rari389
1
[RIGHT]خون میں ڈوبا ہوں دریا میں اترنا ہے مجھے
دشتِ غربت کی فضاوں کو سمجھنا ہے مجھے
جانبِ منزلِ دلدار بڑھینگے کیسے
لذتِ زہرِ سلاسل ابھی چکھنا ہے مجھے
سر پہ باقی نہ کوئی سایہ رہے گا افسوس
بس اسی حالتِ بے حال میں مرنا ہے مجھے
ہے فلک بھی یہاں خاموش یہ کیا منزل ہے
رازِ حق سے کوئی پردہ بھی الٹنا ہے مجھے
وہ کھڑے سب ہیں تماشائی بنے ہم چپ ہیں
دل کی راہوں میں تماشہ بنے پھرنا ہے مجھے
روشنی کم ہے شبِ غم بھی ہے تاریک بہت
بن کے اب نور کا طوفان ابھرنا ہے مجھے[/RIGHT]
IS
2
Re: خون میں ڈوبا ہوں دریا میں اترنا ہے مجھے
Nice sharing :k: