Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ
[RIGHT]
**ہیں۔۔۔۔ یہ میں کیا پڑھ رہا ہوں بھائی؟ امریکیوں کو اقوام متحدہ کی اجازت کب سے درکار ہوئی؟
امریکہ نے تو دنیا بھر میں کسی کی اجازت لیے بغیر بد معاشی اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ عراق میں کس کی اجازت سے گئے تھے؟ شام میں جو خباثت مچائی ہے اس کی اجازت یقیناً اپنے آقا ابلیس مردود سے مانگی ہو گی؟
اور یہ جو یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا ہے، کیا یہ حماس سے اجازت لے کر کیا؟
دنیا کی بدنام ترین دہشت گرد قوم تو امریکی قوم ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا کے غریب اور کمزور قوموں پر اپنی طاقت اور فرعونیت کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ یہی وہ بد ترین قوم ہے جس کو جاپان کے معصوم عوام پر ایٹمی حملہ کر کے بچوں اور عورتوں کو ہلاک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ طالبان، القاعدہ اور دنیا کے تمام دہشت گرد گروپ امریکیوں کے سامنے بچے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ کابل میں حالیہ حملہ امریکہ ہی نے اپنے لے پالک دہشت گردوں کے ذریعے کروایا ہے، جس طرح امریکہ نے 9/11 کے حملوں کا ڈرامہ رچا کر افغانستان میں اپنی دہشت گرد کار روائیوں کا جواز تلاش کیا۔ حالیہ حملوں کے ذریعے امریکہ افغانستان میں اپنا منحوس وجود مزید لمبے عرصے تک کے لیے قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہو گیا تو امریکہ کے پاس یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بچے گا۔ تبھی امریکہ اپنے پالے ہوئے غنڈوں اور بدمعاشوں کے ذریعے دہشت گردی کرواتا رہتا ہے اور اس کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالتا رہتا ہے۔**[/RIGHT]