Trying to get at the truth on the matter is becoming excruciatingly difficult as a search on Google forces you to dig through a mountain of self-congratulatory Indian articles… It’s sad how desperately Indians have wanted this thing. a desperately needed ego boost for this poor country. I almost hope they never realize what sham it all is.
i have to agree…i still want indian pakistan to become 2 friendly nations but i am afraid it may be just a dream. so much hatred has been induced by medai and hardliners on both sides that no hope is left. especially indian media!!! everyone and i mean every journalist in india simply does not believe in objectivity when it comes to pakistan. they just take instructions from their govt and army. no analyses nothing. indian army one morning said we did strikes, killed 40 dirty pakis on their land and no one got killed from our side, chalo jee, baat khatam, Jai Hind. and that is it. no freakin indian will ask any more question. when? how? were? and now indians are claiming their indian army to be at par with usa army who can do such superior operations so quickly and so efficiently
[RIGHT]پاکستان کو کشمیر اشو ترک کردینا چاہئے :
تحریر:Shahzad Nasir
اڑی سیکٹر واقعہ سے جنم لینے والی کشیدگی اور دونوں ملکوں میں جنگ کی تیاریوں نے امن اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دونوں طرف سے مخالفانہ بیانات داغے جارہے ہیں ، اگر انڈیا میں میڈیا کے جوکر اینکرز الٹے سیدھے تبصرے کررہے ہیں تو پاکستان میں میڈیا کے جوکراور بازاری اینکروں مبشر لقمان اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسوں کی لاٹری نکلی ہوئی ہے ۔ اگر انڈیا میں شیو سینا پاکستان دشمنی کی کھیر پکا رہی ہے تو پاکستان میں عمران خان جیسے لوگوں کو سنہری موقع ملا ہوا ہے کہ اپنی سیاسی دکان چمکائیں ۔
لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ کشمیر پر کشیدگی بڑھنے یا جنگی بخار میں مبتلا ہونے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا ؟ سیدھی سی بات ہے کہ انڈٰیا کشمیر تھالی میں رکھ کر نہیں دے گا ۔ لازمی ہے کہ جنگ لڑنی پڑے گی ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چار جنگیں کشمیر پر پہلے بھی تو لڑی جاچکی ہیں
اور1948.1965, 1971 کارگل کی جنگیں ۔ ان کا نتیجہ کیا نکلا تھا ؟
ایوب خان کی جنگ میں لاہور کا دفاع بمشکل ہوا اور اس جنگ کی کوکھ سے مجیب الرحمان کے چھ نکات نے جنم لیا اور مشرقی پاکستان مٰیں علیحدگی کی تحریک شروع ہوئی ۔
اکہتر کی جنگ میں انڈیا نے ایوب خانی جنگ کا بدلہ لیا اور پاکستان ٹوٹ گیا ۔
کارگل جنگ انتہائی متنازع تھی ہاں ایک بات طے ہے کہ ہم کارگل جنگ سے کچھ حاصل نہ کرسکے ۔ جس جنرل مشرف کو کارگل جنگ پر ناز تھا وہی اقتدارمیں آنے کے بعد انڈیا کو سب سے زیادہ رعائیتیں دے رہا تھا ۔
ہم چار مرتبہ انڈٰیا سے زور آزمائی کرچکے ہیں اور حاصل وصول یہ کہ بنگالی الگ ہوگئے ۔
اب آتے ہیں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال پر ۔ یقین کرلیں کہ ایٹمی ہتیھار استعمال نہیں ہوسکتے۔ اس لئے کہ دونوں ملکوں کی آبادی جڑٰی ہوئی ہے اور تباہ کن ایٹمی غبار انڈیا کے ساتھ پاکستان کو بھی صاف کردے گا۔ بچ جانے والے کروڑوں افراد بیماریوں ، بھوک اور پانی کی کمی سے سسک سسک کر مرجائیں گے ۔ کیا ہم اس لئے کشمیر کے لئے قربانی دے رہے ہیں کہ لاکھوں کروڑوں لوگ سسک سسک کر ہلاک ہوجائیں ؟
کشمیر اشو ایک بوجھ بن چکا ہے ، ہر سال اربوں روپئے دفاعی بجٹ میں صرف اس مد میں ضائع ہوجاتے ہیں ۔ دنیا ہمارے ساتھ نہیں ہے، امریکا دنیا کے فیصلے کرتا ہے اور وہ انڈیا کے ساتھ ہے ۔ روس اور یورپ بھی ہمیں دہشت گردی روکنے کی ہدایت کررہے ہیں ۔ سارک کانفرنس ملتوی کردی گئی۔ نیپال ، بنگلہ دیش، افغانستان ، سری لنکا نے شرکت سے انکار کردیا ۔
اب ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ اس بات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لینا چاہئے ۔ ہم اکیلے ہوچکے ہیں ۔ یہ دور ٹیکنالوجی اور اکانومی کا ہے جبکہ ہمیں سینکڑوں سال پرانے افسانوی قصوں کی پڑی ہوئی ہے ۔ ابدالی ۔ محمد بن قاسم، غزنوی کے قصے ۔
بس بہت ہوگیا ، ہمیں انکھیں کھول کر حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے ۔ ہمارے پاؤں دلدل میں دھنستے جارہے ہیں ۔ ہمیں اس سے باہر نکلنا ہوگا۔ جہادی تنظیمیں ختم کردینی چاہیٗں ۔ جہاد افغانستان کے لئے شروع کروایا گیا تھا کہ امریکہ جیسی طاقت روس سے لڑ رہی تھی اور اس کا ایجنٹ سعودیہ پٹرول کی آمدنی اس جنگ پر لٹا رہا تھا ۔ کیا ہم امریکہ جیسے وسائل اور صلاحیت و ٹیکنالوجی رکھتے ہیں َ؟ کیا پمارے پاس سعودیہ جیسے تیل کے زخائر ہین ؟
یہ دلیل بھی بودی ہے کہ افغان مجاہدین نے روس کو شکست دی ۔ ہرگز نہیں ۔ اس سے بڑا جھوٹ اور کچھ نہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ روس افغانوں کو اتنا مارتا کہ ان کی سات نسلییں بھی یاد رکھتیں لیکن امریکی اسلحہ ، تربیت ، لاجسٹک سپورٹ ، ٹیکنولوجی ، مہارت ، اربوں ڈالر نے افغانوں کو جنگ لڑنے پر تیار رکھا ۔
ہم آج امریکا کے طریقہ کار کی نقل کررہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ کامیاب ہوجائیں گے ۔ کیا ہم سپر پاور ہیں؟ کیا ہماری اکانومی ، کیا ہماری تعلیم ، کیا ہماری ٹیکنالوجی کا معیار اور سائز امریکا کے مقابلے کا ہے ، ہمیں خواب خرگوش کی دنیا سے باہر آجانا چاہئے ۔ ہم صرف اور صرف ایک ترقی پزیر اور درمیانے سایز کا ملک ہیں۔ ہماری آبادی کی بڑی تعداد کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی ۔ علاج کی سہولت نہیں ، لاکھوں بچے سکول نہیں جا پاتے ۔ ہمارا کام نہیں ہے کہ کسی سپر پاور کی نقلیں کریں ، ہمیں حقایق کا سامنا کرنا چاہئے ۔اپنے وسائل اپنے سائز کو دیکھنا چاہئے ۔
کشمیر سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے نقصان کے ۔ ہمیں پاکستان کو سیکولر اور جمہوری ملک بنانا چاہئے اور انڈیا سے کشمیر پر مزاکرات کرنے چاہیٗں۔ ایک دفعہ تنازع کشمیر طے ہوگیا تو دریائی پانی ، دہشت گردی اور جنگوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا لیکن عمران خان جیسے موقع پرست اور جہادی تنظیمیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کی مخالف رہیں گی ۔
ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ بھٹو نے بھی بھارت سے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا نعرہ لگا کر پنجابیوں کو بے وقوف بنایا تھا اور الزام لگایا تھا کہ ایوب خان نے جیتی ہوئی جنگ ہاری تھی لیکن پھر اسی بھٹو نے ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بجائے شملہ سمجھوتہ کیا تھا ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جنگ میں نقصان ہمیشہ پنجاب کا ہوتا ہے کہ بارڈر کے دونوں طرف پنجاب ہے ۔
Islam Mirza - Pakistani Freethinkers
[/RIGHT]
Endless complacency of Pakistanies! Soon India will develop to a level that they would be able to send a man free mission to eliminate its enemies if it failed now.
The birdbrains across the border live in absolute and complete denial and in a very different world. Even some of their politicians (very very few of them) who know the ground realities have also confirmed that surgical strike is not doable with big bad pakis.
[RIGHT]
اپوزیشن ہو یا حکمران، بھارت کے خلاف سب یک زبان ہوگئے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت اور پاکستان کے خلاف بڑھتے بھارتی جنگی جنون پر سیاسی قیادت دنیا کو اتحاد دکھائے گی، وزیر اعظم نواز شریف کل پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کریں گے، آئندہ کی حکمت عملی پر بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن سے مشورے لیں گے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات سے شرکا کو آگاہ کریں گے۔
حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف،مودی سرکار کے جنگی جنون کے خلاف اتحاد کی لڑی میں سب ایک ساتھ،حکومتی اور اپوزیشن رہنما پہلے بھی انفرادی حیثیت میں بھارت کو حد میں رہنے کی تنبیہ کرچکے ہیں،اب اجتماعی طور پر پاکستانی قوم کا پیغام پوری دنیا کو پہنچائیں گے۔
پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنما ایک آواز ہوکر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کریں گے،عالمی برادری میں دلی سرکار کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کی حکمت عملی بنائیں گے، تو دوسری جانب لائن آف کنٹرول پر بھارت کو کنٹرول میں رکھنے پر بھی مشاورت کریں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف آئندہ کی حکمت عملی پر بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن سے مشورے لیں گے، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات سے شرکا کو آگاہ کریں گے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقدامات سے شرکا کو آگاہ کریں گے،کل جماعتی کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور سرحدی صورتحال، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور پاک، چین اقتصادی راہداری کے معاملات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ بہتری اسی میں ہے کہ مودی صاحب خالی خولی باتیں کرکے وقت ضائع نہ کریں، کشمیریوں کو ان کا حق دیںتاکہ خود بھی سکون سے رہیں اور خطے کو بھی رہنے دیں۔
DG ISPR took international media to LoC (some of whom prilly saw it for the first time) and gave them a detailed briefing and answered their queations. Yes he tweeted and instagrammed about it. Y’all meed to see it, it answers many of your questions.
BBC sought to verify details by speaking to local contacts in areas said to have been hit by the conflict.
All the areas were along the Line of Control (LoC) dividing the Indian and Pakistani controlled sides of Kashmir.
A police officer in the Poonch region told the BBC’s Aurangzeb Jarral that Indian artillery targeted some Pakistani military posts across the Buttal region, and two Pakistani soldiers were killed.
In the Bhimber, Leepa and Neelum valley regions, several eyewitnesses reported cross-border shelling - but, crucially, none said they saw any aerial or ground incursions by Indian troops.
Any reason why this topi drama could not have been done in the parliament? I thought Parliament was the true representative of the population. IK has already expressed his support for a unified stance. This meeting is just plain stupid.
Has not IK participated in such meetings before
How you can call it topi drama ?
It is more important than the earlier meetings
Imran Khan Ch Nisar the Acheson College ‘Boy Friends’ are not attending the parliamentary meeting on Kashmir & India #AllEyesOnBilawalBhutto](https://twitter.com/hashtag/AllEyesOnBilawalBhutto?src=hash)