ یہیں ٹھیرا رہا (تو گرمی کی شدت سے) سب مر گئے یہ ان کی ہڈیاں ہیں“۔*
صحابہ اور تابعین کا اس روایت کے متعلق کیا عقیدہ تھا، یہ آپ ذیل کی روایات میں پڑھئیے:
تفسیر در منثور، آیت 18:90 (لنک](http://l.facebook.com/l.php?u=http%3A%2F%2Faltafsir.com%2FTafasir.asp%3FtMadhNo%3D2%26tTafsirNo%3D26%26tSoraNo%3D18%26tAyahNo%3D90%26tDisplay%3Dyes%26UserProfile%3D0%26LanguageId%3D1&h=qAQHyBzXQ&s=1)):وأخرج ابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في العظمة، عن ابن جريج في قوله: { حتى إذا بلغ مطلع الشمس } الآية. قال: حدثت عن الحسن عن سمرة بن جندب… قال: " قال النبي صلى الله عليه وسلم: { لم نجعل لهم من دونها ستراً } أنها لم يبن فيها بناء قط، كانوا إذا طلعت الشمس دخلوا أسراباً لهم حتى تزول الشمس ". ترجمہ:حضرت سمرہ بن جندب روایت کرتے ہیں کہ رسول (ص) نے فرمایا کہ اس قوم میں کوئی تعمیر نہیں تھی، جب سورج طلوع ہوتا تھا تو وہ اپنی سرنگوں (اور غاروں) میں داخل ہو جاتے (اور پھر وہیں رہتے) حتیٰ سورج ڈھل جاتا (وہ ایسا اس لیے کرتے کیونکہ جب سورج نکل رہا ہوتا تو وہ سورج کے بالکل قریب ہوتے اور زمین کے اس مشرقی کنارے پر سورج کی دھوپ انتہائی تیز ہوتی ہے)۔ وأخرج الطيالسي والبزار في أماليه وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ عن الحسن في قوله: { تطلع على قوم لم نجعل لهم من دونها ستراً } قال: أرضهم لا تحتمل البناء، فإذا طلعت الشمس تغور في المياه، فإذا غابت خرجوا يتراعون كما ترعى البهائم. ثم قال الحسن: هذا حديث سمرة.ترجمہ:حضرت الحسن سے روایت ہے کہ اس قوم کی زمین بھی ایسی تھی کہ وہ عمارت کو برداشت نہ کر سکتی تھی (سورج کی انتہائی حدت کی وجہ سے) جب سورج طلوع ہوتا تو وہ پانیوں میں نیچے چلے جاتے، اور جب سورج غروب ہو جاتا تو وہ باہر نکل آتے تھے۔ وہ اسی طرح چرتے تھے جیسے جانور چرتے ہیں۔ پھر حضرا الحسن فرماتے ہیں کہ یہ سمرہ کی حدیث ہے۔وأخرج ابن أبي حاتم عن قتادة في الآية قال: ذكر لنا أنهم بأرض لا يثبت لهم فيها شيء، فهم إذا طلعت دخلوا في أسراب حتى إذا زالت الشمس خرجوا إلى حروثهم ومعايشهم.ترجمہ:قتادہ سے روایت ہے کہ: ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک ایسی زمین پر رہتے تھے کہ جس میں کوئی چیز بھی (سورج کی گرمی کی حدت کی وجہ سے) قائم نہیں رہتی تھی۔ پس جب سورج طلوع ہوتا تو وہ اپنی سرنگوں میں چلے جاتے۔ جب وہ ڈھل جاتا تو وہ اپنے کھیتوں اور معاش کی طرف چلے جاتے۔
امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ وہ لوگ مچلی پکانے کے لیے صرف اسے دھوپ میں کر دیتے تھے اور مچھلی پک جاتی تھی۔ [/RIGHT]
نتیجہ:[RIGHT]قرآن کی اس آیت اور صحابہ اور تابعین کا عقیدہ پس یہ تھا کہ زمین “چپٹی” ہے چنانچہ سورج اسکے ایک مشرقی کنارے سے نکلتا ہے تو وہاں پر انتہا کی گرمی ہوتی ہے کیونکہ سورج اس مشرقی کنارے سے قریب ہوتا ہے۔ یہ سورج کی حدت اس غضب کی ہوتی ہے کہ اس مشرقی کنارے پر کوئی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ اور جو قوم یہاں آباد ہے، وہ اس لیے غاروں اور سرنگوں میں رہتی ہے۔ [/RIGHT]
قرآن نے ذوالقرنین کا واقعہ قدیم دیو مالائی داستانوں سے نقل کیا[RIGHT]زمین کے مشرقی کنارے پر دھوپ کی اس شدت کے متعلق یہ قصہ پرانے دیومالائی قصے سے نقل کیا ہے۔ Romance of Alexander نامی قدیم کتاب میں اس قصے کی تفصیل یوں دی گئی ہے:[/RIGHT]
So the whole camp mounted, and Alexander and his troops went up between the fetid sea and the bright sea to the place where the sun enters the window of heaven; for the sun is the servant of the Lord, and neither by night nor by day does he cease from his travelling. The place of his rising is over the sea, and the people who dwell there, when he is about to rise, flee away and hide themselves in the sea, that they be not burnt by his rays; and he passes through the midst of the heavens to the place where he enters the window of heaven; and wherever he passes there are terrible mountains, and those who dwell there have caves hollowed out in the rocks, and as soon as they see the sun passing [over them], men and birds flee away from before him and hide in the caves, for rocks are rent by his blazing heat and fall down, and whether they be men or beasts, as soon as the stones touch them they are consumed.**Reference:**Sir Ernest Alfred Wallis Budge, “The History of Alexander the Great, Being the Syriac Version of the Pseudo-Callisthenes, Volume 1”](http://l.facebook.com/l.php?u=http%3A%2F%2Fbooks.google.com%2Fbooks%2Fabout%2FThe_History_of_Alexander_the_Great_Being.html%3Fid%3D_14LmFqhc8QC&h=WAQEwBBq9&s=1),page 148, The University Press, 1889.
Re: Is the earth round or flat?
A part from bible and quran Noah's arch is mentioned in old hindu scriptures as well.
Re: Is the earth round or flat?
A part from bible and quran Noah's arch is mentioned in old hindu scriptures as well.
If it is mentioned in Hindu Scripture it MUST be true.
Re: Is the earth round or flat?
People had been traveling those days across the old world - stories could be easily taken and modified according to wishes of religious leaders.
Anything from the new world?
Re: Is the earth round or flat?
People had been traveling those days across the old world - stories could be easily taken and modified according to wishes of religious leaders.
Anything from the new world?
I see you are questioning Hindu Scripture.
Again.
We had this discussion in the not so distant past.
Thank you.
Re: Is the earth round or flat?
Saudi cleric becomes online laughing stock after telling student the sun rotates around the Earth as otherwise planes would not be able to fly
- **Sheikh Bandar al-Khaibari claimed Earth is stationary and the sun rotates **
- **Offered religious statements and clerical comments to back up his belief **
- **Also launched into baffling explanation about airliners never being able to reach their destination if the earth was truly moving **
- **Also claimed NASA moon landings are the stuff of Hollywood fabrication **
Re: Is the earth round or flat?
I see you are questioning Hindu Scripture.
Again.
We had this discussion in the not so distant past.
Thank you.
Or I may have confused you with Mostar95. But the point stands.
Re: Is the earth round or flat?
It is the very old debate that earth is round or flat as now the scientist has seen the world from space that earth is round and gravitational force has the major force to stick everything to the earth.
Re: Is the earth round or flat?
Actually the Flat Earth People all say the Earth is a Round Flat …Disk with a Dome on top with the Geographic North Pole in the middle of the disk!
I say we will let Mr Tesla take them up in his new rocket ship and show them how things really are until then it is a waste of time convincing the Flat Mongers ![]()
Restored attachments:
