Yeh bhi hay aik andaz

This is first
محبت مر چکی ہے اور اب نفرت کا موسم ہے
خدا کی بستیوں میں درد اور دہشت کا موسم ہے
درندے چھپ گئے ہیں اوڑھ کر عشاق کی کھالیں
دیارِ شوق ہے ویران،اور وحشت کا موسم ہے
سنو! کوہ قاف سے یاجوج اور ماجوج اترے ہیں
جہانِ پیش گوئی میں عجب حیرت کا موسم ہے
جنودِ طالبانی کا یہ دینِ مدرسہ سوزی
یہ کس کذاب کے پیغام کی شہرت کا موسم ہے
ہوائے بے نوائی ملک بھر میں چلتی رہتی ہے
مگر باغِ حکومت میں بڑی عشرت کا موسم ہے
This is another
کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں
تھا کون جو گرہ پہ گرہ ڈالتا رہا
اب یہ بتا کہ عقدہ کشا تُو ہوا کہ میں
جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا کہ میں
جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں
جب فصل ِ گل میں فکر ِ رفو اہل ِ دل کو تھی
اس رُت میں بھی دریدہ جگر تُو رہا کہ میں
کل جب رُکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
اے اہل ِ شہر تم تھے شہید ِ وفا کہ میں
کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا
تم تھے عُدو کی صف میں سر ِ کربلا کہ میں

Re: Yeh bhi hay aik andaz

love the second one. very nice.