کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

Re: کابل ہوٹل - عام شہری ايک بار پھر نشانہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کيا آپ امريکہ کی نفرت ميں اتنے اندھے ہو چکے ہيں کہ بزدل مجرموں کے ايک گروہ کی جانب سے دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ ايک گنجان عوامی مقام پر زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے کيے جانے والے دہشت گرد حملے کا موازنہ افغانستان ميں اقوام متحدہ کی اجازت سے دنيا کے بدنام ترين دہشت گردوں کے خلاف جاری مشترکہ فوجی کاروائ سے کر رہے ہیں؟

تنازعے کی نوعيت سے قطع نظر دانستہ بے گناہ شہريوں کو نشانہ بنا کر امريکی حکومت کو سياسی، سفارتی اور فوجی نقطہ نظر سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا ہے۔ علاوہ ازيں، اگر يہی حقيقت ہوتی تو افغانستان ميں ہميں دنيا کے سرکردہ اسلامی ممالک سميت پوری عالمی برادری کی حمايت حاصل نہيں ہوتی۔

اس کے برعکس دہشت گرد تنظيميں تو اپنی بنيادی تعريف کے عين مطابق اپنی حيثيت کو برقرار رکھنے اور اپنی مرضی کو طاقت کے بل پر مسلط کرنے کے ليے تشدد پر مبنی کاروائيوں پر ہی انحصار کرتی ہيں۔ ان کی تمام تر حکمت عملی نہتے شہريوں کو نشانہ بنا کر اپنے حملوں کی “افاديت” کو بڑھانے اور افراتفری کی فضا پيدا کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]