برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

**

https://s26.postimg.org/u124wfjq1/Pence_on_Burma.jpg

**

“روہنگيا باشندوں کو اس کڑے وقت ميں اميد اور مدد فراہم کريں”

“پرتشدد مناظر اور اس کے متاثرين نے امريکی عوام کے ساتھ ساتھ دنيا بھر ميں مہذب لوگوں کو ہلا کر رکھ ديا ہے”۔
ٹرمپ انتظاميہ کی جانب سے نائب صدر مائيک پينس نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سيکورٹی کونسل کو ميانمار ميں انسانی سانحے پر اقدامات اٹھانے کے ليے زور ديا۔

??? ?? ??? ??? ??? ?? ??? ?? ??? ???:??? ??? | TRT ???](تازہ ترین خبریں، آراء، خبریں، جائزے اور بصری مواد - TRT اُردو)

اکتوبر2016 سے اب تک امريکی حکومت نے پورے خطے ميں ايسی غير محفوظ آباديوں کو انسانی ہمدردی کی مد ميں تريسٹھ ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی ہے جو برما کے اندر اور باہر بے گھر ہو چکی ہيں.

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

Trump intezamia main ager koi hosh kay sath statement deta hia.. to woh Mike Pence hi hia…
baqi tamam choi nisar hian…

Re: برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

Here we go with your false propaganda again. lets look at what happened when ISIS attacked Yazdi people, the world was rightly shocked and US went into action to protect and rescue them, why not with Rohyinga people. Difference is that Rohyinga people are muslims.

Now you can have your usual three page justification with links but the bottom line is that the whole world has seen when it comes to muslims yor govt turns a blind eye.

Re: برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

insay complain karnya ka koi faida nahi hia…

40 mulkon ki fooj kay sarbarah say kahaiey…

Re: برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

**

https://s26.postimg.org/6lot4tpcp/DKRXd9_IUIAAro_YN.jpg

**
برما کے رخائن صوبے ميں بحران کے ردعمل ميں امريکہ کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنياد پر امداد کی فراہمی
برما کے رخائن صوبے سے تشدد کے نتيجے ميں بنگلہ ديش نقل مکانی کرنے والے روہنگيا باشندوں کی مدد کے ليے امريکی حکومت اضافی 32 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کر رہی ہے۔ رخائن صوبے کے اندر بے گھر ہونے والے اور بنگلہ ديش ميں متاثرہ مقامی مکينوں
کے ليے بھی امداد کا بندوبست کيا جا رہا ہے۔

حاليہ امداد کی فراہمی کے بعد سال 2017 کے ليے خطے ميں برما سے ہجرت کرنے والے پناہ گزينوں اور برما کے اندر بے گھر ہونے والوں کے ليے کل امريکی امداد 95 ملين ڈالرز تک پہنچ گئ ہے۔ يہ ہنگامی اقدامات روہنگيا باشندوں کی فوری انسانی ضروريات اور بے پناہ تکاليف سے ازالے کے ليے امريکی مصمم ارادے اور عزم کے آئينہ دار ہيں۔

اس امريکی امداد کے ذريعے امريکہ بنگلہ ديش اور برما ميں قريب چار لاکھ پناہ گزينوں کو ہنگامی بنيادوں پر خيمے، خوراک، طبی سہوليات، نفسياتی مدد، پانی، صفائ کے انتظامات اور خاندانوں کے درميان رابطوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ہنگامی صورت حال سے نبردآزما ہونے اور ضروريات زندگی کی ديگر بنيادی سہولتيں فراہم کر رہا ہے۔

امريکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد خطے ميں متحرک اقوام متحدہ کی مختلف تنظيموں، عالمی اداروں اور غير حکومتی گروہوں کو تعاون فراہم کرنے ميں بھی معاون ثابت ہو گی۔ امريکی حکومت نے تمام فريقین سے مطالبہ کیا ہے کہ برما کے رخائن صوبے ميں لوگوں سے امداد کی مکمل ترسيل کو يقينی بنائيں۔ علاوہ ازيں امريکہ نے ديگر ممالک اور اداروں پر بھی زور ديا ہے کہ بحران سے متاثر ہونے والے عام شہريوں کے ليے انسانی ہمدردی کی بنياد پر مدد فراہم کريں اور اس ضمن ميں اپنا موثر کردار ادا کريں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
**[/RIGHT]

Re: برما ميں انسانيت سوز مظالم – امريکی ردعمل

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

يہ امر قابل افسوس ہے کہ کچھ راۓ دہندگان مسلمانوں کی تکاليف کے ليے امريکہ پر الزام دھر رہے ہيں، باوجود اس کے کہ امريکہ نے بغير کسی مذہبی تفريق کے تشدد اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں ميں عام شہريوں کو ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کرنے کے ليے ہميشہ اپنا کردار ادا کيا ہے۔ ايک جانب تو يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ امريکہ مسلمانوں پرہونے والے ظلم پر خاموش تماشائ بنا رہتا ہے ليکن يہ باور نہيں کروايا جاتا کہ يہ امريکہ ہی تھا جس نے کوسوو اور بوسنیا کے مسلمانوں کو غیر مسلم لوگوں کے مظالم سے بچانے کی کوششيں کيں تھيں

يہ دليل اور سوچ نا صرف يہ کہ غير دانشمندانہ بلکہ ناقابل عمل بھی ہے کہ جب بھی دنيا کے کسی بھی حصے ميں کسی بھی ظالم حکومت يا جابر حکمران کی جانب سے ظلم کيا جاۓ اور عام انسانوں کے خلاف ناانصافی پر مبنی برتاؤ کا کوئ واقعہ پيش آۓ تو امريکی حکومت کو بغير کسی پس و پيش کے اپنی فوجيں ميدان جنگ ميں اتار دينی چاہيے۔

امريکی حکومت کے پاس نا تو اس قسم کے وسائل ہيں اور نا ہی ہميں اقوام متحدہ کی جانب سے کوئ ايسا جامع مينڈيٹ ديا گيا ہے کہ ہم دنيا کے تمام تنازعوں کے فوجی حل کے ليے وسائل فراہم کر سکتے ہيں۔

جيسا کہ ميں نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہميں برما ميں جاری نسلی تشدد کے حوالے سے شديد تشويش ہے۔ تاہم دوسرے ممالک کے اقدامات کے ليے امريکہ کو مورد الزام قرار نہيں ديا جا سکتا ہے۔
۔
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]