Re: US Secretly Met with Haqqani Network - Wall Street Journal
[RIGHT]ہم سمجھتے ہيں کہ اقوام متحدہ ايک اہم بين لاقوامی ادارہ ہے ليکن امريکہ کو اپنے دفاع کے ليے اقوام متحدہ سے اجازت لينے کی ضرورت نہیں ہے۔
جيسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، آرٹيکل 51 کے تحت صاف اور شفاف انداز میں لکھا ہے کہ
"موجودہ چارٹر کے مطابق اقوام متحدہ کے ممبر ملک کو کسی بھی جارحيت کے خلاف انفرادی اور اجتماعی دفاع کا پورا حق ہے اس صورت میں جب کہ اقوام متحدہ کے ممبر پر مسلح حملہ کيا جاۓ جبکہ سیکورٹی کونسل نے عالمی امن اور سلامتی کے ليے مناسب اقدام نہ کيے ہوں۔ ممبرز کی جانب سے اپنے دفاع کی مد ميں کیۓ جانے والے اقدامات سے اقوام متحدہ کو فوری آگاہی دلانا ضروری ہے اور اس ضمن ميں سيکورٹی کونسل کی ذمہ داری اور صوابديد کے تحت کوئ آنچ نہیں آۓ گی تا کہ عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے ليے اقدامات بوقت ضرورت کيے جا سکيں۔
ميں نے بارہا يہ کہا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے کيے جانے والے سارے فيصلے مکمل اور غلطيوں سے پاک نہيں ہيں اور نہ ہی امريکی حکومت نے يہ دعوی کيا ہے کہ امريکہ کی خارجہ پاليسی 100 فيصد درست ہے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ عراق ميں مہلک ہتھياروں کے ذخيرے کی موجودگی کے حوالے سے ماہرين کے تجزيات غلط ثابت ہوۓ۔ اور اس حوالے سے امريکی حکومت نے حقيقت کو چھپانے کی کوئ کوشش نہيں کی۔ بالکل اسی طرح اور بھی کئ مثاليں دی جا سکتی ہيں جب امريکی حکومت نے پبلک فورمز پر اپنی پاليسيوں کا ازسرنو جائزہ لينے ميں کبھی قباحت کا مظاہرہ نہيں کيا۔ ليکن حقيقت يہ ہے کے کہ صدام حسين نے ماضی ميں کئ بار کيميکل ہتھيار استعمال کيے۔
ذوالفقار- ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
[/RIGHT]