**زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔ وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتاہے۔ کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا۔ پھر ہمیں پتا چلتاہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان،بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلامیں تھامے ہوئے ہے۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے۔ پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یانہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے ۔ صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے۔ کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیزپر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
**Aurat her bazi dil sey khailti he magar kabi kabar koi ek bazi aisi hoti he jisey wo dimag sey khailti he aur is waqt kam az kam is bazi main koi is k samney khara reh sakta he na isey chit ker sakta he aur wo bazi…wo bazi “Baqa ki Bazi” hoti he.
جب عورت کو عّزت نہ ملے تو وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہو جاتی ھے۔ مرد سمجھتا ہے اس نے عورت کو تسخیر کر لیا ھے‘ اس سے دب کر خاموشی اختیار کر لی ھے بے وقوف مرد۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ خاموشی مرد ذات کی نفی کے لیے اختیار کی گئی ھے اور اس چُپ کے پردے میں فقط بیزاری‘ نفرت اور مصلحت کے جزبے پوشیدہ ہیں۔
شازیہ چوہدری کے افسانے “تو پھر یہ طے ہے کہ” سے اقتباس۔