agar mizaaj-e-giramii par baar-e-garaaN na guzre to yeh bandah-e-naa_cheez o haqeer-e-pur taqseer yeh 'arz karnaa chaahtaa hai k Urdu zubaan kii irtaqaa ke naam par iskii saakht meN jo tabdiiliyaaN laayii jaa rahii haiN vo kisii ai’tabaar se bhii musbat nahii haiN. is parishaanii-e-Khaatir se chhuTkaaraa Haasil karne kii ab tak tamaam koshisheN raaigaaN saabit huii haiN aur ba’d az iiN Urdu adab aur aazaad nazam goii ke naam par jo kalaam manzar-e-'aam par namoodaar ho rahe haiN unke me’yaar par baa_ma’nii o soodmand guft o shuneed ke silsile se in’iqaad kii ashadd zaroorat hai.
**
اس کائنات میں دل بہت ہی خطرناک چیز ہے – خطرناک اس لئے کہ یہ اکیلا رہتا ہے ، اکیلا سوچتا ہے ، اور اکیلا ہی عمل کرتا ہے -
اور اکلاپے میں بڑا خوف ، بڑا وہم مسلسل ڈر ہوتا ہے -
… دماغ ہمیشہ عقلمندی کی ، حفاظت کی باتیں سوچتا ہے – اپنے آپ کو cover کرنے کی ، اور محفوظ رہنے کی ترکیبیں وضع کرتا ہے -
دماغ گروہ میں چلتا ہے اور اپنے ارد گرد آدمیوں کا ہجوم رکھتا ہے – اسی جلوس سے اس کو تقویت ملتی ہے ، سہارا ملتا ہے -
لیکن فقیر ہمیشہ اکیلا رہتا ہے – دل کے فیصلے کے مطابق ، خوفناک مقاموں میں -
دماغ جب بھی سوچتا ہے اپنی لیڈری ،اپنی برتری اور اپنی نمود کے بارے میں سوچتا ہے -
اپنی ذات کو مرکز بنا کر سوچتا ہے -
دل جب بھی سوچتا ہے محبوب کا گھر دکھاتا ہے – دل سے سوچنے والا ماریا تھریسا ہوتا ہے یا منشی اسپتال کا خالق یا ایدھی ………………
اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ ہمیشہ اکیلا ہوتا ہے اور اکیلا ہی چلتا ہے -
جو کوئی دل کی طرف مائل ہوا وہ گرا ، گرفتار ہوا، پکڑا گیا – اسی لئے ہم کہتے ہیں فلاں ، فلاں کی محبّت میں گرفتار ہوا -
دماغ ہمیشہ اور ، اور ، اور کا طلبگار ہوتا ہے – ھل من مزید پکارتا رہتا ہے – یہ اس حقیقت کو بلکل نہیں جانتا کہ تمھارے پاس پہلے سے کیا کیا ہے -
اور تمہارے قبضے میں کیا کچھ ہے – یہ تو بس اور اور مزید مزید کا شکار ہے -
تم چاہے فقیر ہو ، یہ اور مانگے گا -
شہنشاہ ہو یہ اور مانگے گا-
ایک دولت مند شخص ہمیشہ غریب رہتا ہے کیونکہ وہ اور کا طلبگار ہوتا ہے -
maiN jab samajhne ke liye paRhtaa huN to phir uskaa bayaan nahiiN kartaa aur jab bayaan kartaa huuN to usko baGhair samjhe boojhe hii kartaa huN. kuchh samajh meN aayii merii baat?