معاملات کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے يہ واضح رہے کہ امريکی تاريخ کی طويل ترين جنگ جو گزشتہ سولہ برس سے جاری ہے، اس پر کل لاگت کا تخمينہ 841 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے اور اگر آپ مستقبل کے اخراجات بھی شامل کريں تو يہ تخمينہ 2 ٹرلين ڈالرز تک پہنچ جاتا ہے۔
علاوہ ازيں سينکڑوں کی تعداد ميں امريکی اور نيٹو کے فوجی بھی اگر آپ ان کاوشوں کے ضمن ميں شامل کر ليں جو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے جاری کاوشوں ميں اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں تو پھر اس دليل کے مضحکہ خيز ہونے ميں کوئ شک نہيں رہ جاتا کہ امريکی اپنے اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر افغانستان ميں کسی ايسے قدرتی وسائل سے مالا مال زخيرے پر قبضے کے ليے يہ کاوشيں کر رہا ہے جو ابھی تک دنيا کی نظروں سے پوشيدہ ہے۔
بعض راۓ دہندگان بدستور يہ دعوی کرتے رہتے ہيں کہ امريکہ افغانستان ميں وسائل پر قبضے کے ليے فوجی کاروائ پر بضد ہے، تاہم وہ اس حقيقت کو تسليم کرنے سے انکاری ہيں کہ امريکی حکومت نے دنيا کے کسی بھی اور ملک سے بڑھ کر وسائل فراہم کيے ہيں تا کہ ان خطرات سے مقابلہ کيا جا سکے جو دہشت گرد تنظيموں سے سب کو لاحق ہيں۔ چاہے وہ انسانی وسائل ہوں، تکنيکی معاونت يا لاجسٹک امداد – دنيا بھر ميں عام انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے کے ليے جاری کاوشوں ميں امریکہ ہميشہ پيش پيش رہا ہے۔
القائدہ، داعش، ٹی ٹی پی يا کسی بھی اور دہشت گرد تنظيم کی سرکردہ قيادت کے ناموں پر نظر ڈاليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ ان کے خلاف کی جانے والی مشترکہ عالمی کاوشوں ميں امريکہ نے ہميشہ کليدی کردار ادا کيا ہے اور ان کو غیر فعال کرنے اور دنيا بھر ميں ان کی دہشت گرد کاروائيوں کو روکنے کے ليے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔
امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے عمومی تاثر اور نظريات کی بنياد پر يک طرفہ سوچ کا اظہار يقينی طور پر سہل ہے۔ اگر امريکہ کی عراق اور افغانستان ميں فوجی مداخلت وسائل اور اہم کاروباری روٹس پر قبضے کی پاليسی کا نتيجہ ہے تو سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ ان “نۓ خزانوں” کے “مثبت” اثرات کيوں منظرعام پر نہيں آۓ؟
کيا آپ ديانت داری کے ساتھ يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ آج امريکہ افغانستان اور عراق سے لوٹے ہوۓ وسائل کی بدولت معاشی ترقی کے عروج پر ہے؟
افغانستان میں داعش کا بچوں کو دہشت گردی کی تربیت دینے کا لرزہ خیز انکشاف۔ خبر کے مطابق داعش نے سینکڑوں بچوں کو کئی ماہ قبل اغوا کیا تھا اب اطلاع آئی ہے کہ اغوا کاروں نے انہیں دہشت گردی کیلئے تربیت دی ہے۔
افغانستان ميں رمضان کے مقدس مہينے ميں علماء پر دہشت گردی کے بزدلانہ حملے سے ايک بار پھر ان مجرموں اور قاتلوں کی حقيقت سب پر آشکار ہو گئ ہے جو اپنی پرتشدد کاروائيوں کے ليے عبادات اور پرہيزگاری کے مہينے کا احترام ملحوظ رکھنے کے ليے بھی تيار نہيں ہيں۔
مختلف مکتبۂ فکر کے اسلامی سکالرز کا بے رحمانہ قتل اس سوچ کو بھی بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے ليے دانستہ مذہبی رہنماؤں کو بھی نشانہ بنانے سے نہيں چوکتے۔
حاليہ حملہ افغان دارالحکومت ميں واقع ايک بڑے کمپاؤنڈ کے صدر دروازے پر کيا گيا ہے جہاں دو ہزار سے زائد علماء کرام اور مذہبی رہنما طالبان اور داعش کی جانب سے جاری ان حملوں پر بات چيت کے ليے اکٹھے ہوۓ تھے جو افغان حکومت کے خلاف کيے جا رہے ہيں۔
افغان علماء کونسل نامی اس گروپ کی جانب سے حملے کے روز ہی ايک فتوی بھی جاری کيا گيا تھا جس ميں واضح کيا گيا تھا کہ افغانستان ميں مزاحمت کے نام پر جاری دہشت گردی کی کوئ مذہبی توجيہہ پيش نہيں کی جا سکتی ہے۔ اس اعلاميے ميں يہ بھی واضح کر ديا گيا کہ طالبان اور داعش کی جانب سے کيے جانے والے خودکش حملے بھی قطعی طور پر حرام اور اسلامی قوانين کی روشنی ميں ممنوع ہيں۔
افغانستان ميں سترہ سال سے جاری جنگ کے دوران يہ پہلا موقع تھا کہ ملک کے سينير اسلامی سکالرز کی جانب سے اجتماعی سطح پر اس قسم کی اپيل کی گئ۔
امریکہ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہے اور ملک میں امن و استحکام کے لیے افغان علما کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم امن، سلامتی اور جمہوریت کے حصول کے لیے افغان عوام کی کوششوں کی حمایت میں پرعزم ہیں۔
جھوٹ در جھوٹ اور تضادات نے داعش کی حقيقت اور ايجنڈے کو بالکل واضح کر ديا۔
تونيزيا سے تعلق رکھنے والا داعش کا ايک جنگجو سيرين ڈيموکريٹک فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور اپنے بيانات ميں اس نے اس بات کا اعتراف کيا کہ اس دہشت گرد تنظيم کی سوچ اور طرز فکر تضادات کا مجموعہ ہے۔ انھی وجوہات کی بنياد پر اس نے تنظيم سے عليحدگی کا فیصلہ کيا۔
يہ ايک ناقابل ترديد حقیقت ہے کہ داعش اور اس کے سرغنہ عام لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے ليے دہشت اور خوف کو استعمال کر رہے ہيں، اور يہ طرز عمل اسلام سميت دنيا کے تمام مذاہب کی بنيادی تعلميات اور اصولوں کے خلاف ہے۔
ايک قابل فہم پيغام کا فقدان اور ان کے تشہيری بيانات ميں تسلسل کے ساتھ پاۓ جانے والے تضادات اس حقيقت کو آشکار کر رہے ہيں کہ سياسی اثر ورسوخ کا حصول اور دھونس کے ذريعے اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنا ہی اس تنظيم کا ہدف اور مقصد ہے۔
دہشت، خوف اور دھونس ان مجرموں کے ترجيحی ہتھيار ہيں اور انسانيت کے خلاف اپنے جرائم کی توجيح کے ليے مذہبی نعروں کا استعمال ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔