Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

تبلیغی جماعت کا عقیدہ توحید
تبلیغی جماعت کا دعوی ہے کہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ کے سوا کوئی کچھ نہیںکر سکتا۔اسی لےے تبلیغی جماعت کے کارکنان ہر جگہ ےہی فقرہ دہراتے ہیں۔
اللہ تعالی سے سب کچھ ہونے کا یقین اوراس کے سوا کسی سے کچھ نہ ہونے کا یقین
آئیے ہم دیکھتے ہیں ان کا یہ دعوی کہاں تک سچا ہے ۔جب ہم ان کی کتب اٹھا کر دیکھتے ہیں تواس دعوے کی تردید میں تبلیغی جماعت کا لٹریچر شرکیہ واقعات سے بھرا پڑا ہے۔جن میں سے کچھ واقعات ذیل میں دیئے گئے ہیں۔ اور یاد رہے یہ وہ کتب ہیں جن کو تبلیغی جماعت قرآن و حدیث کی جگہ پڑھاتے ہیںاور مسجدوں میں جس کی باقاعدہ تعلیم ہوتی ہے ۔
1عجیب واقعہ:
سید احمد رفاعی مشہور بزرگ اکابر صوفیاءمیں ہیں ۔ان کا قصہ مشہور ہے کہ جب ۵۵۵ھ میں حج سے فارغ ہو کر زیارت کے لیے حاضر ہوئے اور قبر اطہر کے مقابل کھڑے ہو کر شعر پڑھے ۔
دوری کی حالت میں اپنی روح کو خدمت اقدس میں بھیجاکرتا تھا وہ میری نائب بن کر
آستانہ مبارک چومتی تھی اب جسموں کی باری آئی ہےاپنا دست مبارک عطا کیجیے تا کہ
میرے ہونٹ اسے چوم سکیں۔
اس پر قبر شریف سے دست مبارک باہر نکلا اور انہوں نے اسے چوما ۔کہا جاتا ہے کہ اس وقت نوے ہزار کا مجمع مسجد نبوی میں تھا جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی زیارت کی۔
(فضائل حج،ص153،کتب خانہ فیضی،لاھور)

-2 حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن صالح کا انتقال ہوا تو میں سفر پر تھا ۔واپسی پر میں ان کے بھائی کے پاس تعزیت کے لیے گیا تو مجھے رونا آگیا ۔وہ کہنے لگے کہ ان کے انتقال کی کیفیت توسنو۔جب ان پر نزع کی تکلیف شروع ہوئی تو انہوں نے پانی مانگا ۔میں لے کر گیا تو کہنے لگے میں نے تو پی لیا ۔میں نے پوچھا کس نے پلایا کہنے لگے حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی بہت سی صفوں کے ساتھ تشریف لائے اور پانی پلایا ۔
(فضائل صدقات،صفحہ نمبر665)
-3ایک کفن چور تھا اس نے ایک قبر کھودی تو ایک شخص کو تخت پر بےٹھے دیکھا ۔وہ قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور ان کی قبر کے نےچے ایک نہر چل رہی ہے ۔اس شخص پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ بے ہوش ہو کر گر پڑا لوگوں نے قبر سے نکالا ۔تین دن بعد ہوش آیا۔ لوگوں نے قصہ پوچھا تو اس نے سارا حال سناےا لوگوں نے اس قبر کو دیکھنے کی تمنا کیاور اس سے پوچھا کہ قبر بتا دے۔اس نے ارادہ کیا کہ ان کو قبر دکھا دوں ۔رات کو قبر والے بزرگ خواب میں آئے اور کہا کہ اگر تو نے میری قبر بتائی تو ایسی آفتوں میں پھنس جائے گا کہ یاد کرے گا ۔اس نے عہد کیا کہ نہیں بتاوں گا۔
(فضائل صدقات،صفحہ نمبر660)
-4حضرت مالک بن دینار فرماتے ہےںکہ میں حج کو جا رہا تھا کہ ایک نوجوان کو دیکھا کہ پیدل چل رہا ہے اور اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔پوچھا کہاں سے آ رہے ہو ؟کہنے لگا اسی کے پاس سے ۔پھر پوچھا کہاںجا رہے ہو ؟کہا اسی کے پاس۔ حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے ےہ دیکھ کر اسے اپنا کرتہ دینا چاہا اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ دنیا کے کرتے سے ننگا رہنا اچھا ہے۔دنیا کی حلال چیزوں کا حساب دینا اور حرام چیزوں کا عذاب چکھنا پڑے گا ۔جب رات ہوئی تو اس نے اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہا ۔
اے وہ پاک ذات جس کو بندوں کی اطاعت سے خوشی ہوتی ہے اور بندوں کے گناہوں سے اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتامجھے وہ چےز عطا فرما جس سے تجھے خوشی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔اسکے بعد لوگوں نے احرام باندھ کر لبیک کہا اور اس نے نہ کہا ۔میں نے کہا کہ تو کیوں نہیں کہتا کہنے لگا کہ مجھے ڈر ہے کہ میں لبیک کہوں اور جواب ملے لا لبیک ولا سعدیک۔اس کے بعد وہ چلا گیا پھر وہ مجھے منیٰ میں نظر آیا اور اس نے چند شعر پڑھے ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد دعا کی۔اے اللہ لوگوں نے قربانیوں سے تیرا تقرب حاصل کیا میرے پاس کوئی چیزقربانی کے لیے نہیںہے سوائے اپنی جان کے۔میں اس کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوںاس کو قبول کر لے۔اس کے بعد اس نے چیخ ماری اور مر گےا ۔غیب سے آواز آئی یہ اللہ کا دوست ہے اور اللہ کا قتیل ہے۔مالک کہتے ہیں کہ میں نے اس کی تجہیز اور تکفین کی۔رات کو میں نے اسے خواب میں دیکھا ۔میں نے اس سے پو چھا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ؟کہنے لگا جو شہداءبدر کے ساتھ ہوا بلکہ اس پر بھی کچھ زےادہ ہوا۔میں نے پو چھا کہ زیا دہ ہونے کی کیا وجہ ہے کہنے لگا کہ وہ کافروں کی تلوار سے شہید ہوئے اور میں عشق مولی ٰکی تلوار سے۔(نعوذباللہ)۔
(فضائل حج صفحہ نمبر 204)
-5حضرت سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں طواف کر رہا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو ہر قدم پر درود ہی پڑھتا ہے اور کوئی چیز تسبیح تہلیل وغیرہ نہیں پڑھتا ۔میں نے پوچھا توبولا ۔۔۔۔۔کہ میں اور میرے والد حج کو جا رہے تھے کہ ایک جگہ پہنچ کر میرا باپ بیمار ہو گیا۔میں نے بہت علاج کیا مگر ایک دم ان کا انتقال ہو گیا اور منہ کالا ہو گیا۔میں نے افسوس سے ان کا منہ ڈھک دیا۔اتنے میں میری آنکھ لگ گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہاایک صاحب آئے اور انہوں نے میرے باپ کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو چہرا سفید ہو گےا۔میں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟تو انہوں نے کہا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ ہوں۔تیرا باپ بڑا گنہگار تھا لیکن مجھ پر کثرت سے درود بھےجتا تھا ۔جب اس پر یہ مصیبت نازل ہوئی تو میں اس کی فریاد کو پہنچااور میں ہر اس شخص کی فرےاد کو پہنچتا ہوںجو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے۔
(فضائل درود۔ص102)
-6حضرت سفیان ثوری سے ہی ایک واقعہ نقل ہے کہ انہوں نے ایک جوان کو دیکھا جو ہر قدم پر درود پڑھتا تھا انہوں نے اس سے پوچھاکہ کیا کسی علمی دلیل سے تےرا ےہ عمل ہے ےا محض اپنی رائے سے؟اس نے کہا میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گےا تھا میری ماں وہیں مر گئی اس کا منہ کالا ہو گیا اور پیٹ پھول گےا جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ بہت سخت گناہ ہوا ہے۔میں نے دعا کی تو دیکھا کہ تہامہ (حجاز)سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گےا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بھی جاتا رہا۔(نعوذباللہ )میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ تو انہوں نے فرماےاکہ میں تےرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ انہوں نے مجھے وصیت کی کہ ہر قدم پر درود پڑھا کر۔
(فضائل درود۔ص104)
-7عبدالرحیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ایک دفعہ غسل خانے میں گرنے کی وجہ سے میرے ہاتی میں بہت سخت چوٹ لگ گئی اور ہاتھ پر ورم ہو گےا ۔میں نے رات بہت بے چینی میں گزاری ۔میری آنکھ لگی تو میں نے خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ۔میں نے اتنا ہی عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرماےا کہ تیری کثرت درود نے مجھے گھبرا دیا میری آنکھ کھلی تو تکلیف بالکل جاتی رہی تھی اور ورم بھی جاتا رہا تھا ۔
(فضائل درود۔ص۹۹)
-8حضرت علی متقی رحمتہ اللہ علیہ نقل کر تے تھے کہ ایک فقیر نے جو فقراءمغرب سے تھا ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ اس کو شراب پینے کے لیے فرماتے ہیں۔
(فضائل درود۔ص53)
-9 بعض بزرگوں سے نقل کیا گیا کہ بہت سے لوگ خراسان میں رہنے والے مکہ سے تعلق کے اعتبار سے بعض ان لوگوں سے قریب ہےں جو طواف کر رہے ہوں بلکہ بعض لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ خود کعبہ ان کی زیارت کو جا تا ہے ۔
(فضائل حج۔ص102)
-10 شیخ ابراہیم بن شیبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حج سے فراغت پر مدینہ منورہ حاضر ہوا میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا تو حجرہ شریف کے اندر سے میں نے وعلیک السلام جواب سنا ۔
(فضائل حج۔ص،149)
-11 قبر پر حاضری
جب کسی قبر پر حاضری ہو تو میت کے پاﺅں کی طرف سے جائے تا کہ میت کو اگر اللہ تعالی ٰآنے والے کا کشف عطا فرمائے تو دیکھنے میں سہولت رہے اس لیے کہ جب میت قبر میں کروٹ لیتی ہے تو اس کی نظر قدموں کی طرف ہوتی ہے۔اگر کوئی سرہانے کی جانب سے آئے تو میت کو دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے۔
(فضائل حج۔ص130)
-12 دیوانی کا قصہ:
حضرت عطاءکا قصہ مشہور ہے کہایک مرتبہ بازار میں گئے وہاں ایک دیوانی فروخت ہو رہی تھی ا نہوں نے خرید لی جب رات کا کچھ حصہ گزرا تو وہ اٹھی اور وضو کر کے نماز شروع کر دی نماز میں اس کی حالت یہ تھی کہ آنسووئں سے دم گٹھا جا رہا تھا اس نے کہا ۔اے میرے معبود!آپ کو مجھ سے محبت رکھنے کی قسم مجھ پر رحم فرما دیجیئے ۔عطار نے سن کر فرمایا لونڈی یوں کہہ اے اللہ مجھے آپ سے محبت رکھنے کی قسم۔یہ سن کر اسے غصہ آگیا اور کہنے لگی اس کے حق کی قسم اگر اس کو مجھ سے محبت نہ ہوتی تو تمہیں یوں میٹھی نیند نہ سلاتا اور مجھے یوں کھڑا نہ کرتا ۔اسکے بعد اس نے شعر پڑھے۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اس نے کہا اے اللہ میرا اور آپ کا معاملہ اب راز میں نہیں رہا مجھے اٹھا لیجیئے ۔اس کے بعد اس نے چیخ ماری اورمرگئی۔(استغفراللہ)
( فضائل اعمال،ص357،کتب خانہ فیضی،لاھور)
-13 شرکیہ عقیدہ:
ابو سنان رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ثابت کو دفن کیا دفن کرتے ہوئے لحد کی ایک اینٹ گر گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ دیکھو کیا ہو رہا ہے ۔اس نے مجھے کہا کہ چپ ہو جاﺅ ۔جب دفن کر چکے تو ان کی بیٹی سے ان کا معمول پوچھا ۔تو اس نے کہا کہ کیوں پوچھتے ہو ہم نے قصہ بیان کیا تو اس نے کہا پچاس برس تک شب بیداری کی اور صبح کو ہمیشہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ اگر تو کسی کو ےہ دولت عطا فرما کہ وہ قبر میں نماز پڑھے تو مجھے بھی عطا فرما۔(فضائل اعمال،ص361،کتب خانہ فیضی،لاھور)
.-14مردہ سخی:
عرب کی ایک جماعت ایک مشہور سخی کی قبر کی زیارت کو گئی۔رات کو وہاں ٹھہرے ۔ان میں سے ایک شخص نے صاحب قبر کوخواب میں دےکھا وہ کہہ رہا تھا کہ تو اپنے اونٹ کو میرے بختی اونٹ کے بدلہ میں بیچتا ہے۔خواب دیکھنے والے نے خواب میں ہی معاملہ کر لیا۔وہ صاحب قبر اٹھا اور اونٹ کو ذبخ کر دیا ۔ جب یہ خواب والا شخص اٹھا تو اونٹ کے خون جاری تھا ۔اس نے اونٹ کو ذبح کر کے گوشت تقسیم کر دیا۔سب نے پکایا اور کھاےا۔جب اگلی منزل پر پہنچے توایک شخص بختی اونٹ پر سوار ملاجو تحقیق کر رہا تھا کہ فلاں نام کا کوئی شخص تم میں ہے۔خواب والے شخص نے کہا میرا نام ہے۔اس نے پوچھا کہ فلاں قبر والے کے ہاتھ تو نے کوئی چیز فروخت کی ہے۔خواب دیکھنے والے شخص نے اپنا قصہ سنایا۔اونٹ والے شخص نے کہا کہ وہ میرے باپ کی قبر تھی۔اس نے میرے خواب میں آ کر کہا کہ اگر تو میری اولاد ہے تو میرا بختی اونٹ فلاں شخص کو دیدے اور تیرا نام لیا ۔پھر وہ شخص اونٹ دے کر چلا گیا ۔
(فضائل صدقات،صفحہ نمبر712)
یہ سخاوت کی حد ہے کہ مرنے کے بعد بھی اپنی قبر پر آ نے والوں کی مہمانی کی۔باقی یہ بات کہ مرنے کے بعد اس قسم کا واقعہ کیسے ہو گیااس میں کوئی چیز محال نہیں۔ تبلیغی جماعت کے ہاں سب کچھ ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

They dont hve anything except 1 book which called Fazil e Amaal.Unfortunately this will happen untill and Unless We Dont change our Mind and intelligence.Well Muslims r Going in a same way except thos who belive in quran.Quran is our master our Truthness our Reliable source Imaan is main pora Mukamaal hai agar app is per basiraat na karoo gaye is se zada sangeen nataij daikhoo gaye

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

You have been fed that misconception too.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^ how many of 'events/incidents' posted in 1st post are from Sunnah/ahadith?

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

The real question is: What the heck is written in the first post?

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

I cant read it either.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

I don't know what it says in the first post, which is why I didn't reply to the first post. :)

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

the tableeghi jamaat is mostly made up of uneducated ppl, and these ppl really get excited by such stories (as mentioned in post 1)....
and that is why ppl who have better knowledge of Islam stay away from these ppl....
although their cause is good, their methods r not that proper....

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

waht does the first post say :mad:

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^Stories about hands coming out of grave, a man sitting in grave and reading quran. Trading of camels in the dreams etc. etc.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat


When tableeghi jamaat was made it was for people who were illeterate at that time and FAZAIL-E-AMAAL is easy book for those people who live in villages and they don't even know the right kalima.SO don't blame them, their are fine people like MAULANA TARIQ JAMEEL and MUFTI TAQI USMANI and what they are doing its not for their own good its for other people. We should not say them anything and if u have better knowledge then just stay away and don't talk bad about them.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^ u can have a better book by putting in more authentic stories and ahadith....

u dont need to tell lies to bring ppl to religion....

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^Umm: What are you talking about? Can you prove the authenticity of the story mentioned above under the title "Murdaa Sakhi - 14". And how supplying this kind of story to uneducated people is good for them.

Ever heard of bidaa and how it starts?

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

NO 1 look they are just trying to encourage people that they can pray because most of people don't pray.One rule of dawat is that u cannot force anyone to pray so u can only tell ahadees that can encourage them to pray.I don't know exactly about that story but i can tell u on MIRAJ when HAZRAT MOHAMMAD(p.bu.h.)went to see HAZRAT MUSA (allahis salaam) near their grave HAZRAT MUSA was praying in his grave standing.I heard it in MAKKI-AL-HIJJAZI lecture he is a big scholar and gives lecture in MAKKAH makkarma.
BIDAT is a new thing in islam.WHEN u do some new thing and relate it to islam then its call bidat. allah knows best

I AGREE THAT FAZAIL-AMAAL IS NOT GOOD EXAMPLE BECAUSE IT DOESN'T HAVE ANY GOOD MATERIAL BUT IT WAS MADE BEFORE PAKISTAN.IN THOSE DAYS EVERYONE WAS MIXED UP WITH HINDUS SO IT WAS RIGHT FOR THE PEOPLE AT THAT TIME.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

So you are saying these people are not using this book anymore?

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

WELL some of them are using some of them are not using.My friend is aalima brought up in tableeghi madrassa and her brother too but they don't force people to use this book.They go accordingly to people thoughts like if people who are too westernize like in u.s.a. so they do the work of dawat in different way which educated people can understand.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^wow. so basically you are telling me I can do dawat with any make up stories if I want to.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

Tableeghi jamaat never does make-up stories.They will always try to explain with authentic ahadees to people who want to know the right knowledge.because now a days people don't trust any ahadees accept it is one from bukhari shareef so they will tell it from there.Every generation has its own issues like now a days everyone thinks he / she is the best scholar of islam without uderstanding a word of islam, so tableeghi people will tell them the right islam with authentic ahadees so they can believe it.

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^ if tableeghi jamaat stuck to authentic ahadith they wud not face so much criticism....

Re: Aqeeda Toheed of Tablige Jamat

^they are only facing it because of fazail-e-amaal but what i see from their view if u can understand
They are spending their time,money everything for no worldly reason.they travel around the world on their own expense with no worldly desires,they miss their best times because they want every muslim to be jannati and have right knowledge.
MAY ALLAH FORGIVE US ALL AMEEN