شام کی لمبی تاريک رات

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شامی شہر دوما پر کیمیائی حملہ

**

https://s14.postimg.org/n51y62bgh/Da_W9_T4b_XUAIBApo.jpg

**

ہم 7 اپریل کو شام کے شہر دوما میں ایک اور کیمیائی حملے سے متعلق پریشان کن اطلاعات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ اس مرتبہ ایسے حملے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ متعدد رابطوں اور وہاں موجود طبی عملے کے افراد سے ملنے والی اطلاعات سے نشاندہی ہوتی ہے کہ اس حملے میں ممکنہ طور پر بڑا جانی نقصان ہوا اور پناہ گاہوں میں موجود خاندان بھی اس کا نشانہ بنے۔ اگر ایسی اطلاعات درست ہیں تو یہ ایک ہولناک صورتحال ہے جو عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔

امریکہ شام سمیت ہر جگہ کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے احتساب کے لیے ہرممکن کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کے واقعات شبے سے بالاتر ہیں اور درحقیقت قریباً ایک سال قبل 4 اپریل 2017 کو بھی اسد کی افواج نے خان شیخون میں سرن گیس سے حملہ کیا تھا جس میں قریباً 100 شامی ہلاک ہوئے۔
شامی حکومت اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کا احتساب اور ایسے مزید حملوں کی فوری روک تھام ہونی چاہیے۔ روس پر بھی ایسے وحشیانہ حملوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو اسد حکومت کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ ان حملوں میں بے شمار شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور کیمیائی ہتھیاروں سے شام کے انتہائی کمزور لوگوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ روس نے اپنے اتحادی شام کو تحفظ دے کر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے کے سلسلے میں ضمانتی کے طور پر اقوام متحدہ سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ روس کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2118 کے حوالے سے دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہے۔ روس کی جانب سے اسد حکومت کے تحفظ اور شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنے میں ناکامی سے مجموعی بحران کے حل اور کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ترجیحات بارے اس کے عہد پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

امریکہ روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شامی حکومت کی قطعی حمایت فوری بند کرے اور مزید وحشیانہ کیمیائی حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی برادری سے مل کر کام کرے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]

Re: شام کی لمبی تاريک رات

Time to oust Assad once and for all. Whether by force or without (no chance of that).

Once a butcher, always a butcher. He should be treated worse than Saddam for heinous war crimes

[RIGHT]
فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شام ميں عام شہريوں کو کيميائ گيس کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے ليے امريکہ کی جانب سے حاليہ فضائ بمباری کے بعد بعض راۓ دہندگان يہ غلط تاثر دے رہے ہيں کہ امريکی حکومت خطے ميں تشدد اور خون ريزی کی خواہش مند ہے۔

اس الزام کا حقيقت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

ياد رہے کہ شام ميں خانہ جنگی کے بعد انسانی بنيادوں پر جس ملک نے سب سے زيادہ امداد اور وسائل فراہم کیے ہيں، وہ امريکہ ہی ہے۔ شام ميں تشدد کے واقعات کے نقطہ آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والے شہريوں اور ان کی بحالی کے ليے امريکہ کی جانب سے قريب 7۔7 بلين ڈالرز کی خطير امداد فراہم کی گئ ہے۔

بعض راۓ دہندگان کی جانب سے تشہير کیے جانے والے غلط تاثر کے برعکس، امريکی حکومت شام ميں متاثرہ عام شہريوں تک ضروريات زندگی کی بنيادی اشياء فراہم کرنے ميں بدستور اپنا تعميری کردار ادا کررہی ہے۔

نہتے شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانے کے ليے شام کی حکومت کے خلاف ليے جانے والے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ امريکی حکومت شہری آبادی کے ليے ہنگامی بنيادوں پر ہر طرح کے وسائل بھی فراہم کر رہی ہے جن ميں کھانے پينے کا سامان، خيمے، پينے کا صاف پانی، فوری طبی سہوليات اور ديگر سازوسامان شامل ہے جن سے شام کے اندر متاثرہ 1۔13 ملين شہری مستفيد ہو رہے ہيں۔ اس کے علاوہ شام سے ہجرت کرنے والے قريب 6۔5 ملين شہری جو خطے کے مختلف علاقوں ميں پناہ ليے ہوۓ ہيں، ان کو بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

امريکی صدر نے قومی سلامتی سے متعلق اپنی پاليسی وضع کرتے ہوۓ يہ واضح کيا تھا کہ امريکی حکومت يہ سمجھتی ہے کہ خانہ جنگی کے نتيجے ميں بے گھر ہونے والے پناہ گزينوں کو ان کے آبائ علاقوں کے قريب مدد فراہم کی جانی چاہيے يہاں تک کہ وہ حفاظت کے ساتھ واپس اپنے گھروں کو جاسکيں۔

خطے ميں قريب 6۔5 ملين شامی پناہ گزينوں تک ہر ممکن امداد کی فراہمی ہمارے اس عزم اور ارادے کو واضح کرتی ہے کہ ہم خطے ميں امن اور استحکام کی بحالی کے خواہ ہيں۔

فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
[/RIGHT]

Thanks to US, UAE & Saudi…

also Iran and Russia played crutial role!!

Same game is being played in Yemen!!! Poor people are being starve to death!!!

Thank you Prince Mohd bin Salman and US!!

After Iraq, Afghanistan and Libya, Syria and Yemen were destroyed!!! who’s next in line?

[RIGHT]
فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شام ميں جاری تنازعہ اور اس کے نتيجے ميں ملک کے طول وعرض ميں عورتوں اور بچوں سميت معصوم شہريوں پر ڈھاۓ جانے والے مظالم دلخراش تصاوير کے ذريعے تمام دنيا کے لوگوں کے ضمير کو جھنجھوڑ رہے ہيں۔ لاتعدار شامی شہری اپنا گھر بار اور تمام زندگی کی جمع پونجی چھوڑ کر ارد گرد کے ممالک ميں مہاجروں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہيں۔

اس وقت شامی عوام شديد مشکل ميں ہيں اور دنيا سے مدد کی اميد لگاۓ ہوۓ ہيں۔ دنيا کا کوئ بھی ملک تن تنہا اس ذمہ داری کا بوجھ نہيں اٹھا سکتا ہے۔ اس عظيم مشکل کے حل کے ليے ضروری ہے کہ اجتماعی سطح پر ممالک، افراد، تنظيميں اور مختلف ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کريں۔

اس انسانی سانحے کے حل کے ليے امريکہ کی جانب سے سب سے زيادہ امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس امداد ميں فوری طبی امداد کے حوالے سے ساز وسامان کے ساتھ ساتھ بے گھر ہونے والے شہريوں کے ليے زندگي کی بنيادی ضروريات اور ديگر اشياء شامل ہيں۔ يہ تمام سازوسامان تنازعے سے متاثرہ شہريوں کو مختلف عالمی سرحدوں کے پار پہنچايا جا رہا ہے۔

شام کے مہاجرين اور متاثرہ شہريوں تک امداد کی منتقلی کا کام صرف امريکی حکومت تک محدود نہيں ہے بلکہ بے شمار امريکی شہری، نجی تنظيميں اور ادارے بھی اس ضمن ميں بہت مثبت اور تعميری کردار ادا کر رہے ہيں۔

ايک امريکی شہری کی کاوشوں کے حوالے سے ويڈيو پيش ہے جس نے پچاس سے زائد امريکی سکولوں کے تعاون سے مالی امداد کے ساتھ ساتھ شامی بچوں کے ليے ضروريات زندگی کا سامان جمع کيا۔

فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

[/RIGHT]

super powers need something to do propaganda against each other. but taking people’s lives, using it to market your view point, seriously ?

[RIGHT]
فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

شام کے نہتے شہريوں پر ايک جابر حکمران کی جانب سے مسلط کی جانے والی خانہ جنگی نا تو امريکہ کی جانب سے شروع کی گئ ہے اور نہ ہی امريکہ کو اس خون ريزی سے کوئ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ يہ روس کی حکومت اور قيادت ہی ہے جس نے شام کی ايک ايسی حکومت کی پشت پنائ، حمايت اور تعاون کا فيصلہ کيا جس نے تمام عالمی قواعد اور ضوابط اور قوانين کو پس پشت ڈال کر حاليہ انسانی تاريخ کا سب سے بڑا انسانی بحران پيدا کر ديا ہے۔

امريکی حکومت اس بات کے ليے ذمہ دار نہيں ہے کہ آج ہزاروں کی تعداد ميں شامی شہری انتہائ تکليف دہ حالات ميں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہيں اور عالمی برادری سے يہ اميد لگاۓ بيٹھے ہيں کہ ان کے حقوق کے ليے عالمی سطح پر آواز بلند کی جاۓ۔ امريکی حکومت اپنی عالمی ذمہ داری پوری کر رہی ہے اور ديگر علاقائ فريقين کے ساتھ مل کر معصوم شہريوں کی جانوں کو محفوظ کرنے کے ليے مدد اور تعاون فراہم کر رہی ہے۔
امريکہ کی اس معاملے ميں مداخلت يا کردار کا محرک روس کے ساتھ کوئ سابقہ کشيدگی نہيں بلکہ نہتے اور بے يارومددگار شہريوں کے ليے اجتماعی سطح پر کاوشيں کرنا ہے جو مدد اور تعاون کے ليے عالمی برادری کی جانب ديکھ رہے ہيں۔

ہماری جانب سے ايسے بے يارومددگار شہريوں کے حقوق کے ليے آواز اٹھانا جنھيں خود ان کی اپنی حکومت رد کر چکی ہے، مداخلت کے زمرے ميں نہيں آتا۔ يہ انسانيت سے متعلق ايک ايسا عالمی مسلۂ ہے جسکے حل کے ليے خطے کے تمام فريقين اور عالمی براداری کی جانب سے مربوط اور اجتماعی ردعمل کی ضرورت ہے، اور يہی کچھ ہم کر رہے ہيں۔

فواد ? ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم ? يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
[/RIGHT]