Toufiq bina Dil mein thikana nhi milta...!!

​توفیق بنا دل میں ٹھکانہ نہیں ملتا​
نقشے کی مدد سے یہ خزانہ نہیں ملتا​

پلکوں پہ سُلگتی ہوئی نیندوں کا دھواں ہے​
آنکھوں میں کوئی خواب سہانا نہیں ملتا​

ملتی ہی نہیں اُس کو ملاقات کی راہیں​
اور مجھ کو نہ ملنے کا بہانہ نہیں ملتا​

تم جانتے ہو وقت سے بنتی نہیں میری​
ضد کس لئے کرتے ہو کہا نا، نہیں ملتا​

کیا یہ بھی کوئی رسمِ رقابت ہے کہ جس میں​
تم ملتے ہو مُجھ سے تو زمانہ نہیں ملتا​

سلیم کوثر