کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

**

https://s14.postimg.org/yi7sz6d81/26815240_1691095850950566_9207144800929216805_n_1.jpg

**

افغانستان – عام شہری ايک بار پھر نشانہ – دہشت گردوں کی بزدلی عياں

افغانستان کے شہر کابل ميں نہتے شہريوں پر ايک اور دانستہ حملہ جس کا واحد مقصد زيادہ سے زيادہ بے گناہوں کو ہلاک کرنا تھا۔ حملے ميں 22 شہری ہلاک ہوۓ۔ دہشت گردوں نے چودہ گھنٹے تک شہريوں کو يرغمال بناۓ رکھا جس دوران درجنوں شہری شديد زخمی بھی ہوۓ۔

قريب 150 شہريوں کو محفوظ مقام تک پہنچايا گيا جن ميں 41 غير ملکی شہری بھی شامل تھے۔

ہلاک ہونے والوں ميں امريکی شہريوں کے علاوہ، يوکرائن کے چھ شہری، وينزيليا کے دو کپتان، کازگستان کا ايک شہری اور ايک شہری جرمنی کا بھی شامل تھا۔

سال 2011 ميں بھی اسی ہوٹل کو دہشت گردی کا نشانہ بنايا گيا جس کے نتيجے ميں 21 شہری ہلاک ہوۓ تھے۔

طالبان نے انتہائ ڈھٹائ کے ساتھ اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، باوجود اس کے کہ ان کی جانب سے بارہا يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ وہ نہتے شہريوں پر حملے نہيں کرتے ہيں۔

بچوں سميت مقامی افغان شہريوں کی تصاوير ديکھنے کے باوجود کوئ بھی اس دليل پر کيسے قائل ہو سکتا ہے کہ طالبان کے حملے ميں شہريوں کو نشانہ نہيں بنايا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے يہ لغو دعوی کہ وہ صرف عسکری عمارات کو نشانہ بناتے ہيں اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ اس حملے کے بعد درجنوں عام شہری ہلاک ہوۓ اور سينکڑوں زخمی ہوۓ۔

حملے کی سنگينی اور بے شمار ہلاکتوں سے واضح ہے کہ حملے کا مقصد کسی مخصوص عسکری مقام يا چند افراد کو ٹارگٹ کرنا نہيں بلکہ دانستہ زيادہ سے زيادہ عام شہريوں کو ہلاک کرنا تھا تا کہ دہشت اور بربريت پر مبنی اپنی مہم کو وسعت دی جا سکے۔

مسلح طالبان تواتر کے ساتھ يہ دعوی کرتے ہيں کہ وہ کسی بھی طور عام افغان شہريوں کو محفوظ کرنے کی سعی کر رہے ہيں۔ يہ دليل اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ ايک عشرے سے زائد عرصے پر محيط ان کے مظالم اور طريقہ کار سے واضح ہے کہ ان کی تمام تر توجہ اسی بات پر رہی ہے کہ خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور عوامی مقامات، عمارات اور اہم شہری اثاثوں کی بربادی جيسی کاروائيوں کو بطور جنگی حکمت عملی کے استعمال کيا جاۓ۔

يہ بات حيران کن ہے کہ بعض راۓ دہندگان ابھی تک سرحد کے دونوں جانب طالبان اور دہشت گردوں کی کاروائيوں اور ان کے مجموعی رويے کے حوالے سے تذبذب اور ابہام کا شکار ہيں اور اس پر بحث کرتے رہتے ہيں۔ بدقسمتی سے يہ دہشت گرد اپنے طرزعمل کے ضمن ميں ايسے کسی مخمصے کا شکار نہيں ہيں۔ يہ اپنی مخصوص سوچ اور نظريے پر کامل اور پختہ يقین رکھتے ہیں۔ يہ اپنے آپريشنز کی تکميل ميں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہيں کرتے اور بے گناہ انسانوں کے خلاف جاری دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھنے ميں انھيں کوئ پيشمانی نہيں ہے۔

جو راۓ دہندگان دہشت گرد کے ہر واقعے کے بعد بال کی کھال اتارنے لگتے ہيں اور محض بحث در بحث کو بنياد بنا کر دہشت گردوں کی کاروائيوں کے حوالے سے شکوک اور شبہے کا اظہار کرتے ہیں انھيں چاہيے کہ وہ مجموعی صورت حال اور زمين پر موجود حقائق کا جائزہ لیں اور اس حقیقت کا ادراک کريں کہ بے گناہ شہريوں، عورتوں اور بچوں کی حفاظت ان کے لائحہ عمل کا حصہ نہيں ہے۔ اس کے برعکس وہ انسانی جانوں کے ضياع کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہيں تا کہ ان تصاوير کے ذريعے اپنی خونی سوچ کا پرچار کريں اور اپنی صفوں ميں مزيد افراد کو شامل کريں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

**عام لوگوں کو امریکی ماریں تو خیر ہے، دوسرے ماریں تو گناہ کیسے ہوا؟

افغانستان، عراق، شام، دنیا کا کون سا ملک ہے جہاں امریکیوں نے اپنی حیوانیت اور شیطانیت کے غلیظ مظاہرے نہیں کیے۔ ہوائی حملوں میں ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ اور چلے ہیں شرافت کا درس دینے۔ ذرا آئینے میں اپنی مکروہ صورت بھی ملاحظہ کر لیں۔ افغانستان میں سکون اور امن آجائے گا اگر امریکی یہاں سے دفع ہو جائیں۔**

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

Most of the civilians killed in the incident were American and European civilians.

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کيا آپ امريکہ کی نفرت ميں اتنے اندھے ہو چکے ہيں کہ بزدل مجرموں کے ايک گروہ کی جانب سے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ ايک گنجان عوامی مقام پر زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کيے جانے والے دہشت گرد حملے کا موازنہ افغانستان ميں اقوام متحدہ کی اجازت سے دنيا کے بدنام ترين دہشت گردوں کے خلاف جاری مشترکہ فوجی کاروائ سے کر رہے ہیں؟

تنازعے کی نوعيت سے قطع نظر دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر امريکی حکومت کو سياسی، سفارتی اور فوجی نقطہ نظر سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔ علاوہ ازيں، اگر يہی حقيقت ہوتی تو افغانستان ميں ہميں دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک سميت پوری عالمی برادری کی حمايت حاصل نہيں ہوتی۔

اس کے برعکس دہشت گرد تنظيميں تو اپنی بنيادی تعريف کے عين مطابق اپنی حيثيت کو برقرار رکھنے اور اپنی مرضی کو طاقت کے بل پر مسلط کرنے کے ليے تشدد پر مبنی کاروائيوں پر ہی انحصار کرتی ہيں۔ ان کی تمام تر حکمت عملی نہتے شہريوں کو نشانہ بنا کر اپنے حملوں کی “افاديت” کو بڑھانے اور افراتفری کی فضا پيدا کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]

**ہیں۔۔۔۔ یہ میں کیا پڑھ رہا ہوں بھائی؟ امریکیوں کو اقوام متحدہ کی اجازت کب سے درکار ہوئی؟
امریکہ نے تو دنیا بھر میں کسی کی اجازت لیے بغیر بد معاشی اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ عراق میں کس کی اجازت سے گئے تھے؟ شام میں جو خباثت مچائی ہے اس کی اجازت یقیناً اپنے آقا ابلیس مردود سے مانگی ہو گی؟
اور یہ جو یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کیا ہے، کیا یہ حماس سے اجازت لے کر کیا؟

دنیا کی بدنام ترین دہشت گرد قوم تو امریکی قوم ہے جو کئی دہائیوں سے دنیا کے غریب اور کمزور قوموں پر اپنی طاقت اور فرعونیت کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ یہی وہ بد ترین قوم ہے جس کو جاپان کے معصوم عوام پر ایٹمی حملہ کر کے بچوں اور عورتوں کو ہلاک کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ طالبان، القاعدہ اور دنیا کے تمام دہشت گرد گروپ امریکیوں کے سامنے بچے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ کابل میں حالیہ حملہ امریکہ ہی نے اپنے لے پالک دہشت گردوں کے ذریعے کروایا ہے، جس طرح امریکہ نے 9/11 کے حملوں کا ڈرامہ رچا کر افغانستان میں اپنی دہشت گرد کار روائیوں کا جواز تلاش کیا۔ حالیہ حملوں کے ذریعے امریکہ افغانستان میں اپنا منحوس وجود مزید لمبے عرصے تک کے لیے قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اگر افغانستان میں امن قائم ہو گیا تو امریکہ کے پاس یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بچے گا۔ تبھی امریکہ اپنے پالے ہوئے غنڈوں اور بدمعاشوں کے ذریعے دہشت گردی کرواتا رہتا ہے اور اس کو دوسروں کے کھاتے میں ڈالتا رہتا ہے۔**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

آپ نے امريکہ کے عالمی کردار کو بيان کرنے کے ليے جو راۓ پيش کی ہے، وہ اس صورت ميں قابل فہم ہوتی اگر امريکی حکومت عالمی تنازعات کو حل کرنے کے ليے صرف طاقت کے استعمال اور اسلحے پر ہی انحصار کر رہی ہوتی۔

حقائق اس سے قطعی مختلف ہيں۔

چاہے، عراق ہو، افغانستان يا شام – امريکی حکومت کی مدد اور “مداخلت” کا بڑا حصہ اس امداد اور تعاون پر مبنی ہے جو عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانے، شہريوں کو زندگی کی بنيادی سہولتيں فراہم کرنے اور تعمير وترقی کی مد ميں مقامی حکومتوں اور علاقائ شراکت داروں کو ديا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر عراق کے شہر موصل ميں جاری فوجی کاروائ کے ضمن ميں امريکی کردار کا اگر آپ جائزہ ليں تو آپ پر واضح ہو گا کہ امريکی مدد صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر فضائ بمباری تک ہی محدود نہيں ہے۔

امريکی حکومت عراق ميں مقامی حکومت کے ساتھ مل کر داعش کے مظالم کے زير عتاب عام شہريوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے ليے پرعزم ہے۔ ابھی تک امريکہ کی جانب سے عراق ميں انسانی بنيادوں پر ايک اعشاريہ ايک بلين ڈالرز کی مدد فراہم کی جا چکی ہے۔ حال ہی ميں، خاص طور پر موصل کے مکينوں کے ليے امريکہ کی جانب سے 150 ملين ڈالرز کی امداد مختص کی گئ ہے۔

ايک غير جانب دار اور منصفانہ تجزيے کے ليے خطے کے مختلف عرب ممالک ميں انسانی بنيادوں پر امريکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی امداد اور اس کی تفصيل پر ايک نظر ڈاليں تو آپ يہ ماننے پر مجبور ہو جائيں گے کہ امريکہ محض اپنے “نيزے” سے اس خون ريزی ميں اضافہ نہيں کر رہا جو عالمی دہشت گردی کی مرہون منت ہے۔

اور جہاں تک عالمی دہشت گردی کے خاتمے کے ليے امريکہ کی جانب سے فوجی صلاحیتوں اور وسائل کے استعمال کا تعلق ہے تو يقينی طور پر آپ امريکہ کو اس بنياد پر ہدف تنقید نہيں بنا سکتے کہ ہم مقامی حکومتوں اور علاقائ فريقين کو مدد فراہم کر رہے ہيں تا کہ وہ دہشت گردوں کے ان محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے ميں اپنا کردار ادا کريں جو دہشت گردی اور خون ريزی کا اصل سبب ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ستمبر11 2001 کو ورلڈ ٹريڈ سينٹر پر حملہ القائدہ اور اسامہ بن لادن کی جانب سے امريکہ پر پہلا حملہ نہيں تھا بلکہ اس سے پہلے دس سالہ تاريخ ہے جس ميں اسامہ بن لادن اور ان کی تنظيم کی جانب سے دنيا بھر ميں امريکی سفارت کاروں اور عمارات پر حملے کيے جا رہے تھے۔ اسامہ بن لادن کی جانب سے امريکہ کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کيا چا چکا تھا۔ افغانستان ميں بے شمار ٹرينيگ کيمپ قائم کيے جا چکے تھے جہاں دنيا بھر سے نوجوانوں کو اکٹھا کر کے انہيں دہشت گردی کی تربيت دی جا رہی تھی۔ دنيا کے بے شمار ممالک ميں القائدہ کے خفيہ سيل دہشت گردی کی مزيد کاروائيوں کے ليے تيار کيے جا رہے تھے۔

ميرا آپ سے سوال ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے واقعے کے بعد امريکہ کو کيا کرنا چاہيے تھا؟ کيا اسامہ بن لادن کو مذاکرات کی ميز پر بلوا کر ان کے مطالبات سنے جاتے اور ان پر بحث کے ليے کميٹياں تشکيل دی جاتيں۔ اگر تھوڑی دير کے ليے يہ غير منطقی بات مان بھی لی جاۓ تو اس کا نتيجہ کيا نکلتا؟

کيا اسامہ بن لادن کو افغانستان ميں کھلی چھٹی دے کر القائدہ کو مزيد فعال کرنے کے مواقع دينا “عالمی امن” کے ليے درست فيصلہ ہوتا؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

آپ شايد بھول رہے ہيں کہ ہزاروں امريکی فوجی ابھی بھی افغانستان ميں موجود ہيں، اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد ميں نيٹو کے فوجی بھی مقامی اداروں اور فورسز کے ساتھ مل کر نا صرف يہ کہ عام شہريوں کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہيں
بلکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کی کوششوں کا بھی حصہ ہيں۔

کس قسم کے علاقائ مفادات اور اہداف امريکہ کو اس بات کے ليے مجبور يا قائل کر سکتے ہيں کہ وہ دانستہ اور داعش کے دہشت گردوں کی حقيقت کو جانتے ہوۓ اپنے اور اپنے اتحادیوں کی فوجوں کو خطرات ميں ڈالتے ہوۓ داعش کے جنگجوؤں کو افغانستان ميں داخل کرے گا يا انھيں کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا؟

علاوہ ازيں گزشتہ چند ماہ کے دوران داعش کی جانب سے افغانستان ميں کی گئ دہشت گرد کاروائيوں پر ايک نظر ڈاليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ اس تنظيم کے زيادہ تر حملے امريکی املاک يا امريکہ سے منسلک مختلف تنطيموں يا اداروں پر ہی کيے گۓ ہيں۔ ان ميں ريڈ کراس کے نمايندوں پر حملے کے علاوہ امريکی سفارت خانے اور ديگر ممالک کے سفارت خانوں پر حملے بھی شامل ہيں۔ ان حملوں سے متعلق چند شہ سرخياں پيش ہيں۔

Kabul blast: Car bomb kills 8 people near US Embassy - CNN

Afghanistan: 6 Red Cross workers killed - CNN

يقينی طور پر افغانستان ميں ہمارے اپنے فوجيوں، سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں پر حملے ايسی کاروائیاں نہيں ہيں جن سے ہمارے کسی بھی مبينہ ہدف کے حصول ميں مدد مل سکتی ہے۔

اور جو راۓ دہندگان عقل ودانش کے تمام اصولوں کو بالاۓ طاق رکھ کر اب بھی افغانستان ميں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ہماری کاروائيوں کی حقيقت کو تسليم کرنے سے انکاری ہيں، انھيں چاہيے کہ افغنستان کے پہاڑوں ميں داعش کے محفوظ ٹھکانوں پر حاليہ بڑے امريکی حملے کی تفصيل پڑھ ليں جو کئ روز تک تمام دنيا ميں سرفہرست خبر تھی۔

First on CNN: US drops largest non-nuclear bomb in Afghanistan - CNNPolitics

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

نومبر 8 2002 کو اقوام متحدہ نے قرارداد نمبر 1441 منظور کی تھی جس ميں صدام حسين کو عالمی برادری سے تعاون کرنے کا آخری موقع فراہم کيا گيا تھا۔ اس قرارداد کے مطابق

“اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل نے يہ متفقہ فيصلہ کيا ہے کہ عراقی حکومت پر يہ لازم ہے کہ وہ يو- اين -ایم- او- وی – آئ – سی اور آئ – اے – ای – اے کے ساتھ فوری، غير مشروط اور بغير کسی رکاوٹ کے مکمل تعاون کرے۔ اس تعاون کے دائرہ کار ميں آئ – اے – ای – اے کو زير زمين علاقوں، مختلف عمارات، ريکارڈز کی پڑتال سميت مختلف ماہرين سے سوالات کی اجازت شامل ہے۔ آئ – اے – ای – اے پر يہ لازم ہے کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کے 45 دن کے اندر اپنی کاروائ کا آغاز کرے اور 60 دنوں کے اندر سيکورٹی کونسل کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے۔”

يہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس قرارداد ميں سيکورٹی کونسل نے عراق پر يہ واضح کر ديا تھا کہ عراق کی جانب سے عدم تعاون کی صورت ميں عراق کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

SECURITY COUNCIL RESOLUTIONS - 2002

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

بعض راۓ دہندگان کی راۓ کے برعکس، امريکی حکومت بے دريخ عام شامی شہريوں پر بم گرانے کے مشن پر ہرگز نہيں ہے۔ ہم ان جاری عالمی کاوشوں کا حصہ ہيں جو شام کی عام عوام کو داعش کے مظالم اور اسد حکومت کی بربريت سے محفوظ رکھنے کے ليے کی جا رہی ہيں۔

سينٹ کام کی جانب سے امريکی فضائ بمباری کی مہم کے حوالے سے تفصيلات بھی جاری کی جاتی ہيں۔ اس ضمن ميں ويب لنک پيش ہے۔

June 28: Military airstrikes continue against ISIS terrorists in Syria and Iraq > U.S. Central Command > Press Release View

شام ميں جاری عالمی کاوشوں ميں ايک شراکت دار کے طور پر ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہيں کہ فوجی کاروائيوں کے دوران شہری زندگيوں کو محفوظ رکھنے کے ليے تمام ممکنہ اقدامات کيے جائيں۔

تاہم کسی بھی دوسرے عسکری معرکے کی طرح کچھ مواقع ايسے ضرور آتے ہيں جہاں شہری زندگيوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ليکن يہ حقيقت ان الزامات سے قطعی مختلف ہے جس کے مطابق امريکہ بغير کسی وجہ کہ ہزاروں شہريوں کو نشانہ بنانے کی مہم پر ہے۔

علاوہ ازيں عالمی قوانين اور فوجی معرکوں کے ضمن ميں ہمارے اپنے احتسابی نظام کے عين مطابق سينٹ کام کی جانب سے شہری ہلاکتوں کی صورت ميں باقاعدہ ايک رپورٹ کا اجراء کيا جاتا ہے جس ميں تمام زمینی اور فضائ حملوں کی تفصيل فراہم کی جاتی ہے۔
يقينی طور پر ہم ان قواعد کی پابندی ہرگز نہيں کر رہے ہوتے اگر ہم شام ميں جاری فضائ حملوں کے حوالے سے حقائق کو پوشيدہ رکھنے کے خواہش مند ہوتے۔

سينٹ کام کے ترجمان نے حال ہی ميں يہ وضاحت کی ہے کہ گزشتہ تين برسوں کے دوران جو اکيس ہزار سے زائد فضائ حملے کيے گۓ ہيں ان ميں ايک فيصد سے بھی کم حملوں ميں شہری ہلاکتيں ہوئ ہيں۔

ان اکا دکا واقعات ميں بھی اکثر ايسے ہيں جہاں فضائ حملے کے شروع ہونے کے دوران شہری زير ہدف علاقے ميں داخل ہو گۓ۔
ان تمام واقعات کے ضمن ميں مکمل تحقيقات کی گئ کہ آيا تمام تر احتياطی تدابير اختيار کی گئ تھيں کہ نہيں اور ہدف کو نشانہ بنانے سے قبل عسکری معرکوں کے حوالے سے تمام تر قواعد کی پابندی ہوئ تھی کہ نہيں۔

اگر آپ ہماری کاوشوں کا موازنہ داعش کی خونی مہم اور اسد حکومت کی بربريت سے کريں تو کوئ بھی غير جانب سوچ شخص يہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گا کہ شام ميں عام شہريوں پر مظالم کے ليے امريکی حکومت کو ذمہ دار قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکی وزير خارجہ ريکس ٹلرسن کا بيان

**

https://s17.postimg.org/5neyl88cf/24774717_1645686075491544_8489646329278009076_n.jpg

**

امریکہ دونوں مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے پر پختہ یقین رکھتا ہے اور یہ امر مقدس مقامات کے اطرف کے ممالک کے جائز کردار کو بھی تسلیم کرتا ہے۔

اگر فریقین دو ریاستی حل پر رضامندی کیلئے تیار ہیں تو امریکہ بھی اس کا حمایتی ہے۔ امریکی حکومت یروشلم کی حتمی حیثیت کے تعین کا معاملہ دونوں فریقین پر چھوڑتی ہے کہ وہ اسے مذاکرات کے ذریعے طے کر سکتے ہیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

Where do you go to write this atrocious urdu font? I wanna try too.. :smiley:

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ہيروشيما ناگاساکی – امريکی موقف

يہ امر خاصہ دلچسپ ہے کہ کچھ تجزيہ نگار دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کی منطق کو چيلنج کرنے کے ليے ان تنازعات اور جنگوں کے حوالے استعمال کرتے ہيں جو کئ دہائيوں پرانے ہيں اور جن کا دہشت گردی کے موجودہ عالمی ايشو کے ساتھ نہ کوئ تعلق بنتا ہے اور نہ ہی ان کا کوئ باہمی ربط ہے۔ يہ کوئ حيران کن بات نہيں ہے کہ يہ راۓ دہندگان بآسانی ان درجنوں خود کش حملوں اور بم دھماکوں کو نظرانداز کر ديتے ہيں جن کے نتيجے ميں سينکڑوں کی تعداد ميں بے گناہ شہری سکولوں، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹس اور بازاروں ميں لقمہ اجل بن رہے ہيں۔ جس وقت يہ “ماہرين” اور تجزيہ نگار ان برسوں پرانی جنگوں کے حوالے دے کر ايک محض علمی سطح کی بحث ميں مصروف ہيں اور يہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہيں کہ برسوں پہلے کيا ہونا چاہيے تھا، اسی دوران دہشت گرد آج کے موجودہ دور ميں بے گناہوں کے خون سے اپنی تاريخ رقم کرنے ميں مصروف ہيں۔

جہاں تک ايک ايسی جنگ کے حوالے سے امريکہ پر تنقيد کا سوال ہے جو کم و بيش سات دہائيوں قبل لڑی گئ تھی تو اس ضمن ميں مفصل تجزيے کے ليے يکطرفہ جملہ بازی کی بجاۓ واقعات کے تسلسل اور درست تناظر کا غير جانب دارانہ مطالعہ ضروری ہے۔

کيا آپ سمجھتے ہيں کہ پاکستان پر اس بنياد پر يک طرفہ تنقید درست قرار دی جا سکتی ہے کہ يہ ملک 50 سالوں ميں 4 جنگوں ميں ملوث رہا ہے جبکہ اس تنقيد کے ضمن ميں ان پرانے تنازعوں، اس وقت کے سياسی حالات يا فوجی اور علاقائ حکمت عملی يا واقعات کے اس تسلسل کا سرے سے ذکر ہی نا کيا جاۓ جو ان جنگوں کا سبب بنے؟

آپ يہ اہم نقطہ کيوں نظرانداز کر رہے ہيں کہ جاپان نے بغير اعلان کے امريکہ پر حملہ کيا تھا جس کے نتيجے ميں 2 ہزار سے زائد امريکی جاں بحق ہو گۓ تھے۔ امريکہ اس جنگ ميں اپنے دفاع اور جرمن کی اس فوجی يلغار کو روکنے کے ليے شامل ہوا تھا جس کے نتيجے ميں يورپ پر حملہ اور کئ علاقوں پر براہ راست قبضہ کر ليا گيا تھا۔ جاپان نے بھی ايسٹ ايشيا کے بيشتر علاقے فتح کر کے لوگوں پر غير انسانی مظالم کی انتہا کر دی تھی۔ بلکہ اکثر تاريخ دانوں کے مطابق نازی جرمنی اور جاپان کا جابرانہ تسلط حاليہ انسانی تاريخ کے سياہ ترين باب تھے۔ امريکہ نے اس تاريک دور کے خاتمے ميں فيصلہ کن کردار ادا کيا تھا۔ اگر آپ تاريخی حقائق کا جائزہ ليں تو يہ واضح ہو گا کہ دوسری جنگ عظيم ميں ايٹمی ہتھيار استعمال نا کرنے کی صورت ميں جاپان ميں فوج بھيجی جاتی جس کے نتيجے ميں بڑے پيمانے پر فوجيوں اور شہريوں کی ہلاکت ہوتی جو کافی عرصے تک جاری رہتی۔ ايسی صورت حال ميں ہونے والا انسانی نقصان تاريخی لحاظ سے بے مثال ہوتا۔

آج بھی دوسری جنگ عظيم ميں زندہ بچ جانے والے ايسے لوگ موجود ہيں جو اس بات کی گواہی دے سکتے ہيں کہ امريکہ نے خود اس جنگ ميں شموليت اختيار نہيں کی تھی جس کا آغاز 1939 ميں ہو چکا تھا۔ دسمبر 7 1941 کو ہوائ ميں پرل ہاربر کے مقام پر جاپان کے حملے کے بعد لامحالہ امريکہ کو اس جنگ کا حصہ بننا پڑا۔ اس حملے کے چار روز بعد ہٹلر نے باقاعدہ امريکہ کے خلاف جنگ کا اعلان کيا۔

ايٹمی ہتھيار کا استمعال يقينی طور پر ايک کٹھن فيصلہ تھا ليکن اس وقت کے معروضی حالات کے تناظر ميں بادل نخواستہ يہ مشکل فيصلہ کيا گيا تھا تا کہ اس ممکنہ طويل جنگ کو روکا جا سکے جو جاپان پر زمينی حملے کی صورت ميں تمام فريقين کے ليے عظيم انسانی سانحے کا سبب بنتی۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

**[/RIGHT]

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

What is your “brave” army doing there. Time for you not to do more but at least do something. Admit you have failed miserably in Afghanistan.