یہ جو اک صبح کا ستارہ ہے
زندگی تیرا گوشوارہ ہے
اے مقدر کوئی حساب تو رکھ
کون جیتا ہے کون ہارا ہے
رفتہ رفتہ یہ ماجرا بھی کُھلا
دل کے سودے میں سب خسارہ ہے
کیسی اُفتاد پڑ گئی آخر
وقت گُزرا نہیں گُزارا ہے
عشق کے درمیان بھول گئے
کیا تمہارا ہے کیا ہمارا ہے
رنگ بھی کُھل رہا ہے چاہت کا
کس نے منظر کو یوں سنوارا ہے
آنکھ بھرنے لگی ہے یادوں سے
شور دریا ہے چُپ کنارہ ہے
یہ دبے پاؤں کون آیا تھا
کس کی آہٹ نے پھر پُکارا ہے
نصیر تُرابی