Almost every day, some people get abducted, their tortured bodies turn up in Balochistan, and many incidents that occur in Fata which dont get any media coverage. The ISI which has ubiquitous role in all terror activities around the world, cannot save its own people from terrorism. Ironic isnt it?
Bro, they save those who pay them...viz a viz the great satan, the US of A$$
Army and CIA are completely two different entities in US and UK.
They will sell nukes to the country they like, Israel has tons of them and even the technology. Pakistan sold to its friend and that earned us enemies.
That probably is a difference, not in thousands, but they will eliminate anyone who are in their way.
That would be job of FBI , besides we are not fighting a small gang and we don’t have enough technology to snif out terrorists, we can’t even seal bloody border at our will.
اسلام آباد سے پراسرار طور پر اغواء کے بعد قتل ہونے والے صحافی سلیم شہزاد کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات میں سست روی پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ ادھر سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیشن کے سامنے بیان دینے والے بعض صحافیوں کو ’سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد‘ کی جانب سے ہراساں کرنے کی اطلاعات ہیں اور کمیشن کے حکم کے باوجود متعلقہ افراد کو پولیس نے تاحال سکیورٹی بھی فراہم نہیں کی ہے۔
سلیم شہزاد کے برادرِ نسبتی حمزہ امیر نے بی بی سی اردو کے اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تاحال اسلام آباد پولیس نے سلیم شہزاد کے موبائل فون کے ریکارڈ اور ای میل تک بھی رسائی حاصل نہیں کی اور اب تک ان کے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور بٹوے کا پتہ نہیں چل پایا۔
انہوں نے بتایا کہ سلیم شہزاد کی گاڑی ملٹری کالج کی دیوار کے قریب سے ملی ہے۔’جس ملٹری کالج کی دیوار کے قریب سے گاڑی ملی اس پر تین فوجی چوکیاں بنی ہیں اور گیارہ گھنٹے تک وہاں مشکوک گاڑی کیسے کھڑی رہی اور اس کے بارے میں ایک راہ گیر نے کیسے پولیس کو اطلاع کی؟۔۔۔ یہ ایسے سوالات ہیں جس کا پولیس کو جواب تلاش کرنا ہے‘۔
حمزہ امیر نے کہا کہ سلیم شہزاد کی گاڑی جب ان کے سپرد کی گئی تو فیول کا ٹینک بھرا ہوا تھا اور ’سی این جی‘ کا ٹینک نصف بھرا ہوا تھا۔
’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گاڑی اسلام آباد سے سرائے عالمگیر تک چلا کر نہیں لے جائے گئی بلکہ کنٹینر یا ٹرک وغیرہ میں وہاں پہنچائی گئی ہوگی‘۔ انہوں نے بتایا کہ حکام سلیم شہزاد کو غیر ملکی ایجنٹ اور طالبان سے ان کا قریبی تعلق ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’وہ تحقیقی صحافت کرتے تھے ظاہر ہے ان کا مولوی نذیر سے تعلق رہا ہے اور وہ امریکہ اور فرانس کے سفارتخانے میں بھی جاتے ہوں گے لیکن اس کا دوسرا رنگ دینا غلط ہے‘۔ حمزہ امیر نے بتایا کہ سلیم شہزاد کا اہل خانہ آج کل شدید طور پر مالی مشکلات کا بھی شکار ہے۔ ان کے بقول وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا تھا کہ سلیم شہزاد کے اہل خانہ اور ان کی میت کو کراچی بذریعہ طیارہ لے جانے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی لیکن ان کا یہ وعدہ زبانی کلامی حد تک ہی رہا ہے۔
’ہم مقروض ہوچکے ہیں اب تک کراچی سے آنے جانے، کمیشن کے سامنے پیش ہونے، منڈی بہاؤالدین پولیس تفتیش کے سلسلے میں آنے جانے میں بہت خرچہ ہوچکا ہے اور تاحال حکومت یا کسی صحافتی تنظیم نے کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی‘۔ سلیم شہزاد کے ایک قریبی دوست محمد فیضان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس قتل کیس کی جانچ میں دلچسپی نہیں لے رہی اور انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’ریاستی مشینری‘ اس کے پیچھے ہے اور پولیس ان سے ڈرتی ہے۔ ’مجھے کمیشن کے سامنے گواہی دینے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ میرے گھر میں گھسے۔۔۔ میری بیوی کو کہا کہ فیضان کو چھوڑ دو ۔۔مجھے نامعلوم نمبر سے دھمکی آمیز اور ہراساں کرنے کے لیے فون آتے رہے اور میں نے جب کمیشن کو یہ باتیں بتائیں تو اب فون آنا تو بند ہوئے ہیں لیکن صحافی دوستوں کی معرفت گواہی نہ دینے کے مشورے ملتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ سلیم شہزاد نے کراچی میں پاک بحریہ کے مہران بیس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ’ایشیا آن لائن‘ میں یہ خبر دی تھی کہ بحریہ کے نچلی سطح کے ملازمین کے القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور کچھ ملازمین اس سلسلے میں زیر تفتیش ہیں۔
انہیں انتیس مئی کو اسلام آباد کی مارگلہ روڈ سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا اور ان کی گاڑی اور لاش اکتیس جون کو سرائے عالمگیر سے ملی تھی۔
سلیم شہزاد کی ہلاکت پر پاکستانی صحافیوں اور عالمی صحافتی تنظیموں کے احتجاج کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ کے جج ثاقب نثار کی سربراہی میں اس ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا ہے جو ابھی کام کر رہا ہے اور منگل کو بھی انہوں نے بیانات قلمبند کیے ہیں۔