Sometimes I feel like banging my head against walls because of ideological stupidities of government people. I can understand that government wants to be in America’s goodbooks, but the ultimate goal of every Pakistani should be to do what is best for PAKISTAN itself.
Because of our previous governments’ negligence to take actions on looming power crisis, we are now in a situation where people are protesting in the streets for prolonged power cuts, and businesses are closing because of unavailability of electricity. All this while electricity prices are sky-rocketing.
In other words, people need power (electricity) so much that they are willing to even pay huge money for it.
Government today is pleading our Saviors in واشنگٹن to grant us the civilians nuclear plants. We are even getting “recommendations” from China so that امریکا may listen to our please.
Yet the government is unwilling to go for an option that is readily available, and this far cheaper than what Amreekis can offer, and is also readily available. IRANIAN ELECTRICITY.
I usually don’t like columns from Irfan Siddiqui of Jang Group. But he is absolutely correct in demanding government to consider option for cheap Iranian electricity. This is the need of the time. This is what is best for Pakistan. Anyone in government overlooking this option does not have Pakistan’s interests in heart.
??? ??? ??? ??? ??? ??? ??..??? ??? ???](http://www.jang.net/urdu/search_details.asp?nid=420305)
ماشاء اللہ سید یوسف رضا گیلانی نے واشنگٹن کے قصر سفید کی طرف منہ کرکے دہائی دی ہے کہ”تم دنیا کی سپر پاور ہو، اللہ کے نام پر ہماری بتیاں روشن کردو“۔ پانی و بجلی کے وفاقی وزیر ماشاء اللہ راجہ پرویز اشرف نے نوید سنائی ہے کہ بجلی کے بحران کے باعث 240/ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ واپڈا کے چیئرمین ماشاء اللہ شکیل درانی کی اطلاع ہے کہ فی الحال شہروں میں آٹھ اور دیہات میں دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔ پاکستان الیکٹرک سٹی پاور کمپنی (پیپکو) کے ڈائریکٹر، ماشاء اللہ محمد خالد نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے وہ بازار اور مارکیٹیں غروب آفتاب کے ساتھ ہی بند کردینے اور گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے گھما دینے کے احکامات جاری کرے۔ ان اعلانات و بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ ہمارے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کو بحران کی وسعت و گہرائی کا پورا پورا اندازہ ہے اور وہ نہ صرف قوم کو پوری طرح باخبر رکھ رہے ہیں بلکہ بجھے چراغوں کو روشن رکھنے کی سر توڑ کوششیں بھی کررہے ہیں۔** اسی دوران اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر عزت مآب ماشاء اللہ شاکری نے انکشاف کیا ہے کہ دسمبر 2008ء میں طے پانے والے باہمی معاہدے کے تحت، ایران، پاکستان کو ایک ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی فراہم کرنے کے لئے مسلسل توجہ دلا رہا ہے لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔** ماشاء اللہ شاکری کو اسلام آباد آئے اب خاصا عرصہ ہو چلا ہے۔ یقیناً انہیں اب تک اندازہ ہوچکا ہوگا کہ ہمارے کانوں کی ساخت کیا ہے اور کون سی جوں ان پر رینگنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایران وافر بجلی پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ بیس بائیس سال پہلے تک وہاں بجلی کی مجموعی پیداوار پندرہ ہزار میگاواٹ تھی۔ یہ ”مولویوں کی حکومت“ تھی جس نے انہی ضروریات، توانائی کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ٹھوس منصوبہ بندی کی۔** آج ایران 55ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے**۔ سات کروڑ آبادی کا کوئی گھر ایسا نہیں جہاں بجلی نہیں پہنچی۔ ایران کی ساری داخلی ضروریات 40ہزار میگاواٹ سے پوری ہورہی ہیں** جبکہ 10ہزار میگاواٹ فالتو ہے**۔ گزشتہ روز ہی صدر احمدی نژاد نے عراقی سرحد کے قریب ایک ڈیم کا افتتاح کیا جہاں سے ایک ہزار میگاواٹ مزید بجلی پیدا کی جائے گی۔ ایرانی حکومت کا عزم ہے کہ آئندہ دس برس کے دوران بجلی کی پیداوار میں مزید پچاس ہزار میگاواٹ کا اضافہ ہوجائے گا اور وہ ایک لاکھ میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ فالتو پیداوار پڑوسی ملکوں کو فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور توانائی کے بحران سے دو چار ممالک کے لئے یہ نہایت عمدہ آپشن ہے۔
یہ 2000ء کا ذکر ہے۔ اس وقت کے کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ایران کے دورے پہ گئے۔ انہوں نے بلوچستان کے لئے ایرانی بجلی میں دلچسپی ظاہر کی۔ انہی کی پیشرفت پر منصوبہ طے پایا اور آج ایران، سرحد کے قریب واقع پاکستانی قصبوں اور دیہات کو 35میگاواٹ بجلی فراہم کررہا ہے۔ 2007ء میں وفاقی وزیر پانی و بجلی لیاقت علی جتوئی تہران گئے۔ انہوں نے ایران سے 500میگاواٹ بجلی کی درخواست کی جو قبول کرلی گئی لیکن کوئی عملی اقدام نہ ہوا۔ جمہوری حکومت کے قیام کے بعد دسمبر 2008ء میں ایرانی وزیر برقیات، مہندس (انجینئر) پرویز فتاح پاکستان تشریف لائے۔ اسلام آباد میں ایران اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔ طے پایا کہ ایک سال کے اندر اندر، یعنی نومبر 2009ء تک 1100 میگاواٹ بجلی پاکستان کو فراہم کردی جائے گی۔ اس میں سے ایک سو میگاواٹ گوادر کی بندرگاہ اور 1000 میگاواٹ نیشنل گرڈ کے لئے مخصوص ہوگی۔ دسمبر 2009ء تک مزید 1100 میگاواٹ بجلی فراہم ہونا تھی۔ ایران نے اپنے حصے کا بڑا کام کرلیا اور سرحد کے قریب بڑا ٹرانسمیشن سسٹم بھی نصب کرلیا لیکن پاکستان کو یاد ہی نہ رہا کہ اس طرح کا کوئی معاہدہ بھی ہوا تھا۔** بجلی کی قیمت بھی انتہائی ارزاں یعنی صرف 6سینٹ قرار پائی تھی** لیکن پاکستان کے فیصلہ سازوں نے اس میں کوئی کشش محسوس نہ کی۔ کیوں؟ اس سوال کا جواب ہر پاکستانی جانتا ہے۔ دو سال سے راجہ پرویز اشرف کرائے کے فرسودہ بجلی گھروں کی وکالت کررہے ہیں۔ کیوں؟ یہ بھی سب پہ آشکارا ہے۔ اس دوران** اگر ایران کے ساتھ معاہدے کو عملی جامہ پہنا دیا جاتا تو آج قیامت کا یہ سماں نہ ہوتا اور وزیر اعظم، امریکہ سے روشنی کی بھیک نہ مانگ رہے ہوتے۔**
کوئی چار ماہ قبل ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان پاکستان تشریف لائے۔ واپسی کے سفر میں وہ تہران ٹھہرے اور ترکی کو بجلی کی فراہمی پر بات چیت کی۔ ایران پہلے ہی ترکی، آذربائیجان، ترکمانستان، افغانستان، عراق اور آرمینیا کو بجلی فروخت کررہا ہے۔ ترکی میں بجلی کا قحط نہیں وہ لوڈشیڈنگ کی اصطلاح تک سے واقف نہیں۔ ان کی نظر مستقبل پر ہے اور وہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے جنگی بنیادوں پر منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ 4000 میگاواٹ کی فراہمی کا معاہدہ طے پایا ہے۔ ہر دو ماہ بعد دونوں ممالک کے وفود مل بیٹھتے اور کام کی رفتار کا جائزہ لیتے ہیں۔ ادھر ہماری کیفیت یہ ہے کہ ذمہ داران کو سرے سے معاملے کی نزاکت کا احساس ہی نہیں۔** دسمبر 2008ء کے معاہدے میں طے پایا تھا کہ دو ماہ کے اندر اندر وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف اعلیٰ وفد کے ہمراہ تہران کا دورہ کریں گے تاکہ جزئیات طے کی جاسکیں۔ انہیں اس دورے کی باضابطہ دعوت بھی دے دی گئی۔ اسلام آباد میں مقیم ایرانی سفیر نے کئی ملاقاتوں میں یاد دہانی کرائی۔ ماشاء اللہ شاکری بھٹکتے پھرے۔ کبھی چیئرمین واپڈا، کبھی پیپکو، کبھی دفتر خارجہ۔ ایران کی طرف سے متعدد خطوط لکھے گئے لیکن یہاں بے نیازی کی برف نہ پگھلی۔ ایران نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر کوئی مالی مشکلات ہیں تو مدد کی جاسکتی ہے۔** ایران سرحد سے کوئٹہ کے نیشنل گرڈ تک کوئی سات سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے جس میں کوئی بڑے پہاڑ یا دشوارگزار راہیں نہیں۔ ایران نے یہاں تک کہا کہ وہ فی الحال اپنے خرچ پر یہ ٹرانسمیشن لائن بچھانے پہ تیار ہے لیکن وہ بات ایرانی مولویوں کے ہونٹوں پہ نہیں آرہی جسے سن کر ہمارے حکمرانوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔
ترکی، بھاری مقدار میں ایرانی بجلی اس لئے خرید رہا ہے کہ وہ مستقبل کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ہی بجلی اچھے داموں یورپ کے ہاتھ بیچ سکے اور ٹرانزٹ چارجز بھی وصول کرلے۔ ایرانیوں سے اس نے بات کرلی ہے۔ آذربائیجان بھی بجلی ری ایکسپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان بڑی آسانی کے ساتھ انتہائی سستی ایرانی بجلی افغانستان، بھارت اور چین کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔ سلطنت عمان بھی ایران سے بجلی خریدنے کو ہے۔ اس مقصد کے لئے خلیج فارس میں زیر زمین ٹرانسمیشن لائن پر کام شروع ہے۔
مشرف نو برس تک بیٹھا رہا اور ایک بلب جتنی بجلی کا سامان بھی نہ ہوا۔ جمہوری حکمرانوں کو دوسال سے زائد ہوچکے ہیں۔ وعدہ کیا گیا کہ دسمبر 2009ء تک لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی لیکن بیس بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ کارخانے اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں**۔ ملکی ضروریات 15ہزار میگاواٹ کو چھو رہی ہیں اور ہمیں 5ہزار میگاواٹ کمی کا سامنا ہے۔ لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ میرپور آزاد کشمیر کے لوگ ایک نمونہ پیش کرچکے ہیں لیکن بحران کی شدت پیہم بڑھ رہی ہے** اور حکمران اپنی ترجیحات کی صورت گری میں مگن ہیں۔
ماشاء اللہ شاکری کی دلسوزی بجا، لیکن وہ ہماری مجبوریوں پر بھی غور کریں۔ ماشاء اللہ ہم اندھیروں میں گزر اوقات کرسکتے ہیں۔ صنعتی تباہ حالی اور 240/ارب روپے کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں… لیکن ماشاء اللہ ہمارے پیٹ گنبد فلک کا سا حجم رکھتے ہیں اور ہماری اولین ترجیح بجلی کی فراوانی نہیں، شکم پروری ہے۔