?BBC Urdu? - ??? - ??? ?? ??? ?](کتابوں کے محافظ - BBC News اردو)
تقریباً ڈیڑھ سال تک جنگ کی آگ میں سلگتے سوات سے جہاں لوگ جان بچانے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ رہے تھے وہاں ایک شخص ایسا بھی تھا جو جان کی بجائے اپنی کتابیں بچانے کی خاطر موت کی منہ میں بیٹھا رہا ۔یہ شخص ہے پشتو کے ممتاز ادیب، ماہرِگندھارا آرٹ اور ماہر لسانیات پرویز شاہین۔
پشتو کے تئیس کتابوں کے مصنف ساٹھ سالہ پرویز شاہین سوات کے صدرمقام مینگورہ سے سات کلومیٹر دور منگلور کے رہائشی ہیں۔ایک ادیب، ماہر لسانیات اور گندھارا آرٹ کے ماہر ہونے کے علاوہ انکی لائبریری انکی ایک بڑی شناخت ہے۔
گندھارا تہذیب کا گہوارہ سوات، گندھارا آرٹ کے ماہر پرویز شاہین اور انکی ایک بڑی لائبریری، وہ تین ایسی پُر کشش چیزیں ہیں جو دنیا بھر سے محقیقین کو یہاں کھینچ کے لاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پرویز شاہین کا گھر گزشتہ تین دہائیوں سےغیر ملکیوں کا ایک مستقل ڈیرہ بن چکا ہے لیکن سوات میں طالبان اور سکیورٹی فورسز کی طویل لڑائی نے علم کے اس سرچشمہ کو خشک کردیا ہے اور اب وہاں کوئی غیر ملکی علم کی پیاس بجھانے نہیں جاتا۔
پرویز شاہین کے بقول انکی لائبریری میں طب، سیاست، گندھارا تہذیب، کلچر، ادب غرض ہر موضوع پر تقریباً چھبیس ہزار تین سو درج شدہ کتابیں موجود ہیں۔جبکہ انیس سو چونسٹھ کے بعد دنیا میں پیش آنے والے بڑے سیاسی اور قدرتی آفات سے متعلق اخبارات اور رسائل میں چھپنے والے واقعات مجلد شکلوں میں ان کے پاس محفوظ ہیں۔
اس لائبریری بنانے پر پرویز شاہین نے اپنی عمر کے چالیس سال سے زائد کا عرصہ لگایا ہے ۔وہ کہتے ہیں’جیسے کوئی پرندہ تنکا تنکا چُن چُن کر اپنا گھونسلہ بناتا ہے اسی طرح گلی گلی، قریہ قریہ، شہر شہر کو چھان چھان کر میں نے یہ لائبریری بنائی ہے۔،
لیکن کتابوں کے اس عاشق کو کیا معلوم تھا کہ ایک دن گندھارا تہذیب کا گہوراہ سمجھے جانے والے سوات پر جنگ کی وہ آگ برسی گی کہ انہیں جان اور کتاب بچانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
وہ آبدیدہ ہوکر کہنے لگے’میں نے شدید گولہ باری میں اپنے بچوں کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی یہ کتابیں ہیں، میں انہیں چھوڑ کر نہیں جاسکتا، اگر پرویز شاہین کو کچھ ہوتا ہے بیشک ہوجائے مگر میری اگلی نسل کے لیے یہ لائبریری محفوظ رہنی چاہیے۔مجھے ان کتابوں کے بدلے جان بچانے کا سودا قدرے سستا لگتا ہے
وہ مزید کہنے لگے’بچوں نے ضد کی کہ آپ موت کے منہ میں جا رہے ہیں مگر اس وقت مجھے مغل بادشاہ ہمایوں کی یاد آئی جو اپنی لائبریری سے نکل کر سیڑھیوں سے گر کر فوت ہوگئے تھے، میں نے بھی یہی سوچا کہ موت نے تو ویسے بھی کبھی آنی ہی ہے اور کہیں اور مرنے سے بہتر ہے کہ اپنی لائبریری کی حفاظت کرتے ہوئے مرجاؤں۔’
پرویز شاہین نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے قریبی انسانی رشتوں کو جذبات اور احساسات کی سولی پر چڑھا تو دیا لیکن بقول انکے اب توپ کے منہ سے نکلنے والا ہر گولہ انکی خوف میں اضافہ کردیتا ’گولے کی آواز آتی تو ڈر جاتا کہ کہیں یہ مجھے یا میری لائبریری کو نہ لگے، اگر یہاں نہ لگتا تو پھر یہ دکھ کھائے جارہا تھا کہ خدایا یہ کس کے گھر پر لگا ہوگا، کوئی مرا ہوگا یا نہیں۔‘
کچھ دن ایسے گزرے تو پرویز شاہین کے اندر ادیب جاگ اٹھا انہوں نے جنگ میں ان پر اور اہلِ علاقہ پر گزرنے والی حالات کی روداد رقم کرنے کے لیے قلم اٹھایا ’میں نے گھڑی گھڑی کے واقعات لکھنے شروع کردیے۔ کون مرا، کیسے مرا، کیا ہوا، کس کا جنازہ ہوا، کون گاؤں چھوڑ کر گیا، کون طبعی موت مرا اور متاثرہ خاندان کے گھر جا کر ان کے احساسات معلوم کر کے لکھتا رہا۔ اب اسے چھاپنے کا ارادہ ہے۔‘
انہوں نے اس دوران سوچا کہ گولوں سے بچنے کے لیے اللہ اللہ کرنے سے بہتر ہے کہ وہ بحیثیت ادیب اور باشعور انسان کے اس سخت گھڑی میں لوگوں کی مدد کریں’میں نے پہلے لوگوں کا مورال بلند کرنے کی کوش’ش کی۔ پھر جن کے گھر میں آٹا نہیں تھا انہیں کسی سے مدد مانگ کر پہنچاتا، مرنے والوں کے جنازوں اور دفنانے کا انتظام کرتا۔‘
انہوں نے کئی ناقابل فراموش واقعات سنائے ’ایک دفعہ گاڑی میں اپنے شاگرد کے ساتھ جا رہا تھا کہ فوج نے گولیاں چلائیں جو میرے پہلو میں بیٹھے میرے شاگرد کو لگی اور وہ میری بانہوں میں ہی دم توڑ گئے، ایک اور جگہ نوجوان کو پیٹ میں گولی لگی جس جگہ گولی لگی تھی وہاں سے خون بلبلوں کی صورت میں نکلتا رہا، کرفیو نافذ تھا کوئی طبی امداد نہیں مل رہی تھی تو چند نوجوانوں نے پیٹھ پر اٹھا کر انہیں پہاڑی راستے سے مینگورہ پہنچا دیا۔ گولوں کی اتنی بھر مار تھی کہ لوگوں نے مکان کے صحن ہی میں اپنے مُرودوں کو دفنایا، مجھے یاد ہے کہ پچاس سے زیادہ خواتین نے گھروں پر ہی بغیر کسی طبی امداد کی بچوں کو جنم دیا ہے۔ ایک دفعہ کئی مُردوں کو ہم چند افراد نے ورثاء کی عدم موجودگی میں گمنام دفن کردیا۔‘
پرویز شاہین اور انکی لائبریری بالاخر جنگ کی آگ کی تپش سے بچ ہی گئی، انکے بچے بھی واپس گاؤں آئے اور جس وقت میری مینگورہ میں ان سے ملاقات ہوئی تو اس وقت بھی ان کے ہاتھوں میں چند کتابیں تھیں جو اسی لائبریری کا حصہ بننے جا رہی تھیں جس کی انہوں نے اپنی جان کی قیمت پر حفاظت کی ہے۔
Comment:
THis guy is a true hero. Iqbal said,
Apney sahra meiN buhut Aahoo abhi posheeda haiN
BijliyaaN bersey howey badal meiN bhi Khawbeeda haiN