Re: Competition
گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگ
بستی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگ
سارا سارا دن گلیوں میں پھرتے ہیں بے کار
راتوں اٹھ اٹھ کر روتے ہیں اس نگری کے لوگ
سہمے سہمے سے بیٹھے ہیں راگی اور فنکار
بھور بھئے اب ان گلیوں میں کون سنائے جوگ
جب تک ہم مصروف رہے یہ دنیا تھی سنسان
دن ڈھلتے ہی دھیان میں آئے کیسے کیسے لوگ
ناصر ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اداس
وہی پرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ
**ناصر کاظمی
**
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
کہ آخر مسلموں میں روح پھونکی بادہ نوشی کی
تمھاری پالیسی کا حال کچھ کھلتا نہیں صاحب
ہماری پالیسی تو صاف ہے ایماں فروشی کی
چھپانے کے عوض چھپوا رہے ہیں خود وہ عیب اپنے
نصیحت کیا کروں میں قوم کو اب عیب پوشی کی
پہننے کو تو کپڑے ہی نہ تھے کیا بزم میں جاتے
خوشی گھر بیٹھے کر لی ہم نے جشنِ تاج پوشی کی
شکست رنگ مذہب کا اثر دیکھیں نئے مرشد
مسلمانوں میں کثرت ہو رہی ہے بادہ نوشی کی
رعایا کو مناسب ہے کہ باہم دوستی رکھیں
حماقت حاکموں سے ہے توقع گرم جوشی کی
ہمارے قافیے تو ہو گئے سب ختم اے اکبر
لقب اپنا جو دے دیں مہربانی یہ جوشی کی
**اکبر الہ آبادی
**
بول ہوا، اُس پار زمانے کیسے ہیں؟
اُجڑے شہر میں یار پُرانے کیسے ہیں؟
چاند اُترتا ہے اب کِس کِس آنگن میں؟
کِرنوں سے محروم گھرانے کیسے ہیں؟
لب بستہ دروازوں پر کیا بِیت گئ؟
گلیوں سے منسوب افسانے کیسے ہیں؟
جِن کی جُھرمٹ میں شامیں دَم توڑ گئیں
وہ پیارے ، پاگل پروانے کیسے ہیں؟
محسن ہم تو خیر خبر سے دَرگُزرے
اپنے روٹھے یار نجانے کیسے ہیں
محسن نقوی