طرحی غزل
تیرے لیے اے یار غزل کہہ رہا ہوں میں
دل میں ہے تیرا پیار غزل کہہ رہا ہوں میں
قصے ہیں بے شمار، غزل کہہ رہا ہوں میں
راتیں ہوئیں ہزار، غزل کہہ رہا ہوں میں
جذبوں پہ ہے نکھار غزل کہہ رہا ہوں میں
"ہے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں میں"
اے قربِ یار! تجھ پہ کھلے کاش میرا حال
دونا ہوا خمار، غزل کہہ رہا ہوں میں
رفتارِ اسپِ عمر کی جولانیاں بخیر
اڑتا رہے غبار، غزل کہہ رہا ہوں میں
تسخیرِ کائنات کی تفویض ہے مہم
میری نظر اتار، غزل کہہ رہا ہوں میں
کاغذ پہ ایک نام ہی لکھتا ہوں بار بار
اور اس پہ اعتبار غزل کہہ رہا ہوں میں
اشعارِ میر و غالب و اقبال سے فصیح
الفاظ لا ادھار، غزل کہہ رہا ہوں میں
شاہین فصیح ربانی