“ہم دنيا کے ايک عظيم مذہب کی مقدس روايت کی پاسداری کر رہے ہيں۔ مذہب اسلام کے پيروکاروں کے ليے افطار کا کھانا روزے اور روحانی سوچ بچار کے اس وقفے کے اختتام کا عنديہ ہے جس کا اہتمام رمضان کے مقدس مہينے ميں روزانہ کيا جاتا ہے۔ افطار کے مواقع محبت، وسعت سوچ اور امن کے لافانی پيغام کے جشن کے ليے دوست احباب اور خاندانوں کے ميل ملاپ کے مظہر ہيں۔ يہ موقع اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم اپنے سب سے مقدم تصورات کی جانب رجوع کريں اور ان بيش بہا رحمتوں کے ليے شکر گزار ہوں جو ہميں ميسر ہيں۔” صدر ٹرمپ
I know man, i’ve practically sent the invitation on a plate. But may be i’m over-zealous in saying out loud how American muslims are contributing in making this country greater but are totally shutdown.
I believe cent comm guyz were real. The Abdul quddus guy even used to post some in poetry section. But you can notice they all vanished as soon as this administration came. I’m sure all of them were let go.
وائٹ ہاؤس، اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ، پينٹاگان اور امريکی حکومت کے ديگر محکموں ميں افطار ڈنر اور ديگر مذہبی تہواروں سے متعلق تقريبات کا انعقاد اس حقيقت کو واضح کرتا ہے کہ ايک متنوع امريکی معاشرے ميں مختلف ثقافتی پس منظر اور مذہبی وابستگيوں سے بالا ہو کر تمام شہری اجتماعی سطح پر مل کر کام کرتے ہيں۔
وائٹ ہاؤس ميں حاليہ افطار ڈنر اسی پرانی روايت کا تسلسل ہے جس ميں مقامی اور بيرون ملک سے مسلم کميونٹی کے افراد کو دعوت دی جاتی ہے۔
چونکہ موقع کی مناسبت سے تقريب عالمی نوعيت کی تھی اور بين الاقوامی رنگ ليے ہوئ تھی اس ليے يہ موزوں سمجھا گيا کہ کانگريس کے اراکين کے ساتھ مقامی اور بين الاقوامی شخصيات اور خاص طور پر واشنگٹن ميں اسلامی ممالک کے سفارت کاروں اور ان کے مہمانوں کو مدعو کيا جاۓ۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب ميں دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک کے ساتھ طويل المدت بنيادوں پر شراکت داری اور اتحاد کے ضمن ميں اپنے مصمم ارادے اور عزم پر زور ديا۔
“آج ہم مشرق وسطی ميں اپنے اہم ترين اتحاديوں کے ساتھ تعلقات اور دوستی کے نۓ دور کے ليے شکر گزار ہيں۔ ايک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کے ليے ہميں مل کا کام کرنا ہو گا۔ گزشتہ ايک برس کے دوران ہم نے جو شراکت داری اور اتحاد کام کيا ہے، وہ وقت گزرنے کے ساتھ مزيد مستحکم ہوا ہے۔”