Re: US calls for immediate release of diplomat in Pakistan
ہم پاکستان کی خود مختاری اور قانون کا مکمل احترام کرتے ہيں اور اس بات کی توقع رکھتے ہيں کہ ہماری حکومت کے تمام نمايندے ميزبان ملک کے قوانين کا احترام ملحوظ رکھيں۔ ہميں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام مکمل طور پر فعال اور آزاد ہے۔
میں آپ کو ياد دلا دوں کہ اس وقت بھی 5 امريکی شہری دہشت گردی کے مقدمے ميں پاکستان ميں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحويل ميں 10 سال کی قيد کاٹ رہے ہيں۔امريکی حکومت نے اپنے ان شہریوں کو کونسل خانے کی حد تک رسائ اور مدد ضرور فراہم کی تھی ليکن ہم نے کسی بھی موقع پر قانونی کاروائ ميں مداخلت نہيں کی اور نہ ہی پاکستان کے عدالتی نظام پر کسی قسم کے عدم اعتماد کا اظہار کيا تھا۔ اس کے علاوہ امريکی حکومت کی جانب سے ان امريکی شہريوں کی رہائ کے حوالے سے بھی کوئ مطالبہ نہيں کيا گيا تھا۔
ليکن اس وقت گرفتار امريکی شہری کا معاملہ سفارتی استثنی کے باعث پاکستان کے عدالتی نظام کے دائرے اختيار ميں نہيں آتا۔ جيسا کہ صدر اوبامہ نے خود اس بات کو واضح کيا ہے کہ اس معاملے ميں ايک بڑا اصول داؤ پر ہے۔
ويانا کنونشن کے آرٹيکل 37 کے تحت سفارت خانے کے انتظامی اور تکنيکی عملے کو کسی بھی قانونی کاروائ سے مکمل استثنی حاصل ہے اور انھیں قانونی طور پر نہ ہی گرفتار کيا جا سکتا ہے اور نہ ہی قيد کيا جا سکتا ہے۔ ويانا کنونشں کے تحت ميزبان رياست کو يہ اختيار نہيں ہوتا کہ وہ سفارتی استثنی کو ختم کر سکے۔
جيسا کہ ميں نے پہلے واضح کيا تھا کہ امريکی سفارت کار کی رہائ کا مطالبہ اسی سفارتی استثنی کی بنياد پر ہے جس کی درخواست ہم کسی بھی دوسرے ملک ميں بھی کرتے۔ اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ ہم پاکستان ميں عدالتوں پر اعتماد نہيں کرتے يا ان کا احترام ملحوظ نہيں رکھ رہے۔
ذوالفقار – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected] ”][email protected]
www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
Zulfiqar do you only talk and try not to read??? i’ll be surprised if an american like you would answer NO
Anyway, if a ambassador, beats his wife/girl-friend, involves in car accident or something like that, would USA let him go without prosecuted under WE-AA-NA convention…