[RIGHT]ہماری بیہودہ زبانبیکن ہاؤس سکول کے ساہیوال کیمپس میں جاری ہونے والا ایک نوٹس آج کل سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اگست 2016 میں جاری کردہ بظاہر یہ عام سا نوٹس ڈسپلن کی پابندی سے متعلق ہے۔ تاہم جس بات نے اسے متنازع بنایا وہ یہ ہے کہ اس میں بچوں کو ‘بدزبانی’ سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے پنجابی کو بھی بدزبانی کے ذمرے میں شامل کیا گیا ہے۔جی ہاں اس نوٹس کی رو سے ملک کے 50 فیصد لوگوں کی مادری بولی ‘پنجابی’ بدزبانی یا بیہودگی کے مترادف ہے۔جب یہ نوٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو سکول کو وضاحت جاری کرنا پڑی۔ مگر سخت، متکبرانہ اور تمسخرانہ انداز میں کی گئی اس وضاحت میں لفظ ‘پنجابی’ کے بعد ‘دشنام’ کا اضافہ کر دیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ سکول انتظامیہ نے طلبہ کو پنجابی میں گالم گلوچ سے منع کیا ہے۔تاہم بیکن ہاؤس سکول کے ابتدائی نوٹس میں ‘دشنام’ کا لفظ موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر ہم عزت بچانے کی خاطر کی گئی یہ وضاحت قبول کر لیں تو اس صورت میں بھی یہ تاثر برقرار رہتا ہے جیسے پنجابی زبان میں دشنام طرازی ممنوع ہے جبکہ اردو، انگریزی یا کسی اور زبان میں گالم گلوچ جائز ہے۔ یہ کس قدر احمقانہ بات ہے۔سکول کی جانب سے احمقانہ انداز میں اس اقدام کے دفاع کی توقع تو تھی ہی مگر اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوٹس میں لکھا ہے’کوئی پنجابی ہیڈماسٹر اپنی مادری زبان کو ‘بیہودہ’ کیسے کہہ سکتا ہے؟‘تاہم اس تمام معاملے کا بنیادی نکتہ بھی یہی ہے۔ مغربی پنجاب کے بیشتر پنجابی ناصرف اپنی زبان کو حقیر جانتے ہیں بلکہ اس کا تمسخر بھی اڑاتے ہیں۔30 سال پہلے مشہور سیاست دان حنیف رامے نے اپنی کتاب ‘پنجاب کا مقدمہ’ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تھا کہ وہ پنجابیوں کی بات پنجابی کے بجائے اردو میں لکھنے پر مجبور ہیں کیونکہ اہل پنجاب اپنی ہی زبان میں پڑھنے لکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ رامے کو اس بات کا افسوس تھا کہ اہل پنجاب پاکستانی بننے کے لیے اپنی زبان بھی بھلا بیٹھے اور اردو کو ہی اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اردو کو بطور زبان اختیار کرنے سے پنجابیوں کو پاکستان کی سول اور فوجی بیوروکریسی میں بالادستی تو مل گئی مگر انہیں اس کی قیمت اپنی شناخت اور تہذیب سے دستبرداری کی صورت میں چکانا پڑی۔یہ بالادست پنجابی اشرافیہ اپنے سابق ہم وطن بنگالیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی تھی کیونکہ اس کے خیال میں وہ خاطرخواہ حد تک مسلمان نہیں تھے اور ان کی زبانی بھی خاصی ہندوانہ تھی۔ ان کا اپنی زبان و ثقافت کے بارے میں بھی یہی خیال تھا۔پاکستان میں پنجابی کے بارے میں گہرے تعصب نے لسانی اور علمی طور پر ہی اس زبان کی ترقی کو متاثر نہیں کیا بلکہ اسے بیہودہ اور گنوار بولی کی پست ترین سطح پر بھی دھکیل دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ جب کوئی پروفیسر کلاس میں پنجابی بولتا ہے اور طلبہ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ انگریزی یا اردو میں پڑھائے جانے والے تمام مضامین پنجابی میں بھی پڑھ سکتے ہیں تو تو مغربی پنجاب کے باسیوں کے لیے یہ نہایت صدمے کی بات ہو گی۔پنجابی زبان کے حوالے سے پاکستانیوں کی حقارت پنجابی ثقافت کے بارے میں عمومی ناپسندیدگی کا نتیجہ ہے۔ میں ہر سمیسٹر میں اپنے طلبہ سے پوچھتا ہوں کہ ان کا ‘مقامی لباس’ کیا ہے اور پنجابیوں سے بھرے کمرہ جماعت میں قریباً ہمیشہ مجھے یہی سننے کو ملتا ہے کہ ہمارا مقامی لباس ‘شلوار قمیص’ ہے۔جب میں انہیں یہ کہتا ہوں کہ شاید ‘دھوتی کرتا’ شلوار قیمض سے کہیں زیادہ مقامی لباس ہے تو بیشتر طلبہ کے چہرے پر ناپسندیدگی، انکار اور پریشانی نظر آتی ہے جیسے کوئی گھٹیا بات کی جا رہی ہو۔ بعض طلبہ کہتے ہیں ’ ارے یہ تو دیہاتیوں کا لباس ہے’ یا 'کبھی لوگ یہ چیزیں بھی پہنتے تھے مگر اب سے بہتر لباس موجود ہیں’یوں لگتا ہے جیسے بیشتر طلبہ اپنی پنجابی ثقافت کو چست جینز اور جدید شلوار قمیص تلے دفن کر دینا چاہتے ہیں۔ لباس کا انتخاب ایک الگ معاملہ ہے مگر لباس کے حوالے سے شرمندگی کچھ اور چیز ہے۔زبان ہماری شناخت کی اہم ترین علامت ہے اور اسی سے کسی قوم کی وضاحت ہوتی ہے۔ متذکرہ بالا نوٹس کے حوالے سے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسے ایک سکول کی جانب سے جاری کیا گیا۔ سکول ایسی جگہ ہے جہاں بچوں کی تربیت ہوتی ہے اور انہیں علم سکھا کر اچھا شہری بنایا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر ایسی مقدس جگہ پر کسی زبان کو ‘بیہودہ’ قرار دیا جائے تو یقیناً یہ تشویش ناک بات ہے۔ اس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ پنجابی زبان کے حوالے سے اس سکول کے طلبہ اور اساتذہ کا رویہ کیا ہو گا۔ ایسے ماحول میں بڑے ہونے والے بچوں کے پاس اپنے اپنی مقامی زبان کو حقارت سے دیکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا کیونکہ انہیں اس زبان سے مانوس ہونے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسے ماحول میں پڑھنے والے بچے ذہنی طور پر کھوکلے، اپنی دھرتی سے کٹے ہوئے اور ذہنی الجھاؤ کا شکار ہوں گا۔آج کی ہردیسی دنیا میں کسی ایک زبان سے بندھا رہنا ممکن نہیں ہے اور بیشتر لوگ ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہیں۔ مگر کسی زبان کو یوں بدنام کرنے سے اپنے متعلق ہمارے گہرے اضطراب کا اظہار ہوتا ہے۔ پنجاب پاکستان کا 50 فیصد ہے اور اگر پنجاب کے لوگ ہی اپنی اصلیت پر شرمندہ ہیں تو پھر پاکستان کی تقدیر کیا ہو گی؟ایعقوب خان بنگش[/RIGHT]
Re: Vulgar Language
Wat I Understood from above that u ( or the original writer ) compaining about not allowing to sue punjabi langauge in schools. This is not a real big issue. In punjab tehy not allowing to use punjabi , in karachi there are many schools that not allowing children to talk in urdu in class. This is their policy so that when the kids go home they speak english fluently.
When ur kids speak in fluent english is considered a sign of high educated person in our country.. even their brains are empty..