spoken like a true stooge to the amreeka-is-evil narrative. if amreeka prints money, it is backed by bonds purchased by none other than your awesome blossom china. debt sure, but saleable debt. otherwise there is no difference between printing more money or digging more gold out of the earth.
and lol@begging for more dollars that you just called worthless.
You have a nasty habit of selective reading, twisting things around, putting spin on words and projecting lies onto others.
I said the fiat dollar is in danger of collapsing considering the humungous amount of debt/deficit (if China and Russia decide to butt heads with the US), not that it is worthless right now.
I did say take gold not dollars, because it is risky.
I would rather Pakistan stop making any unholy alliances for further dirty imperial wars and stop selling themselves.
Nothing good can come out of such alliances.
I also asked why India is stocking gold.
Everybody knows what is good about Amreeka and what is evil about it.
No need to throw around snotty cliched accusations.
They are so boring.
It may or may not.
Who knows what lines are drawn and what alliances are made when things worsen in the Middle East.
What if Russia/US confrontation worsens over the Ukraine crisis ?
the kgb agent putin’s russia is getting choked to death at the moment by US’ franship saudi arabia, and to a lesser extent by yooropean sanctions. rouble is in the garbage bin, they cant make any money selling oil coz saudia has flooded the market with below cost crude. this is the clown who will take on the only super power in the world?
Your analysis about Russia and China sounds right.
However, I have read that these two countries are starting to move away from Petro-dollars.
And China is stockpiling gold, apparently, to protect itself in case there is financial crisis in the US and the dollar tanks, as it hold about 3 trillion dollars' worth of US debt.
china isnt stockpiling any one asset, they are holding onto a pretty diverse portfolio from high-risk construction contracts in civil-war ravaged countries in subsaharan africa to US treasury bonds. gold is just another class, and for what its worth, has plummeted in price in the last 6 months, and is usually seen moving in tandem with oil prices. it is no utopian currency. as for moving away from dollars for trading commodities, try offering paying in rupees to iran or russia and see what they say. or would you prefer the highly manipulated chinese RMB?
From BBC
ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولاعامر احمد خانبی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر صرف ملک کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے چپے چپے میں یا تو براہ راست یا اپنے مذہبی اور سیاسی حواریوں کے ذریعے پھیلے ہوئے ہیںکیا یہ سب کچھ وہی نہیں جسے سننے کی تمنا کروڑوں پاکستانیوں کو برسوں سے ہے؟
جنرل راحیل شریف کا یہ کہنا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے اندرونی سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے اور ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورتِ حال گمبھیر ہو سکتی ہے۔
ان کا تجزیہ ہے کہ سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل۔
ان کا اصرار ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے اور خاص طور پر یہ کہ پاکستانی عوام کی حمایت کے ساتھ بغیر کسی امتیاز کے ملک میں دہشت گردی کو ختم کر دیا جائے گا۔
فرض کریں کہ یہ سب کچھ ایک حاضر سروس جنرل یا پاکستان کی بری فوج کے سربراہ نے نہیں بلکہ ایک سیاست دان یا حکومت کے سربراہ نے کہا ہوتا تو ہمارا ردِ عمل کیا ہوتا؟
یقیناً پاکستانیوں کا ایک بہت بڑا طبقہ عش عش کر اٹھتا۔ لوگ کہتے کہ آخرکار ملک کو وہ رہنما مل ہی گیا جو اس شیطانی عمل کو لپیٹ سکے جس کے ذریعے جنرل ضیا نے ایک ہنستے کھیلتے ملک کو جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا اکھاڑا بنا دیا۔
مذہبی طبقوں میں شاید یہ بیان کچھ اضطراب پیدا کرتا لیکن بایاں بازو تو جھوم اٹھتا۔ رہی بات دائیں بازو کی تو اس کا کیا، وہ دایاں کہلاتا ہی اس لیے ہے کہ حاکم وقت کے ساتھ رہے۔
لیکن یہ سب کچھ تو تب ہوتا جب جنرل راحیل شریف صرف شریف ہی ہوتے، جرنیل نہیں۔
پاکستان کے کئی سینئیر سرکاری اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ داعش پاکستان میں صرف وال چاکنگ اور پیمفلیٹوں میں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر ابھر رہی ہےقصہ کچھ یوں ہے کہ یہ باتیں پاکستان میں پہلے بھی ہوئی ہیں۔
ٹھیک 15 برس پہلے اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے چند مدیران کو خاص طور پر کراچی کے فوجی ہیڈکوارٹرز میں بلا کر کہا تھا کہ اگر ایک جہاز ڈوب رہا ہو اور اس میں عوام اور سیاست دانوں کے ساتھ فوج بھی سوار ہو تو کیا فوج کو صرف اس لیے چپ کر کے بیٹھے رہنا چاہیے کہ جہاز بچانے کی ذمہ داری سیاست دانوں کی ہے؟
اور پھر جواباً خود ہی عرض کیا کہ ہرگز نہیں۔ اس کے چند ہی ماہ بعد انھوں نے حکومت کا تختہ الٹا اور ڈوبتا جہاز بچانے خود آ ٹپکے۔
اور پھر وہی جنرل مشرف تھے جنھوں نے جنوری سنہ 2002 میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان نے دنیا بھر میں جہاد کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ ملک میں نہ تو کسی لشکر کی جگہ ہے نہ کسی سپاہ کی اور نہ کسی جیش کی اور سوائے حکومت کے کوئی کسی کو جہاد کے لیے نہیں پکار سکتا۔
جب تک موصوف اقتدار سے الگ ہوئے، ملک میں چار سو لشکر، سپاہ اور جیش پھیلے تھے اور معاملہ اس قدر بگڑ چکا تھا کہ پاکستان کے دارالحکومت میں ایک مسجد اور مدرسے سے چند طالبات اور کچھ گنے چنے جنگجوؤں کو نکالنے کے لیے ہمیں اپنے کئی فوجی کمانڈو قربان کرنے پڑے۔
تاریخ پر اس نظر کا مقصد جنرل راحیل شریف کی نیت یا ارادوں پر شک کرنا نہیں ہے، بلکہ اس خوف کی طرف توجہ دلانا ہے جو پاکستانیوں کے دل میں ہر باوردی بیان سے جڑا ہوتا ہے۔
ملک بھر کے تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ کی جنرل راحیل شریف کے بارے میں وہ رائے نہیں جو جنرل مشرف یا جنرل کیانی کے بارے میں تھی۔ کچھ کے خیال میں تو وہ امریکہ کو سمجھانے ہی یہ گئے تھے کہ نہ تو وہ مشرف ہیں اور نہ ہی کیانی اور بظاہر وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب لوٹے ہیں۔
ملک بھر کے تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ کی جنرل راحیل شریف کے بارے میں وہ رائے نہیں جو جنرل مشرف یا جنرل کیانی کے بارے میں تھیشاید اسی لیے ان کے ہر نئے بیان کی اہمیت بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ خاص طور پر ان کا یہ کہنا کہ سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال میں قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، اس کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل۔
کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں موجود انتہا پسند عناصر صرف ملک کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے چپے چپے میں یا تو براہ راست یا اپنے مذہبی اور سیاسی حواریوں کے ذریعے پھیلے ہوئے ہیں۔
قبائلی علاقوں سے تو انھیں فوجی کارروائی کے ذریعے ہی بھگایا جا سکتا ہے لیکن شہروں اور دیہاتوں میں انھیں حکومت اور پولیس کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔
پاکستان کے کئی سینیئر سرکاری اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ داعش پاکستان میں صرف وال چاکنگ اور پیمفلٹوں میں ہی نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے اور داعش کا فوکس ہمیشہ شہروں پر رہا ہے نہ کہ دور دراز کے قبائلی علاقوں پر۔
اس خطرے کے مقابلے کے لیے فوج نہیں ایک مضبوط سویلین سکیورٹی اور حکومتی عزم چاہیے۔
کیا حکومت پاکستان اس کے لیے تیار ہے؟ اور اگر نہیں تو کیا موجودہ آرمی چیف کا ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولا وہی ہو گا جو ان کے پیش رو کا تھا؟
اس کا جواب ہمیں تبھی ملے گا جب یہ واضح ہو گا کہ پاکستان کے راحیل شریف ہی نہیں بلکہ تمام شریف وہی بات کہہ رہے ہیں جو فی الوقت صرف ایک امریکہ پلٹ جرنیل کہہ رہا ہے۔
Under what conditions and position is he meeting with elected PM of UK??? What is the purpose of his meeting? What happens to civilian head and democratically elected PM of Pakistan??? Is now PM and elected government working under CAOS officially??? Can PML(N) lovers explain??
What do you expect when your civilian government is so useless and incompetent, na electricity hai, na gas hai, na petrol hai…i.e. no forward thinking and planning!!
Raheel is visiting US and UK etc. to seek their support against anti-Pakistan elements and banned organisations and to ensure choking of terror financing from groups based in their countries. If anything we should be saying thank you to him for being so proactive and taking responsibility… doing something which is really the job of the elected government..