Re: India admits to break up of Pakistan
جناب عالی،میں ان کروڑوں پاکستانیوں میں سے ایک ہوں جن کی قسمت میں پاکستان کے ٹوٹنے کے تکلیف دہ مناظر دیکھنا لکھا تھا۔ ایک مسلماں، ایک پاکستانی، خاص طور پر ایسے پاکستانی جس کا خاندان ابھی پچیس سال پہلے آگ اور خون کا دریا عبور کرکے اس پاک دھرتی پر پہنچا تھا،مگر ابھی سانس بحال بھی نہ کرنے پایا تھا کہ سامنے ایک اور خون کا دریا تھا۔ افسوس تو یہ ہے کہ پہلی بارمذہبی منافرت سے کیا گیا مگر اس بار مارنے والا بھی اور مرنے والا بھی اسلام جیسے پر امن مذہب کا پیروکار تھا۔
قیام پاکستان سے سقوظ ڈھاکہ تک بہت سے سیاسی اقدامات ہوں گے جن کی وجہ سے دونوں حصوں میں دوریاں پیدا ہوئیں ۔ مگروہ واقعات جو اس خونی تقسیم کا سبب بنے ان میں جناب بھٹو کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیدھی سی بات تھی ملک کی اکثریت نے حکومت کرنے کے لئے عوامی لیگ کو چنا تھا۔ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ان کے حق تسلیم کر لینا چاہیئے تھا۔ اس سے ماضی میں مشرقی بازو سے کی گئی نا انصافیوں کا ازالہ بھی ہو جاتا۔ مگر اسے تسلیم نہ کیا گیا۔
اس کے لئے ہمارے پاس کیا جواز ہے؟
کیا مشرقی پاکستان کے لوگ دوسرے درجے کے پاکستانی تھے؟
کیا مغربی پاکستان ان کا آقا تھا اور وہ غلام تھے کہ انہیں بلا شرکت اقتدار نہیں دیا جا سکتا تھا؟
اسٹیبلشمنٹ کا کردار تو اپنی جگہ موجود تھا ہی جسے کوئی درست نہیں سمجھتا لیکن بھٹو جیسا بڑا سیاستدان اس وقت کیا کر رہا تھا۔
جنہوں نے دیکھا ہے انہیں بھول نہیں سکتا اور جنہوں نے نہیں دیکھا تو کبھی کسی لائبریری سے اس وقت کے اخبارات نکال کر دیکھ لیجئے آپ کو سیاسی قیادت کا حقیقی چہرہ نظر آ جائے گا۔
بٹھو ایک بڑا سیاستدان تھا اور معربی حصے کا بلا شرکت غیر واحد لیڈر تھا۔اس کی آواز پورے مغربی پاکستان کی اواز سمجھی جاتی تھی، اگر وہ مجیب کے حق کو تسلیم کرتا تو کس اسٹیبلشمنٹ کی مجال تھی کہ اس کی راہ روک سکتی۔
افسوس بھٹو نے اپنے اقتدارکی خواہش میں منفی کردار ادا کیا۔ ادھر ہم ادھر ہم کا نعرہ لگایا۔اسملی اجلاس میں شرکت کے لئے مغربی پاکستان سے ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی۔ اور پھرفوجی ایکشن پر" خدا کا شکر ہے پاکستان کو بچا لیا گیا" کا نعرہ لگایا۔
اس سے کیا ہوا۔ پاکستان کی وحدت پر یقین رکھنے والےبنگالیوں کی آواز مدھم پڑ گئی ،پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والے اسے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے لگے۔ اور ہر بنگالی کو یقین دلانے لگے کہ مغربی پاکستان سارے کا سارا بنگالیوں کے خلاف ہے۔ چونکہ بھٹو مغربی حصے کا نمایندہ تھا اس کی جارحانہ انداز سیاست نے سمجدار ،بنگالیوں کو خاموش رہنے پر مجبور کر دیا اور مغربی حصے سے نفرت کو عام بنگالی کے ذہن میں بھر دیا گیا۔
بھارت پاکستان کا ازلی دشمن تھا۔ اس کی ریشہ دوانیاں تو پاکستان کی پیدائش سے ہی چل رہی تھیں۔ اس نے اسے سنہرے موقعہ سمجھ کر اس سے بھرپور فایدہ اٹھایا۔ اور چشم فلک نے وہ دیکھا جس کا تصور اج بھی ذہن میں آتا ہے تو روح تک کانپ جاتی ہے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آدھا ملک گنوا دینے کے باوجود ہم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا۔
کیا کوئی سبق حاصل کیا ہے؟
انصاف اور برابری کی بنیاد پر حقوق کی منصفانہ تقسیم ، پیار محبت اور اپنائیت کی ترویج ، اپنی عزت نفس کی طرح دوسروں کی عزت کا خیال رکھنے ہی سے قومیں متحد رہ سکتی ہیں۔ یہاں کوئی کسی کا آقا نہیں ہے اور کوئی کسی کا غلام نہیں ۔ ہر بھائی کو اہمیت دینا ہو گی۔انصاف دینا ہوگا، جس سے نفرت ختم ہوگی ۔نفرت نہیں ہوگی تو دل سے سب ایک دوسرے کے ہمدرد ہوں گے۔ پیار بڑھے گا تو اتحاد و یگانگت ہوگی۔ اتحاد ہوگا تو ہم ایک قوم ہوں گے ایک ایسی قوم جسے اتحاد و محبت کے سیمنٹ نے سیسہ پلائی دیوا بنا دیا گیا ہوگا۔
اور جب ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح مظبوط ہوں گے تو دشمن لاکھ سر پھوڑتا رہے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
اس کے لئے ہم سے کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں