گيارہ ستمبر کا سانحہ

Re: گيارہ ستمبر کا سانحہ

[RIGHT]**

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو ناکامی سے تعبير کرنے سے پہلے کچھ حقائق کا جائزہ لے ليں۔

سال 2001 ميں افغانستان ميں ہماری فوجی کاروائ سے پہلے ملک ايک ايسی جابرانہ حکومت کے زير تسلط تھا جس نے نا صرف يہ کہ تمام عالمی براداری کے مطالبات کو يکسر نظرانداز کر ديا تھا بلکہ سرکاری سطح پر دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظيم کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے علاوہ انھيں ہر قسم کا تعاون اور مدد بھی فراہم کی تھی۔ ايک ايسی تنظيم جس کا سربراہ دنيا کے تمام اہم شہروں ميں 911 جيسے دہشت گرد حملوں کی دھمکياں دے رہا تھا۔ دنيا بھر ميں دہشت گردی کے خفيہ سيلوں کی موجودگی کے حوالے سے حقيقی خطرات اور خدشات موجود تھے۔

آج اس دہشت گرد تنظيم کی وقعت اور صلاحيت اتنی محدود ہو چکی ہے کہ اس کے بچے کچھے کارندے دنيا کو دھمکياں دينے کی بجاۓ اپنی جانيں بچانے کے ليے بھاگتے پھر رہے ہيں۔ القائدہ کی دو تہائ سے زائد قيادت جو 911 کے وقت دھمکياں جاری کر رہی تھی اور نئ بھرتياں کرنے کے ليے مہم جاری رکھے ہوئ تھی، آج گرفتار يا ہلاک ہو چکی ہے جس ميں دنيا کا سب سے زيادہ مطلوب دہشت گرد اسامہ بن لادن بھی شامل ہے۔

اس تنظيم کی موجودہ قيادت کی جانب سے جو بھی بيانات سامنے آۓ ہيں ان سے بھی يہ واضح ہے کہ يہ تنظيم اب صرف اپنی حيثيت برقرار رکھنے کے ليے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

اگر آپ القائدہ کے نقطہ نظر سے ديکھيں تو يہ حقائق ايسے نہيں ہيں کہ جن کی بنياد پر افغانستان ميں ہماری کاوشوں کو “شکست” قرار ديا جا سکتا ہے۔

افغانستان میں آج لاکھوں افغان ووٹروں کی مرضی سے ايک فعال جمہوری حکومت قائم ہے اور وہاں کے شہريوں نے دہشت گرد تنظيموں کی جانب سے اليکشن کے بائيکاٹ کی اپيل کو يکسر نظرانداز کر کے عام انتخابات ميں بڑھ چڑھ کر حصہ ليا تھا۔

اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ خطے ميں پائيدار امن کو يقینی بنانے کے ليے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور اس ضمن ميں دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ اور پرتشدد انتہا پسندی کا خاتمہ تمام فريقين کے ليے بدستور سب سے بڑا چيلنج ہے۔ تاہم افعان معاشرے نے عمومی طور پر يہ طے کر ليا ہے کہ جس متشدد سوچ نے برسوں سے انھيں عذاب ميں مبتلا کر رکھا ہے، اس کے خلاف اجتماعی طور پر کھڑا ہونا وقت کی اہم ترين ضرورت ہے، اور يہ شعور سب سے بڑی فتح ہے۔

آج ہم اس خطے ميں اپنے ٹيکس دہندگان کے کئ بلين ڈالرز ترقياتی منصوبوں کی مد میں افغانستان اور پاکستان کے عام لوگوں کے معيار زندگی کو بہتر بنانے پر صرف کر رہے ہيں تا کہ صحت، تعليم اور بنيادی ڈھانچے کی بحالی جيسے اہم شعبوں ميں مثبت تبديلی لائ جا سکے۔

افغانستان اور فاٹا ميں جاری ترقياتی منصوبوں کے حوالے سے يو ايس ايڈ کے اعداد وشمار پر سرسری نظر ڈالنے سے ہی خطے کے عوام کے ساتھ ہماری طويل المدت وابستگی اور اس دعوے کی نفی ہو جاتی ہے کہ خطے ميں ہماری موجودگی علاقوں پر قبضے جمانے کی کوشش ہے۔

https://www.usaid.gov/afghanistan

جہاں تک بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کا سوال ہے تو ميں واضح کر دوں کہ سياسی، سفارتی اور فوجی لحاظ سے بے گناہ شہريوں کی ہلاکت سے امريکہ کو کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا۔ امريکی اور اتحادی افواج بے گناہ شہريوں کے تحفظ کو يقینی بنانے کے ليے ہر ممکن قدم اٹھاتی ہيں۔ اس کے برعکس دہشت گردوں دانستہ نا صرف يہ کہ شہريوں کو نشانہ بناتے ہيں بلکہ حکمت عملی کے تحت عوامی مقامات کو ہدف بناتے ہيں تا کہ زيادہ سے زيادہ جانی نقصان کے ذريعے اپنی بربريت اور دہشت کی دھاک بٹھا سکيں

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required**[/RIGHT]