افغانستان ميں داعش کی شکست اور ان کے خفيہ ٹھکانوں کا صفايا جاری
ننگرہار صوبے ميں داعش کے اہم مرکز کی تبائ۔
افغانستان کی وزارت دفاع نے اپنے بيان ميں کہا کہ ضلع آچن ميں فضائ بمباری سے دہشت گرد گروہ کے مواصلاتی نظام کا خاتمہ کر ديا گيا ہے۔
داعش کے خلاف اتحادی مہم کاميابی سے جاری ہے۔ داعش قريب 98 فيصد علاقے پر اپنا اثر کھو چکی ہے۔ علاوہ ازيں قريب 7۔7 ملين افراد پر مبنی انسانی آبادی اب داعش کے عتاب سے آزاد ہو چکی ہے۔
جب تک داعش ايک عالمی خطرے کے طور پر موجود رہے گی، امريکی حکومت اپنے علاقائ اور عالمی اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنی پيش قدمی جاری رکھے گی اور جہاں بھی دہشت گردی کا نيٹ ورک فعال ہو گا، ان کے خلاف تاديبی کاروائ کی جاۓ گی۔
Meanwhile this is what your govt is doing in Pakistan:
Russian media sources are reporting that ISI disrupted CIA plan to organize prison break to free Shakil Afridi, the doctor who helped find Osama bin Laden in Abbotabad. Dr Afridi was last week moved out of Peshawar to a “safer location”.
@ZulifqarDOT, could you please tell me why you have not been able to completely eliminate this daesh thingy by now. if you can topple established regimes in a few months then why these bunch of rogue elements are taking so much time and effort and what is their source of getting weapons and money i.e., who is supporting them. they simply could not have lasted that long without ‘support’
Umar Khalid khurasani of TTP Jamatul Ahrar (TTPJA) is one of the Good Taliban commander according to master of khooni liberals, the US.
The US refused to declare him a terrorist. Can you explain why.
Answer please in one line and without twenty five CIA propaganda links.
?Insanity is doing the same thing over and over and expecting different results.?
Uncle Einstein
Why do you expect him to answer anything? I have asked him to no avail to not post this atrocious urdu font to no avail. He is collecting his paycheck any benefits from this job to US strategic objectives be damned!
عمر خراسانی جو کے امریکہ کا لیے دہشت گردی کرتا پھرتا ہے، اسے آج امریکہ نے دہشت گرد ماننے سے ہی انکار کر دیا، وجہ صاف ہے، یہ دہشت گرد امریکی دہشت گرد تنظیم داعش کا مقامی سرغنہ ہے!
اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے کہ کوئ بھی فرد يا گروہ جو دنيا کے کسی بھی حصے ميں عام شہريوں پر دانستہ پرتشدد کاروائيوں اور دہشت گردی کے ذريعے اپنے ايجنڈے کی تکميل پر يقين رکھتا ہے، امريکہ حکومت نا تو ايسے عناصر کے ليے نرم گوشہ رکھتی ہے اور نا ہی ان کی حمايت کرتی ہے۔
جماعات الاحرار سميت دنيا کی تمام بدنام زمانہ دہشت گرد تنظيموں اور ان کے سرغناؤں کے خلاف ہماری کاروائيوں اور اقدامات کا جائزہ ليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ عالمی دہشت گردی کے خاتمے کے ليے ہمارے ارادوں ميں کوئ لچک نہيں ہے۔
امريکہ بغير کسی تفريق کے تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اقدامات اور کاروائياں کرتا ہے۔
ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ امريکی وزارت خارجہ نے تحريک طالبان پاکستان سے منسلک گروہ جماعت الاحرار کو سال 2016 ميں ہی ايک عالمی دہشت گرد گروہ قرار دے کر کس پر پابندياں عائد کر دی تھيں۔ اسی طرح تحريک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر سال 2010 سے پابندياں عائد ہيں۔
اسی سال مارچ ميں امریکی دفتر خارجہ کے ‘انعام برائے انصاف’ پروگرام کے تحت دہشت گرد تنظیم ‘تحریک طالبان پاکستان’ (ٹی ٹی پی) اور اس سے ملحقہ دھڑوں سے وابستہ تین اہم رہنماؤں کی شناخت یا ان کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات پر انعامات کی پیشکش کا اعلان کيا گيا۔ اس سلسلے میں دفتر خارجہ نے ٹی ٹی پی کے سرغنہ مولانا فضل اللہ کے بارے میں پانچ ملین ڈالر جبکہ عبدالولی اور منگل باغ کے بارے میں اطلاع دینے پر تین تین ملین ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔
ہم نے نا صرف يہ کہ ان تنظيموں کے قائدین کی گرفتاری پر انعام مقرر کر رکھا ہے بلکہ ہم خطے ميں اپنے اسٹريجک اتحاديوں کے ساتھ مل کر اس امر کو يقینی بنا رہے ہيں کہ ان دہشت گرد گروہوں کو اس حد تک غير فعال کر ديا جاۓ کہ وہ کسی قسم کی دہشت گرد کاروائ کرنے کی صلاحيت سے عاری ہو جائيں۔
سيرين ڈيمرکريٹک فورسز (ايس ڈی ايف) کی تازہ کاروائ کے بعد ايک اہم ترين قصبے کو دہشت گرد گروہ کی گرفت سے آزاد کروا ليا گيا ہے جس کے بعد داعش کے ہاتھوں سے درياۓ فرات سے عراقی سرحد تک رسائ کا آخری راستہ اور وسيلہ بھی چلا گيا ہے۔
داعش کے خلاف اتحادی مہم کاميابی سے جاری ہے۔ ستمبر 2014 سے اب تک داعش عراق اور شام ميں مجموعی طور پر 107،575 کلوميٹر تک رقبے پر اپنا اثر ورسوخ اور اثر کھو چکی ہے۔
علاوہ ازيں قريب 7۔7 ملين افراد پر مبنی انسانی آبادی اب داعش کے عتاب سے آزاد ہو چکی ہے۔
جب تک داعش ايک عالمی خطرے کے طور پر موجود رہے گی، امريکی حکومت اپنے علاقائ اور عالمی اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنی پيش قدمی جاری رکھے گی اور جہاں بھی دہشت گردی کا نيٹ ورک فعال ہو گا، ان کے خلاف تاديبی کاروائ کی جاۓ گی۔
رقہ ميں داعش کے دہشت گردوں نے فٹ بال اسٹيڈيم کوجيل بنا رکھا تھا جہاں عام شہريوں کو تشدد کا نشانہ بنايا جاتا تھا۔ علاقے ميں داعش کی شکست کے بعد اب کھيلوں کی سرگرمياں بحال ہو چکی ہيں اور مقامی ٹيموں کے درميان فٹ بالوں ميچوں سے مقامی آبادی ايک بار پھر صحت مند تفريح سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
فٹ بال کا جاری عالمی مقابلہ اور اس ميں دنيا بھر کے ممالک اور شہريوں کا تاريخی جوش وخروش اور دلچسپی اس حقيقت کو اجاگر کر رہی ہے کہ کھيلوں کے مقابلے ايک ايسی عالمی يکجعتی کا مظہر ہيں جو سياسی، ثقافتی اور سرحدوں قيود سے بالاتر ہے۔ کھيلوں سے وابستہ صحت مند تفريح ہميشہ سے دنيا بھر کی عوام کے ليے جوش وخروش اور خوشی کا محرک رہی ہے۔
بدقسمتی سے دہشت گرد گروہوں نے ہميشہ کھيلوں کے ميدانوں اور ان مقابلوں کو خوف اور دہشت پر مبنی اپنی مہم جوئ کے ليے استعمال کيا ہے۔
چاہے وہ لاہور ميں سری لنکا کی ٹيم پر حملہ ہو، افغانستان ميں کرکٹ اسٹيڈيم پر خون ريزی يا صوماليہ ميں تماشائيوں سے بھرے ہوۓ اسٹيڈيم پر دہشت گردی کا حاليہ حملہ ? دہشت گردوں نے ہر جگہ عوامی مقامات کو اپنے مکروہ ايجنڈے کی تکميل کے ليے استعمال کيا ہے۔