داعش کا حقيقی چہرہ

Re: داعش کا حقيقی چہرہ

[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

معاملات کو درست تناظر ميں سمجھنے کے ليے يہ واضح رہے کہ امريکی تاريخ کی طويل ترين جنگ جو گزشتہ سولہ برس سے جاری ہے، اس پر کل لاگت کا تخمينہ 841 بلين ڈالرز لگايا گيا ہے اور اگر آپ مستقبل کے اخراجات بھی شامل کريں تو يہ تخمينہ 2 ٹرلين ڈالرز تک پہنچ جاتا ہے۔

(http://money.cnn.com/2017/08/21/news/economy/war-costs-afghanistan/index.html)

علاوہ ازيں سينکڑوں کی تعداد ميں امريکی اور نيٹو کے فوجی بھی اگر آپ ان کاوشوں کے ضمن ميں شامل کر ليں جو دہشت گردی کے خاتمے کے ليے جاری کاوشوں ميں اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں تو پھر اس دليل کے مضحکہ خيز ہونے ميں کوئ شک نہيں رہ جاتا کہ امريکی اپنے اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر افغانستان ميں کسی ايسے قدرتی وسائل سے مالا مال زخيرے پر قبضے کے ليے يہ کاوشيں کر رہا ہے جو ابھی تک دنيا کی نظروں سے پوشيدہ ہے۔

بعض راۓ دہندگان بدستور يہ دعوی کرتے رہتے ہيں کہ امريکہ افغانستان ميں وسائل پر قبضے کے ليے فوجی کاروائ پر بضد ہے، تاہم وہ اس حقيقت کو تسليم کرنے سے انکاری ہيں کہ امريکی حکومت نے دنيا کے کسی بھی اور ملک سے بڑھ کر وسائل فراہم کيے ہيں تا کہ ان خطرات سے مقابلہ کيا جا سکے جو دہشت گرد تنظيموں سے سب کو لاحق ہيں۔ چاہے وہ انسانی وسائل ہوں، تکنيکی معاونت يا لاجسٹک امداد – دنيا بھر ميں عام انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے کے ليے جاری کاوشوں ميں امریکہ ہميشہ پيش پيش رہا ہے۔

القائدہ، داعش، ٹی ٹی پی يا کسی بھی اور دہشت گرد تنظيم کی سرکردہ قيادت کے ناموں پر نظر ڈاليں تو آپ پر واضح ہو جاۓ گا کہ ان کے خلاف کی جانے والی مشترکہ عالمی کاوشوں ميں امريکہ نے ہميشہ کليدی کردار ادا کيا ہے اور ان کو غیر فعال کرنے اور دنيا بھر ميں ان کی دہشت گرد کاروائيوں کو روکنے کے ليے ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔

امريکہ کی خارجہ پاليسی کے حوالے سے عمومی تاثر اور نظريات کی بنياد پر يک طرفہ سوچ کا اظہار يقينی طور پر سہل ہے۔ اگر امريکہ کی عراق اور افغانستان ميں فوجی مداخلت وسائل اور اہم کاروباری روٹس پر قبضے کی پاليسی کا نتيجہ ہے تو سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ ان “نۓ خزانوں” کے “مثبت” اثرات کيوں منظرعام پر نہيں آۓ؟
کيا آپ ديانت داری کے ساتھ يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ آج امريکہ افغانستان اور عراق سے لوٹے ہوۓ وسائل کی بدولت معاشی ترقی کے عروج پر ہے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

Security Check Required

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/**[/RIGHT]