Re: داعش کا حقيقی چہرہ
[RIGHT]**
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
ميں نہيں سمجھ سکا کہ کس منطق کے تحت آپ يہ مضحکہ خيز دعوی کر رہے ہيں کيونکہ القائدہ اور داعش نے تو ہميشہ اپنے عالمی اہداف اور ارادے واضح کيے ہيں۔ ان تنظيموں نے دنيا بھر ميں سرحدوں کی پروا کيے بغير ہر جگہ حملے کيے ہيں۔ يہ درست ہے کہ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو ان کی اکثر دہشت گرد کاروائياں افغانستان کی حدود کے اندر کی گئ ہيں، تاہم آپ کا دعوی اس ليے غير منطقی ہے کيونکہ افغانستان ميں ايسے کوئ بيش بہا قدرتی وسائل نہيں ہيں جن پر قبضہ جمانے کے ليے درجنوں ممالک نا صرف يہ کہ اپنے فوجی ہزاروں ميل دور ايک ملک ميں بھيج ديں بلکہ اپنی عوام کو بھی دھوکے ميں رکھيں۔
اگر بحث کی حد تک آپ کی دليل درست تصور کر لی جاۓ کہ داعش اور القائد جيسی دہشت گرد تنظيميں اپنی خونی کاروائيوں سے امريکہ کو يہ جواز فراہم کرتی ہيں کہ وہ مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ جما سکيں تو پھر اس بات کی کيا توجيہہ پيش کريں گے کہ داعش نے تو فرانس، بيلجيم، برطانيہ، امريکہ اور ديگر مغربی ممالک ميں بھی تواتر کے ساتھ دہشت گرد کاروائیاں کی ہيں؟
حقيقت يہ ہے کہ آج کے دور ميں کسی بھی ملک کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ دور دراز کے علاقوں کے وسائل پر زبردستی قبضہ کر کے ترقی کے زينے طے کرے۔ يہ سوچ اور پاليسی تاريخی ادوار ميں يقينی طور پر اہم رہی ہے ليکن موجودہ دور ميں ہر ملک کو معاشرتی، سياسی اور معاشی فرنٹ پر جنگ کی قيمت چکانا پڑتی ہے۔ اس تناظر ميں امريکہ سميت کسی بھی ملک کے ليے جنگ کا آپشن پسنديدہ نہيں ہوتا۔
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected]”][email protected]